علم کے بارے میں بڑوں کی باتیں

(Muhammad Asif Inayat, )

 سارہ جاوید کا ویژن
وطن عزیز کے حالات ہیں کہ عقل والے تو درکنار بدعقل بھی تڑپ اُٹھیں۔ 100 سے زائد ہر وقت چلنے والے ٹی وی چینلز، ہر خبر بریکنگ نیوز اور مجال ہے کہ حقیقت حال پرکوئی ایک بھی چینل صحیح آگاہی دینے پائے۔ بچپن کے دوست ارشد جاوید(پیا) جو بنیادی طور پر فیصل آباد کے رہنے والے ہیں، پچھلی چار دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور آج کل Cafe Descartes کے نام سے ذاتی Chain کے شکاگو میں 9 کیفے چلا رہے ہیں۔ محب وطن پاکستانیوں کی طرح فکر مند ہیں ۔ جب سے پانامہ کا زمانہ چل رہا ہے تقریباً روزانہ فون کرتے ہیں کہ حقیقت حال سے واقف ہوں مگر یقین جا نئے شکاگو میں رہتے ہوئے وہ خاص پاکستانیوں سے بھی زیادہ باخبر ہیں۔ اُن کی 20 سالہ بیٹی سارہ جاوید والٹر پیٹون (Walter Payton High School) سے گریجو ایٹ ہیں آج کل Loyola University میں Sophomore ہیں ۔ نیورو سائنسز میں سٹڈی اور اے ایس ایل (ASL) میں Research کر رہی ہیں۔ ایک اخبار کی انٹرن شپ پر انہوں نے ایڈیٹر کی ڈاک کے جواب دینا تھے جو اُن کی تعلیم کا جزو تھا ایک شخص نے خط میں نوکری مانگی اور ساتھ اپنا ڈیٹا لکھ بھیجا سارہ جاوید نے نیٹ پر جا کر اس کا ڈیٹا چیک کیا وہ جس اخبار میں کام کرتا تھا۔ ادب، فلم، ڈرامہ اور اس طرح کے سرکل میں اس کا تجربہ تھا یوں سمجھ لیں جیسے یہاں پر کسی کا فلمی رسالے روشنی یا ہفت روزہ دھنک کا تجربہ ہو۔ سارہ جاوید نے اس کو اخبار میں نوکری دینے سے انکار کیا اور وجوہات بتاتے ہوئے مشورہ دیا کہ تم اخبار میں کالم نگاری کیلئے موزوں نہیں ہو تم میں ادبی اعتبار سے تو صلاحتیں ہیں لہٰذا تم سکرپٹ ، ڈرامے اور افسانے لکھو کیونکہ تم اپنی سوچ رکھتے ہو جبکہ اخبار لوگوں کے خیالات وحالات کی عکاسی کرتا ہے تم ہالی وڈ جاؤ تمہارا ذہن ، قلم اور سوچ وہاں جو کام کرے گا وہ اس شعبہ کی خدمت ہو گی ادھر وہ چلنا چاہیے جو لوگوں کی سوچ ہے ایک رپورٹر جو خالص رپورٹ کرے اور رپورٹ کی بنیاد پر جو تجزیہ کر سکے وہ کالم نگار رکھا جا سکتا ہے۔ سارہ جاوید کی بات سن کر میں تو چونک گیا کہ ہمارے ہاں جتنے بھی سقراط اور تجزیہ کار کالم یا مضمون نگار ہیں وہ تجزیہ کار کم اور نجومی ہونے کے دعویدار زیادہ ہیں وہ لوگوں کی تو بات ہی نہیں کرتے بس اپنی سوچ اور جواُن کے مطابق درست ہے گردن پر قلم رکھ کر لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر میڈیا پرسن ، ہر موضوع اور شخصیت پر اپنی الگ جغت سنا یا لکھ کر چلتے بنتے ہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کے ورکرز کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں…… مجھے گجرانوالہ سے معروف صحافی عرفان کامریڈ کا فون آیا اور حالیہ دنوں کی سیاست پر یوٹرن کی ، نواز شریف کے نکلے ہوئے جلوس ،اِس پر اُن کے حواریوں کے دعووں کہ اتنی خلقت دیکھی ہو گی نہ دیکھیں گے اورکوئی اس کا 25 فیصد بھی اکٹھا نہ کر پائے گا مشاہد اﷲ، طلال چوہدری و دیگر لوگوں کے حوالے دیئے اُس پر عمران خان کاد عویٰ بھی آیا اب انسان کیا بات کرے اور کیا لکھے قوم کے ان زعماؤں کے ایک ایک بیان پر ایک ایک کالم کیا کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یوٹرن تو پرانی بات یہ ڈبلیو ٹرن بھی نہیں نوے کے زوایے پر چلنے والا زِگ زیگ ہے۔ عرفان کامریڈ نے کہا کہ کچھ لوگ محترمہ بی بی بینظیر بھٹو شہید کے 1986ء والے تاریخی استقبال کا موازنہ نواز شریف کے حالیہ جلوس سے کرنے بیٹھ گئے ہیں جبکہ حقیقی صورت حال اور لوگوں کی رائے مختلف ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کا موازنہ ایسے ہی جیسے بندہ ننکانہ کا موازنہ لندن سے کرنے بیٹھ جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز ریلی جس کو پاورشو کا نام دیا گیا اسلام آباد سے لاہور تک شہر شہر تقریباً مختلف لوگوں کا ہجوم تھا اور اس لحاظ سے عمران اور قادری سے تو مختلف اور بہتر بھی ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک بی بی شہید کا تعلق ہے، 1986ء میں وطن عزیز کی آبادی 10 کروڑ کے لگ بھگ تھی جبکہ موجودہ وقت میں 22 کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ اب 10 کروڑ کے صوبے میں نواز شریف کی سوائے مشرف دور کے 1982ء سے حکومت ہے۔ جبکہ 1986ء میں میاں نوا زشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ،محمدخان جونیجو وزیراعظم، چاروں صوبوں میں بھٹو مخالف قوتوں کی حکومت اس پر ضیاء الحق کا سنگھاسن، اشرافیہ، ملاں، ملٹری، بیورو کریسی، عدلیہ، انتظامیہ، سرمایہ دار، صنعتکار نہ جانے کون کون سا طاقتور شعبہ تھا جو بی بی کے خلاف سرگرم نہ تھا مگر 9 اپریل 1986ء کی شام ہی پنجاب میں عوام گھروں سے باہر دیو مالائی اور افسانوی شخصیت کا دیدار کرنے نکل پڑے تھے۔ 10 اپریل کو پرانے ایئرپورٹ سے مینار پاکستان اور شاہدرہ سے مینار پاکستان گویا جلسہ گار کو آنے والے راستوں میں کوئی عمارت ، کوئی درخت، کوئی دیوار،کوئی جگہ ایسی نہ تھی جس پر انسانوں کا ہجوم نہ تھا۔ ٹرانسپورٹ کا بھی یہ عالم نہ تھا جو آج ہے اور یہ سب لوگ خود آئے ہوئے تھے لائے نہیں گئے تھے۔ اس روز اﷲ تعالیٰ کی کائنات میں ر صرف بینظیر بھٹوکا بے مثال استقبال ہوا تھا جو شخص اُٹھ کر کھڑا ہو سکتا تھا یا کسی کے کندھے پر بیٹھ سکتا تھا وہ بی بی کا استقبالی تھا البتہ ہسپتالوں میں انستھیزیا میں پڑے زیر آپریشن مریض نہ آ سکے ہوں گے یا جیلوں میں بند قیدی یا ایسے دوسرے مجبور لوگ بی بی کے استقبال سے محروم رہے۔ ارے عرفان کامریڈ بھائی جتنے لوگ شیخ رشید ، قادری، سراج ، عمران خان یا اب میاں نوا زشریف کے شو میں تھے بی بی صاحبہ کے استقبال میں اس سے زیادہ تو لوگوں کی جوتیاں گم ہو گئی تھیں اس سے کہیں زیادہ تعداد تو اُن کے استقبال کو آئے مگر دیدار سے محروم لوگوں کی تھی ۔ خدا واسطے ایسے موازنے نہ کروائیں۔ عمران ،نواز ، قادری، سراج الحق اور ان کے حواریوں کو اپنا گلشن کا کاروبار کرنے دیں۔ یہ بسوں، کاروں، ویگنوں کے جلوس انسانوں کے استقبال کا کیا مقابلہ کریں گے حد یہ ہے کہ 2007ء میں بی بی کی کراچی آمد پر 30 لاکھ سے زائد لوگوں کا سڑکوں پرنکل آنا جس کو دلائل کے ساتھ بابر اعوان بھی ثابت کر چکے اور پھر بی بی کی بینظیر شہادت کے بعد ہونے والے انتخابات میں اُن کے کفن نے زندہ سیاسی لاشوں کو شکست فاش دے دی اورآصف علی زرداری کو پانچ سال کیلئے صدر منتخب کئے رکھا۔ اب بھی حالت یہ ہے کہ مقدمہ نواز شریف کا تھا اور ہر ٹی وی چینل، اداریے اور کالم میں ذوالفقارعلی بھٹو شہیداور بی بی بینظیر بھٹو شہید زیر بحث رہے لہٰذا یہ موازنہ ایسے ہی ہے جیسے رحیم بخش سلطانی والا پہلوان کی طاقت کا موازنہ کسی اجرتی قاتل سے کیا جائے یا تانگے کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انسانوں کے وزن کے مساوی اینٹوں کے بنے ’’وٹے‘‘ کااستعمال کیا جائے۔ بیانات اور کردار پر مت جائیں۔ 62، 63 کی مخالفت عمران خود کرتے رہے ہیں اب اس کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر آنے کی بات کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس حوالہ سے سراج الحق کے لیے ریمارکس دیے کہ ان کے علاوہ کوئی پورا نہیں اترے گا۔ مگر بعد میں ہذف کر دیے۔ اچھا ہی کیا ورنہ سراج الحق کے اس بیان پر کہ دہشت گردی پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ لے کر آئے ہیں،اس سے زیادہ وہ ڈکٹیٹروں کے دفاع میں کیا کہہ سکتے ہیں ۔ نوٹنکی شو، جلوس اور استقبال کا موازنہ نہیں بنتا۔ امیدوار اور رہنما میں فرق ہوتا ہے یہ فرق ملحوظ خاطر رکھا کریں، سارہ جاوید کے ویژن کی روسے قلم عوام کی امانت ہوتاہے جس کواستعمال کرتے وقت صرف اورصرف عوام کی رائے ہی بطورتجزیہ اورتحریر سپردقرطاس کریں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Asif Inayat

Read More Articles by Muhammad Asif Inayat: 22 Articles with 9091 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2017 Views: 543

Comments

آپ کی رائے