حسد ایک سماجی بیماری

(Huzaifa Ashraf, Lahore)

ہر کوئی اپنے لیے سکون تلاش کرتا ہے۔ اِس سکون کے لیے خود کو وہ بہت سے مراحل سے بھی گزارتا ہے۔ لیکن اُس شخص کے متعلق ہم کیاکہیں گے جو کے خود کے لیے تکالیف کا سودا کر رہا ہو۔ اور خوامخواہ خود کو اذیت دے رہا ہو۔ ایسے شخص کے متعلق ہم یہی خیال کریں گے کہ شائد وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے ،۔ جو اذیتوں کا سوداگر ہے اُس کواذیت دینا بھی اچھا لگتا ہے جی ہاں ایسا انسان وہ ہے جو کہ دوسرئے سے حسدکرتا ہے۔اور میں (پناہ مانگتا ہوں رب کی)حسد کرنے والے شر سے جب وہ حسد کرے۔حدیث کی رو سے حضرت عقبہ بن عامر ِؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا مجھے اس کا ڈر بلکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے آسائیشات کے لیے آپس میں حسد نہ کرنے لگو ۔ہر اخلاقی برائی نقصان دہ ہے کبھی یہ نقصان دنیا میں ہی نظر آجاتا ہے اور کبھی آخرت تک موقوف ہو جاتا ہے۔حسد یا جلن ایک ایسے بیماری ہے جس کا شکار آج کے دور بہت سے لوگ ہیں۔جس کا شکار دنیا ہی مین نفسیاتی اذیت اٹھاتا اور دل ہی دل میں گھٹ کر مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یعنی حاسد کی سزا کا عمل اس دنیا ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔اسی لیے قرآن کریم میں حسد کرنے والے کے شر سے اﷲ کی پناہ مانگی گئی ہے۔کیونکہ وہ اس باؤئلے پن کی وجہ سے حد تک جا سکتا ہے۔ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے سوکھی لکڑی کو آگ۔لہٰذا دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے اس بیماری سے بچنے کے لیے تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے ضمرہ بن ثعلبہؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گہ۔یہ تو ہمارے نبی کریم ﷺنے فرما دیا مگر آج کا حال سب کے سامنے ہے۔ حسد کے لغوی معنٰی کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا اس کے نقصان کے در پے ہونا ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص جب دیکھتا ہے کہ اس کے بھائی کہ پاس کار آگئی ہے تو وہ آرزو کرتا ہے کہ کاش یہ کار اس سے چھن جائے۔اس کی کارکا کوئی نقصان پہنچا جائے تاکہ اس کی راحت میں اضافہ ہو سکے۔افسوس کہ آج کل یہ سچ ہے۔حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغضنہرکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اﷲ پاک کے بندے اور بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیداہ جُدا رہے۔حسد جیسی بیماری اُس وقت پروان چڑھتی ہے جب اُس کے دو لوازمات پورے ہو جاتے ہیں سب سے پہلے کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا اور دوسرا یہ کہ اس کے نقصان کی تمنا کرنا یا نقصان ہو جانے پر خوش ہونا ۔ہر انسان کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔اگر آپ کو دوسروں کی تکلیف پر خوشی اور ان کی کامیابی پر دکھ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ آپ اس کے نقصان کے متمنی اور اس کی نعمت چھننے کے منتظر ہیں تو آپ حسد جیسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔کچھ لوگ حسداور رشک کو ایک ہی سمجھتے ہیں یاد رہے حسد اور رشک میں زمین آسمان کا فرق ہے۔حسد کے مفہوم میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حسد میں کسی کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اس کے چھن جانے کہ خواہش کرنا ہے۔جبکہ رشک میں کسی شخص کی خوبی سے متاثر ہونا اور اس جیسا بننے کی کوشش کرنا ہے۔رشک میں وہ نعمت چھن جانے یا نقصان پہنچ جانے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی ۔حسد اور رشک ایک جذبہ ہے اور پچھلی بات سے ثابت ہو رہا ہے کہ حسد ایک منفی جبکہ رشک ایک مثبت جذبہ ہے ۔ابنِ مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا کہ حسد(رشک)صرف دو چیزوں پر مستحسن ہے ایک وہ شخص جس کو اﷲ پاک نے مال دیا اور اس کو راہ حق پر خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جسے اﷲ پاک نے حکمت دی۔حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہین۔ کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ حسد (رشک) صرف دو شخصوں پر مستحسن ہے۔ایک اس شخص پر جسے اﷲ پاک نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا ہے اور اس کا پڑوسی اسے سن کر کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی طرح پڑھنا نصیب ہوتا تو میں بھی اس طرح عمل کرتا ،دوسرے اس شخص پر جسے اﷲ پاک نے دولت دی ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے۔پھرکوئی اس پر رشک کرتے ہوئے کہے کہ کاش مجھے بھی یہ مال میسر آتا میں بھی اسے اسی طرح صرف کرتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی کاموں میں رشک کرنا ایک مستحسن عمل ہے۔کیونکہ اس سے دینی میدان میں ترقی کی راہیں کھلتی ہیں ۔لیکن دنیاوی میدان میں بھی رشک کرنا کوئی ممنوع نہیں۔مثال کہ طور پر ایک طالب علم دوسرے اسٹوڈنٹ کے اچھے نمبر دیکھ کر رشک کرتا اور جائز حدود میں رہتے ہوئے اس سے زیادہ نمبرلینے کی کوشش کرتا تو یہ بھی ایک مستحسن عمل ہے۔ہماری سوسائٹی میں حسد بہت عام ہے غصہ ،ڈپریشن احساس کمتری چڑچڑا پن وغیرہ سب سے بڑی بات حسد آخرت میں اﷲ پاک کی ناراضگی کا موجب ہے۔حسد نفرت کو اور نفرت حسد کو جنم دے سکتی ہے۔اﷲ پاک ہمیں حسد سے بچائے۔ آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huzaifa Ashraf

Read More Articles by Huzaifa Ashraf: 26 Articles with 18375 views »
صاحبزادہ حزیفہ اشرف کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے۔ حزیفہ اشرف14اکتوبر1999کو پیدا ہوئے۔حزیفہ اشرف کے والد قانون دان میاں محمد اشرف عاص.. View More
23 Aug, 2017 Views: 474

Comments

آپ کی رائے