پیغام آزادی

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

 پاکستانی قوم 14 اگست 2017 ء کو 70 واں یوم آزادی قومی و ملی جذبے کے ساتھ منارہی ہے ۔اس دن 1947 کو جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اسلام کے نام پر ۔برصغیر کی محکوم مسلمان قوم نے اﷲ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اے اﷲ!تو ہمیں ایک ریاست عطاء فرما تاکہ ہم انگریزوں سے غلامی حاصل کرسکیں۔اے اﷲ اگر تو نے ہمیں ریاست عطاء فرمادی تو ہم مسلمان اس سرزمین پر تیرے قرآن کو آئین کی حیثیت سے نافذ کریں گے ۔ہماری زندگی کا ہر گوشہ تیرے حکم سے مزین ہوگا ہمارا سیاسی،معاشی،معاشرتی سماجی نظام زندگی تیرے حبیب ﷺ کی سنت کا امین ہوگا ۔ہم تیرے پیارے حبیب ﷺ کے صحابہ جیسا ایمان اپنے اندر پیدا کرکے اپنی زندگیاں ان کے نقش قدم پرگزاریں گے۔جب برصغیر کے مسلمانوں نے یہ گریہ زاری کی تو قدرت نے انھیں رمضان المبارک کی مقدس رات لیلتہ القدر میں آزادی دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ایسے حالات میں جب ریاست موجود نہیں تھی ہم زمین پر کمزورتھے مگر نظریہ وجود میں آگیا ہمیں یار رکھنا چاہیے کہ اسلامی نظریہ کی بنیاد پر مدینہ منورہ کے بعد پاکستان ایسی ریاست ہے جو نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی ۔جب پاکستان لاکھوں قربانیوں،عصمتوں کو لوٹانے کے بعد معرض وجود میں آگیا تو ہم نے بحیثیت قوم اﷲ سے کئے ہوئے وعدے سے انحراف کردیا ۔اﷲ کے قرآن کو آئین کی بجائے مردے بخشوانے والی کتاب کے طور پر صرف ایصال ثواب کی کتاب کا درجہ دے دیا ۔ریاست کا آئین بعدکے انسانوں نے لکھا جسمیں قرآن کے خلاف کوئی قانون نہ بنانے کا ارادہ تو کرلیا مگر گنگا الٹی بہتی رہی ۔قرآن وسنت کوعملاً بطور سپریم لاء تسلیم نہیں کیا گیا ،حدود اﷲ کے مقابلہ میں انسان ساختہ قوانین رائج کرکے اﷲ کی حاکمیت کو عملاً چیلنج کیا گیا ۔تو اﷲ کی غیرت جلال میں آئی تو ہم بحیثیت قوم ذلت ورسوائی کی پستیوں میں گرتے چلے گئے،جن ظالم انگریزوں سے ہم نے آزادی حاصل کی تھی انہی کی غلامی میں ہم پھر پھنس گئے ،انہی کا نیوورلڈآڈر تسلیم کرلیا (ہم مسلمانوں نے اﷲ سے بغاوت کی،کیونکہ حکم تو صرف اﷲ کا چلتاہے مگر ہم اس کے مقابلے میں حکم کفار کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے) ۔آج صورت حال یہ ہے کہ ہرطرف سے ایٹمی پاکستان سازشوں کی زد میں ہے ۔سرزمین پاکستان پر خود کش حملوں،قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے ،کلمہ گو کلمہ گو کا سر قلم کر کے جنت میں جانے کا دعویٰ کر رہا ہے ۔اس صورت حال کو قرآن مجید نے عذاب الٰہی قرار دیا ہے ،یعنی اﷲ سے وعدہ خلافی کرنے کے باعث ہم پاکستانی مسلمان اﷲ کے عذاب کی زد میں ہیں ۔اس عذاب سے نکلنے کا واحد راستہ اﷲ کی عطاء کردہ سرزمین پاکستان پر اﷲ کا نظام حیات،نظام خلافت قائم ودائم کرنا ہے۔اگر ہم مملکت خداد میں اﷲ کا نظام عدل قسط قائم کر دیتے ہیں تو ہم ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھریں گے کیونکہ اﷲ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہوگی ،ملک سے فرقہ واریت کا ناسور ختم ہوجائے گا حقیقی معنوں میں ایک دو قومی نظریہ کی حامل قوم بن جائیں گے ۔

کرہ ارض کے معروضی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایٹمی پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو عالم اسلام کو ایک اسلامی بلاک (خلافت کی )صورت میں امت واحدہ بنا سکتا ہے ،کیونکہ قدرت نے اسے تمام نعمتیں بدرجۂ اتم عطاء فرمائی ہیں جن میں پہلی ایٹم بم اور دوسری عظیم منظم ترین،باصلاحیت فوج ہے جس نے ہر دور میں کفر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ۔

"اگر موجودہ سیاسی لوگ اپنے پر کرم کرتے ہوئے از خود اصلاحات نافذ نہیں کرتے تو غریب کو روٹی کپڑا اور مکان اور انصاف نہیں دلاتے اس کے بچوں پر تعلیم کے دروازے نہیں کھولتے اور اسلامی تعلیمات فروغ نہیں دیتے تو مختلف وجوہ کی بنیاد پر ستائے ہوئے مظلوم لوگ اپنے اپنے دکھ کی خاطر انقلاب کیلئے نکل آئیں گے تنگ آمد بجنگ آمد پھر مار دھاڑ ہوگی اور "جو نقش کہن نظر آئے مٹا دو" ان کا نفرتوں سے بھرپور کوئی نعرہ اس طرح کا نعرہ ہو"گا ماردو مر جاؤ مٹا دو مٹ جاؤ"اس طرح کے فسادی انقلاب بے انتہا تباہی ساتھ لاتے ہیں ۔گھیراؤ جلاؤ اور مارو کے نتیجے میں سب کچھ ملیا میٹ ہوجاتا ہے اور سب کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں غریب بھی مرتا ہے اور امیر بھی ۔راج ہوتا ہے تو غنڈوں اور بدمعاشوں کا اس صورت حال سے بچنے کیلئے پہلی کوشش تو یہی ہونی چاہیے کہ اس طرح کا فسادی انقلاب نہ آئے اور اس سے بچنے کیلئے استحصالی طبقات خود ہی لوگوں کو ان کے حقوق دے دیں لیکن مجھے پاکستان میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا ۔

اس لئے اسلام پسندوں پر لازمی ہوجاتا ہے کہ انقلاب کو خیرالناس بنانے کیلئے وہ پہلے ہی سے تیاری کریں کہ انقلاب کی رہنمائی ان کے پاس ہو ۔اگر وہ پہلے سے اس کیلئے تیاری نہیں کرتے تو ایسے انقلاب کی بھاگ دوڑ غیراسلامی اور عوام دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آجائے گی مثلاً سیکولر،فسادی اور موجودہ استحصالی طبقات کے ایجنٹ میں مل کر اسے بے نتیجہ بنانے کی کوشش کریں گے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے انقلاب کا نتیجہ بے راہ روی اور تباہی کے سوا کچھ بھی نہ ہو اور پھر سے کوئی طاغوت کرسی پر آکر بیٹھ جائے اور عوام کیلئے شیطان پر راضی ہونے کے بغیر کوئی راستہ ہی نہ رہے ۔

کیا کرنا چاہیے؟یہ فیصلہ آپ کا ہے لیکن طاغوتوں کے خلاف دنیا میں جو لہراٹھی ہے وہ پاکستان کو بھی بہا کر لیجا سکتی ہے۔خدانخواستہ پاکستان جو اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت انفرادی طورپر مضبوط قوت اور قدرتی دولتوں سے مالا مال ملک ہے کہیں(نعوذ باﷲ) تباہ وبرباد نہ ہوجائے ۔اس کی تباہی ساری مسلمہ امہ کی تباہی ہوگی اس سے ہمارے نام نہاد غیر مسلم دوست ممالک سے زیادہ خوش کون ہوگا؟ جنھیں ہمارا ایٹمی قوت بن جانا پہلے ہی سے بہت ناپسند ہے اور پچھلے چالیس سال سے اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔پاکستان آج تم سے کچھ مانگ رہا ہے اپنے لئے نہیں آپ ہی کیلئے ۔خدارا اسے اپنا خلوص دے دو اس بیچارے کی فکر کرو۔" (نیو کلیئر سائنسدان ،انجینئر سلطان بشیر محمود ،ستارہ ٔ امتیاز )

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا وجود عالم اسلام کیلئے روشنی کی ایک کرن ہے ،عالم اسلام کو اپنی گم گشتہ حیثیت کو حاصل کرنے کیلئے میدان میں اترنا ہوگا ۔لیکن سب سے پہلے پاکستان کو قدم اٹھانا ہوگا۔اگر پاکستان یہ اقدام نہیں اٹھاتاتو خسارہ سب مسلمانوں کو ہوگا کیونکہ عالم کفر مسلمانوں کی آپس کی دوری کے باعث انھیں ایک دوسرے کے خلاف ٹشو پیپر کی طرح استعما ل کر رہا ہے،اگر عالم اسلام امت واحدہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پاکستان ہی نہیں سارا عالم اسلام کفر کی ناپاک سازشوں کی زد سے نجات حاصل کرلے گا ،اس طرح مسلمانوں کی دفاعی،سیاسی،ایٹمی، معاشی،سماجی ،فوجی الغرض تمام قوتیں ایک امیر کے تحت مجتمع ہو جائیں گیں ،جب ہم ایک مٹھی بن جائیں گے تو اپنے وسائل خود استعمال کر کے کفر کو عبرت ناک شکست دینے کے قابل ہو جائیں گے ،ہمارے ہاں کافر نوکری کرنے آئیں نا کہ ہمارے نوجوان ۔متحدہ اسلامی فوج مسلمانوں کی عزت وناموس کا دفاع کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی پھر کسی کفریہ طاقت کو کسی مسلمان کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھنے کی جسارت نہیں ہوگی ۔یہ سب کچھ تب ہوگا جب ہم پاکستانی مسلمان ایک قوم بن کر میدان میں اتریں گے اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کیلئے یک نکاتی ایجنڈے (قیام اسلامی نظام) پر کام کریں گے تو۔ ابھی تک ہم نے ہوش ہی نہیں سنبھالا ،ابھی تک ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہو سکا ہم نے ترجیحی بنیادوں پر کیا کرنا ہے جذیات کو پورا کرنے میں مصروف ہیں کل کی فکر نہیں ۔

اے میری قوم !14 اگست کا دن تمہارے لئے عزم نو کا دن ہے آئیے عزم کریں کہ پاکستان کو ایک طاقتور اسلامی ریاست بنانے کیلئے ہم کسی کی سازش کا شکار نہیں ہوں گے ،کسی کے آلہ ٔ کار نہیں بنیں گے ،قرآن وسنت کو اپنا وڑھنا بچھونا بنائیں گے۔٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159440 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2017 Views: 352

Comments

آپ کی رائے