ہاں شاید یہی آزادی ہے ……

(Ibn-e-Khalid, )

وطن عزیز پاکستان کا ایک اور یوم آزادی آیا چاہتا ہے ۔ حسب سابق اس مرتبہ بھی نوجوان نسل یہ دن منانے کا انتہائی بھونڈا طریقہ اختیار کرے گی ۔ موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر نکال کر پورے شہر کا چکر لگایا جائے گا …… راہگیروں کو ڈانس کرکے دکھایا جائے گا …… ون ویلنگ ہوگی …… لڑکیوں پر آوازیں کسی جائیں گی …… غرض کہ ہر لحاظ سے شریف شہریوں کا جینا حرام کرکے اپنے ’’آزاد‘‘ ہونے کا عملی ثبوت پیش کیا جائے گا …… کیونکہ شاید یہی آزادی ہے ؟؟؟ شکلوں پر عجیب عجیب طرز کے پینٹ کرکے نت نئی شکلیں بنائی جائیں گی اور خدا کی بنائی گئی شکلوں کا حلیہ بگاڑا جائے گا ۔ کیونکہ شاید یہی ہے آزادی …… ؟؟؟ پاکستان کے قومی پرچم کا سبز رنگ مسلمانوں کی واضح اکثریت کی نشاندہی کرتا ہے مگر ہمارے ہاں جھنڈیاں سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیروں پر گری ملتی ہیں…… ہمارے پیروں تلے آتی ہیں اور مسلمانوں کی یہ واضح اکثریت روندی جارہی ہوتی ہے لیکن کسی کو بھی پاک وطن کے پرچم کی حرمت اور اس کے احترام کا احساس نہیں ہوتا کہ کم از کم انہیں اٹھا کر کسی ایسی جگہ پر رکھ دیں کہ جہاں اس مقدس پرچم کی بے حرمتی نہ ہو ۔ کیا یہی آزادی ہے …… ؟؟؟ کیا چھتوں ، گاڑیوں ، سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں پر قومی پرچم لہرا دینے سے اس کا حق ادا ہوجاتا ہے …… کیا اس کے حصول کا مقصد پورا کرنا اور اس کا احترام کرنا کسی پر بھی واجب نہیں ہے …… کیا اسی کا نام آزادی ہے …… ؟؟؟ ہمارے پڑوس میں افغانستان ، عراق ،کشمیر ، فلسطین ، چیچنیا ، خود ہمارے اپنے ہی ملک میں پختونخواہ ، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں نہتے مسلم بھائیوں پر ’’رقص ابلیس‘‘ جاری ہے ۔ دیگر ممالک کی جیلوں میں مسلم قیدیوں کے ساتھ مشق ستم کیا جارہا ہے ۔ان پر ناقابل بیان ظلم و تشدد کیا جارہا ہے ۔ اور ہم ان سے اظہار یکجہتی اور ان کے غم بانٹنے کی بجائے اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں ۔ کیا آزادی اسی کا نام ہے …… ؟؟؟

ہمارا میڈیا بھی اس قدر ’’آزاد‘‘ ہے کہ بے حیائی کی تما م حدوں کو ٹاپ چکا ہے ۔ آج بہن بھائی کے ساتھ اور اولاد اپنے والدین کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر ٹی وی کے کسی بھی چینل کو بلاجھجک نہیں دیکھ سکتے کہ ان کے درمیان شرم کا جو رشتہ کسی حد تک قائم ہے کہیں وہ بھی ختم نہ ہو جائے …… آخر یہ کیسی آزادی ہے …… سیاستدانوں سے لے کر دفتر کے ایک عام کلرک تک نے عوام کو لوٹنا اپنا فرض اولین جان رکھا ہے ۔ سیاستدان کھوکھلی نعرے بازیوں ، عوام کو بیوقوف بنانے ، وطن عزیز کی سیاست کا حلیہ بگاڑے اور جڑوں تک لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں …… آخر یہ آزادی کی کون سی قسم ہے ؟؟؟ یہ کیسی آزادی ہے ۔ پاکستان میں آج اگر آزاد ہیں تو منافع خور آزاد ہیں ۔ ڈاکو ، رہزن ، قبضہ گروپ ، رشوت ، ڈرگ مافیا اور کرپشن کے کھلاڑی آزاد ہیں ، لوٹے اور چمچے آزاد ہیں ، جاگیردار ، زمیندار اور ان کے پالتو غنڈے آزاد ہیں ، اور ایسے آزادہیں کہ کسی بھی شریف اور کمزور خاندان کی خواتین کو برہنہ کرکے پورے گاؤں میں گھما سکتے ہیں …… کسی بھی عورت کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکتے ہیں …… اخلاقی بے راہروی میں ساری قوم آزاد ہے …… تاجر ، ملاوٹ کرنے والے ، جعلی ادویات بنانے والے ، ڈاکٹر ، وکلاء ، بیوپاری ، قصائی ، غرض پورا معاشرہ آزاد ہے ۔ حکمرانوں سے لے کر عوام تک کسی نے بھی آزادی کی قدر و منزلت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی …… آخر یہ کیسی آزادی ہے ۔ کیا آزادی کا اصل مفہوم ، اصل مقصد یہی ہے جو ہم نے اپنا رکھا ہے …… ؟؟؟ آج وطن عزیز کو ایسے لوگوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے جن کا تمام تر مفاد غیروں کے ساتھ ہے ۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ’’ ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ، صرف آزادی حاصل کرلینا ہی کافی نہیں ہے ، اب اس آزادی کی حفاظت بھی کرنا ہوگی کہیں ہمارا دشمن یہ نہ کہہ اٹھے کہ ہم آزادی کے قابل ہی نہیں تھے‘‘ …… لیکن افسوس کہ قائد کے اس فرمان کا پاس رکھنے کی ہم نے کوشش ہی نہیں کی ۔ نتیجتاً ہمارے راہنما ہی راہزن بن گئے ۔ ہماری قیادتوں نے عوام کو محض جانور سمجھے رکھا جہاں ضرورت پڑی ہانک کر لے گئے ۔ کیا ہم اسی آزادی کا جشن منا تے ہیں؟……

ہاں شاید ہم غلام ذہنوں کی یہی آزادی ہے ۔ چلتے چلتے کوئی کسی کی گردن اڑا دے کوئی پوچھنے والا نہیں …… لوٹ مار کرنے ، قتل و غارت اور ظلم و ستم کی آزادی ہے ۔ فحاشی و بے حیائی پھیلانے کی آزادی ہے ۔ مغربی ذہنوں کی پیداوار نے عورت کو بیچ چوراہے پر لاکھڑا کیاہے ۔ یہ بھی آزادی ہی کی ایک قسم ہے ۔ فن و ثقافت کے کلچر کے فروغ کے نام پر کچے ذہنوں کو تعمیری سوچ دینے کی بجائے بے راہروی پر اکسایا جارہا ہے ۔ یہ بھی آزادی ہے ۔ فن کی خدمت کرنے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کیاجارہاہے ، فنکاروں کو ملک کا سرمایہ گردانا جارہا ہے ، جبکہ دین کا نام لینے والوں کو ’’مولوی‘‘ کہہ کر رد کردیا جاتاہے ۔ دینی مدارس کو دہشت گرد بنانے کی اکیڈمی سمجھا جانے لگا ہے ۔ باپردہ عورتوں کو ’’پسماندہ ذہنیت‘‘ کی خواتین گنا جارہا ہے ۔ عورتوں کو گھروں کی زینت بنانے کی بجائے مردوں کے برابر لا کھڑا کیا ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت ’’آزاد‘‘ ہے ۔ کیا اسی آزادی کی خاطر یہ الگ وطن حاصل کیا گیا تھا …… کیا اسی آزادی کی خاطر لاکھوں سر کٹے …… خون کی ندیاں بہائی گئیں …… لاکھوں ماؤں کے جگر گوشے ٹکرے ٹکرے کردیئے گئے ۔ ہزاروں بہنوں کے سہاگ اجڑے …… کتنی ہی دوشیزائیں بے آبرو ہوئیں …… بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا …… کیا اسی آزادی کی خاطر یہ سب کچھ ہوا تھا …… ؟؟؟

مقام افسوس ہے کہ جس عظیم مقصد کے لئے ہم نے یہ وطن عزیز حاصل کیا تھا وہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں ہے ۔ نظریہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں اسی نظریے کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔ یہ نت نئے فلسفے ، نئے نئے فاصلے ، یہ مصنوعی معیار اور جھوٹی بنیادیں ، یہ خود پیدا کردہ دوریاں اور درآمد شدہ نظام تعلیم …… افسوس کہ 70سال گزر جانے کے بعد بھی اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے سراپا سوال ہیں ۔نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ہم مقاصد پاکستان کے حل کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ یہ ثابت کررہی ہے کہ ہم (مقاصد پاکستان اور نظریے کے اعتبار سے ) جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں ۔ اگر ایمانداری سے تجزیہ کیا جائے کہ ہم نے ان 70سالوں میں کیا کھویا اور کیا پایا تو جواب ملے گا صرف کھویا ہی کھویا ہے پایا کچھ بھی نہیں ۔ بلکہ حد تو یہاں تک ہے کہ ہم آج ایک ایٹمی طاقت بن کر بھی سرنگوں ہیں ۔ آزادی حاصل کرنے کے 70سال بعد بھی ہم ’’غلام‘‘ ہیں ۔ ہمارے تعلیمی ادارے ، رسوم و رواج ، ہمارے گھروں اور خود ہمارے اپنے اوپر ، غرض کہ ہر چیز پر ہندو ازم کی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے ۔ کاش کہ ہم نام نہاد مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی راہیں متعین کرسکیں ۔ اور ہمارے دلوں میں حقیقتاً سچے مسلمانوں والا جذبہ پیدا ہوسکے ۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بھی دور گزرے ہیں جس میں اسلام کے سپوتوں نے اپنی کوششیں تاریکی اور جہالت کو مٹانے میں صرف کردیں ۔ محمد رسولؐ اﷲ کے بعد بے شمار صحابہ کرام اور ان کے بعد کے ادوار میں محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد ، اور محمود غزنوی جیسے ہونہار سپوتوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کرکے نئی تواریخ رقم کیں ۔ یہ شاندار ادوار تو گزر گئے ، اب ہم کتنا ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اس کا اندازہ آپ کو مذکورہ مشاہدات سے بخوبی ہوسکتا ہے ۔ آج جہاں بھی نظر دوڑائیں ہمیں قدم قدم پر ظلم و ستم کا شکار لوگ دکھائی دیں گے ۔ انسان کا اپنا وجود خود اپنی ذات سے متصادم ہو چکاہے ۔ افراد افراد سے دست و گریباں ہیں ۔ آج بھی محنت کرنے والوں سے زیادہ محنت نہ کرنے والے عیش کررہے ہیں ۔ آج بھی اس دھرتی پر حق چھیننے والوں کی کمی نہیں ہے ۔ آج بھی ماؤں کے جگر گوشے تاوان کے بدلے اٹھائے جارہے ہیں اور ان کی سسکیاں سننے والا کوئی نہیں ہے ۔آج بھی ماؤں کے لعل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان کا حساب چکانے والا کوئی نہیں ہے ۔ آج بھی ملک کے نوجوان بے راہروی کا شکار ہیں اور ان کا راہبر کوئی نہیں ہے ۔ آج بھی بوڑھے باپ ، بے گناہ بیٹوں کے لاشے دیکھ رہے ہیں ۔ لاٹھیوں کے سہارے چلنے والے آج بھی عدالتوں میں انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں اور آج بھی انہیں دھکے دینے والوں کی کمی نہیں ہے ۔ آج بھی باپ اور بھائیوں کی عزت و آبرو کی لاج رکھنے والی بے آبرو ہورہی ہے اور کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھنے والا اور اسے انصاف فراہم کرنے والا نہیں ہے ۔ وہ وطن جس کی بنیاد ہی مضبوط ’’کل‘‘ پر رکھی گئی تھی آج اس کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے اس کے اپنے ہی سپوت ہیں ۔ تو پھر کس بات کی آزادی کے نعرے لگتے ہیں …… آخر کب تک یہ تماشے چلتے رہیں گے …… کب تک یہ کھیل کھیلے جاتے رہیں گے …… ؟؟؟

آپ ذرا تصور کریں کہ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کتنے خوش ہوئے ہوں گے ۔ یہ ملک مصور پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر تھا ۔ اس کے قیام کے لئے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی ، لاکھوں لوگ شہید ہوئے ، خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں ، لاکھوں خاندان بے گھر ہوئے …… اس کے باوجود وہ خوش تھے ، انہیں ا نکی قربانیوں کا صلہ مل چکا تھا ، انہیں ’’پاکستان‘‘ مل گیا تھا ۔ آج جب ان بزرگوں سے جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا تھا ان سے اس بارے میں پوچھیں تو ان کی آنکھوں سے غم اور خوشی کے آنسو بہہ جاتے ہیں ۔ اور وہ ان آنسوؤں کو آنکھوں سے بہنے والے انمول موتیوں کو خوشی کے آنسو قرار دیتے ہیں ۔ اس وقت تو انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ قیام پاکستان کے 24سال بعد یہ ملک دولخت ہوجائے گا ۔ (اور اب تو بلوچستان کی صورت میں ملک کو مزید دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ بلوچستان کو توڑ کر ایک علیحدہ ملک بنانا اور پاکستان کو ایک اور دھچکا لگانا امریکی ایجنڈے اور اغیار کی پالیسی کا واضح ترین حصہ ہیں ) …… کسی نے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی اس سرزمین پر سے اسلام کو نکالنے کی جسارتیں ہونگی ۔ اور کوئی یہ بھی نہیں جانتا ہوگا کہ اس ملک میں اسلام کا نام لینے والوں کا قافیہ حیات تنگ کردیا جائے گا ۔ 70 برس قبل سب کا مسلک صرف اسلام تھا ۔ آج بیسیووں مسلک بن چکے ہیں اور ہر کوئی دوسرے کو کافر قرار دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ نصف صدی قبل لوگ اسلام اور آزادی کی تلاش میں اس سرزمین کیطرف بڑھے ۔ پاک سرزمین کو چوما ، اس کی خاک کو بدن پر لگایا ، اس کی تعمیر و ترقی ، دفاع ، اور سلامتی و خوشحالی کے ’’وعدے‘‘ کئے گئے …… کیا ہمارے بزرگوں کے خواب پورے ہوگئے …… کیا اس ملک میں اسلام نافذ ہوگیا …… کیا یہاں خوشحالی کی لہریں پھوٹ پڑیں ۔…… کیا یہاں پاک اسلامی سیاست متعارف ہوئی۔ یہاں کا نظام کتنا عادلانہ بنا …… اسلام کے نام پر بنے واحد ملک میں اسلام بیزاروں کی تعداد آخر کیوں بڑھ رہی ہے …… معیشت پر نظر ڈالیں ، کیا یہ بھی تباہ حال نہیں ہے ۔ قرضوں کا اک کوہ ہمالیہ ہے ، جس کے تلے ہم دبے بیٹھے ہیں ۔ لوگ غربت اور مہنگائی سے تنگ آکر اپنے بچوں کا گلا کاٹ رہے ہیں اور خود کشیاں کررہے ہیں …… فی کس آمدنی میں کمی ، اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں آخر کیوں اضافہ ہورہا ہے ۔…… محنت کش و ہنر مند تنگ آکر دوسرے ملکوں میں ’’پناہ‘‘ لے رہے ہیں …… کیااب بھی اپنے گریبان میں جھانکنے اور محاسبے کا وقت نہیں آیا ……؟؟ وہ بھی تو قائدین تھے جنہوں نے شدید ترین مخالفتوں کے باوجود مسلسل جدوجہد کرکے اس ملک کو حاصل کیا اور آج یہ بھی ’’قائدین‘‘ ہیں جو نام نہاد اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے نعرے بلند کرتے نہیں تھکتے ۔ 70برس قبل کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ 21ویں صدی میں اس سرزمین کی مساجد میں سخت پہرے میں نمازیں ادا کی جائیں گی ۔ اس ملک میں اب اسلام کو اس مفہوم میں پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے یہ ناقابل عمل ہو ۔ ہماری عملی زندگی سے اسلامی اقدار غائب ہیں ۔ سیاست ، معیشت ، ملازمت ، حکمرانی ، اور دیگر معاملات میں ہم اسلام کے نام پر من مانی کرتے ہیں ۔ امن و سلامتی کا مفہوم رکھنے والے دین کو دہشت گردی کی علامت بنا دیا گیا ہے ۔ عدل و انصاف کا تصور نظریہ ضرورت میں تبدیل ہوچکا ہے ۔

اگر ہم یونہی بزرگوں کے خواب چکنا چور کرتے رہے اور نت نئی تاویلیں پیش کرتے رہے تو آئندہ نسل سے پرامیدی بے وقوفی ہوگی ۔ اگرچہ نئی نسل سائنسی بنیادوں پر دلائل کی روشنی میں اور حقائق کے تناظرمیں حالات کے تجربات و مشاہدات کا موازنہ کرتی ہے اور یہ بات انتہائی حوصلہ افزاء ہے ۔ تاہم الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بے جا آزادی اور انٹرنیت و کیبل کے غلط استعمال نے ملک و قوم کے معماروں کے دل و وماغ کو ماؤف کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ غرض کہ ہمارے چاروں طرف مایوسیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ آج اتنی قربانیوں اور مشکلوں کے بعد حاصل ہونے والا ملک ناسمجھ ہاتھوں میں آکر کھلونا بن چکا ہے اور اپنا مقصد وجود کھو بیٹھاہے ۔ اب بھی اس ملک کے لوگ اس قدر نادان ہیں کہ اﷲ کی عطا کی ہوئی اس قیمتی نعمت کی قدر نہیں کرتے ۔ جسکا بس چلتا ہے وہ بے اصولی اور بے راہروی کا نیا باب رقم کردیتاہے ۔ آزادی کا جشن منانے والے ذہنی طور پر دوسری قوموں کی غلامی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ پتہ نہیں کس چیز کو یہ لوگ ’’آزادی‘‘ سمجھ رہے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1947ء سے پہلے ظلم کرنے والے غیر قوم اور غیر مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور آج ظلم کرنے والے بھی اسی سرزمین کے باسی ہیں اور ظلم سہنے والے بھی اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ خدا جانے ہم قرآن کے اصولوں پر گامزن ہونے کی بجائے غلط راہیں کیوں اختیار کررہے ہیں ۔ مسلمان اپنی شان کو بھولے جارہے ہیں ۔ امام مالک نے فرمایا تھا کہ ’’اس امت کی صلاح اخیر زمانے میں بھی ویسے ہی ہوگی جیسی ابتداء میں ہوئی تھی ‘‘ جس طرح شاخیں اپنے تنے سے جدا رہ کر زیادہ دیر تک ہری بھری نہیں رہ سکتیں اسی طرح ہم مسلمان بھی اپنی ابدی نظام حیات کو چھوڑ کر دنیا میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ ہماری توقیر ، ہماری تکریم ، اور ہمارا تحفظ جداگانہ تشخص میں ہے ۔ ہماری آن اور شان ہماری پہچان میں ہے ۔ تو پھر ہم کم از کم پہچانے تو جاسکیں ۔ ہم اپنے ہی گھر میں کیوں اجنبی ہوں ۔؟؟؟ یاد رکھیں اپنے گھر میں اجنبی بننے والے خود کو بھی کھو دیتے ہیں اور اپنے گھر کو بھی ۔ گڑھے کے کنارے پہنچ کر تو شعور نہ رکھنے والے بھی رک جاتے ہیں ۔ کیا اب بھی وہ لمحہ نہیں آیا کہ ہم یکسو ہو کر سوچیں کہ ایک قوم ، قومیتوں میں کیوں گھر گئی ہے ؟؟؟ ہمیں اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہے اور ایسا صرف اسی وقت ہی ممکن ہے جب ہم اپنی بکھری ہوئی وحدت کو یکجا کریں اور اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور عالم انسانی کے مسائل کا حل بھی ۔ سائنسی ترقیاں ہم پر ہونے والے ظلم و ستم نہیں روک سکیں گی ، ہمارے ذہنوں سے جہالت دور نہیں کر سکیں گی ، سسکتے ہوؤں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکیں گی …… مگر اس وقت تک جب تک ہم اپنی بنیادیں مضبوط نہیں کر لیتے ، ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ جب تک ہمیں اپنے آغاز و انجام کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ہم اپنے معاشرے پر غالب نہیں آسکتے اور نہ ہی اس تہذیب و تمدن پر کہ جس کی روحانی وحدت اس کی مذہبی اور سیاسی قدروں کے اندرونہ تصادم سے پارہ پارہ ہوچکی ہے ۔

آج اس ملک میں آزادی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کی نظریں دیکھ اور محسوس کررہی ہیں اور اس کی جھلک ہم اوپر بھی دیکھ آئے ہیں ۔ مگر اس کے باوجود 70سال گزرنے کے بعد بھی قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد کو مدنظر رکھ کر اس ملک کی ترقی اور نفاذ اسلام کی ضرورت و خواہش اب بھی ہمارے دلوں میں موجود ہے ۔ اور ہم پرامید ہیں کہ ہم انشااﷲ اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے اور نظریہ پاکستان کا مقصد اور خواب عنقریب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔ …… لیکن کیا ہمارا مذکورہ طرز عمل ان مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے …… ؟؟؟ ضرور سوچئے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibn-e-Khalid

Read More Articles by Ibn-e-Khalid: 40 Articles with 16192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2017 Views: 203

Comments

آپ کی رائے