اشتہارات اور ان کے معاشرے پر اثرات

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: حوریہ ایمان ملک
ماما نے کی میری پوری تیاری ۔۔۔ ڈیٹول سوپ ۔۔ ٹی وی پر چلنے والے اشتہار کے بیک گراؤنڈ میوزک (Gingle) نے مجھے متوجہ کیا ۔ ڈیٹول سوپ کے اس اشتہار میں ایک پریگننٹ عورت اپنے بڑے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے نئے آنے والے بچے کی چیزیں ڈیٹول سے دھلوا رہی ۔ نئے آنے والے بچے کی اشیاء جن میں کپڑے شامل ہیں شوہر سے دھلوارہی ۔ اس اشتہار کو کوئی بھی شریف والدین اپنے بچوں کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے اور اس اشتہار سے بچوں کے معصوم ذہن الجھ جاتے۔ ایسے اشتہارات کے ہمارے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس بات سے بالاتر ایڈورٹائزنگ کمپنیاں اپنے برانڈ کے فروغ کے لیے نت نئے اشتہارات بناتی ہیں ۔ پروڈکٹس کی سیل میں اضافے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی کہ اشتہارات میں جدت ہو اور ناظرین کو متوجہ کرے ۔

اردو میں ایڈورٹائزنگ کے لیے تشہیر کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے ۔ ایڈورٹائزنگ کے وسیع تر مفہوم میں اپنی مصنوعات کو شہرت دینا ان کی سیل میں اضافہ کرنا اور لوگوں کو متوجہ کرنا۔مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے برانڈ کو مختلف نام دیتی ہیں اور ان کے اشتہار بناتی ہیں اس مقصد کے لیے وہ ہر برانڈ کو کسی مخصوص جذبے مثلا عشق و محبت ۔۔ مامتا۔۔ اپنائیت ۔۔ ایڈوینچر حتیٰ کہ جنسی جذبے سے بھی وابستہ کردیا جاتا ہے۔ ان اشتہارات کو بار بار دکھا کر میوزک اور نغموں (Gingles) کے ذریعے لوگوں کے زہنوں میں اتارا جاتا ہے اور لوگوں کو اس حد تک مسمرائز کردیا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدیں۔

ٹی وی چینلز پہ چلنے والے حالیہ اشتہار کو بھی ماں کی مامتا سے وابستہ کیا گیا مگر اس اشتہار سے بے حیائی کو فروغ مل رہا پرینگنٹ خاتون کو بار بار اشتہار میں نمایاں دکھایا جاتا ہے اس پر سے عورت کا لباس بھی ایسا کہ خدوخال نمایاں ہوں ۔ اس اشتہار سے معاشرتی تنزلی اور اخلاقی گراوٹ عیاں ہوتی ہے ۔ معاشرے پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کرنے میں ایسے اشتہارات کا ہاتھ ہے ۔

اشتہارات ایسے ہونے چاہیے جو اسلام کے منافی نہ ہوں جن میں اخلاقی اقدار اور معاشرتی حدود کا خیال رکھا جائے ۔۔۔ اسلام کے منافی اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے اشتہارات کو فورا بند کیاجانا چاہیے ۔یہ حکومتی اور پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بیہودہ اشتہارات پہ پابندی عائد کرے ۔ ایڈورٹائزنگ کے نام پہ بے حیاء کو فروغ دینے سے معاشرے پر بہت برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 518185 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2017 Views: 456

Comments

آپ کی رائے