شجر ممنوعہ

(Kanwal Naveed, Karachi)

دل اسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

اوصاف آفس میں پہنچ چکا تھا۔ وہ اپنے خیالات کو پرگندہ خیالات میں الجھنے نہیں دیتا تھا۔ شواف سے متعلقہ کوئی خیال وہ اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا تھا۔ عامر نے آ کر اسے نئے ملنے والے پروجیکٹ کی تفصیل بتائی ۔ اس کی کمپنی کاغذ کی ترسیل کے کام سے منسلک تھی۔ اسے یہ کام وراثت سے ملا تھا۔ اگرچہ وہ اس کام کو بہت محنت سے کرتا اور کرواتا لیکن اسے پروفیسر بننے میں دلچسپی تھی۔ اس نے ایک کمرہ سٹڈی کے لیے مختص کیا ہوا تھا۔ وہ دن میں تین گھنٹے لازمی سٹڈی کرتا ۔

لنچ ٹائم ہو چکا تھا۔ اس کا کزن اور دوست عامر جو اس کا پاٹنر بھی تھا لنچ کے لیےآمنے سامنے بیٹھے تھے۔ عامر نے مسکراتے ہوئے اوصاف سے کہا،کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی زندگی اپنی خواہشوں کے تحت گزار سکتے ، مگر اپنی اپنی زندگی کے زیر اثر ہم مجبور ہوتے ہیں ۔ اوصاف نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ مجبور ،نہیں نہیں مجبور نہیں ، مجبور کا لفط انسان اپنے لیے استعمال کرئے تو پھر تواسے اپنے متعلق غور و فکر کرنی چاہیے۔

عامر نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔ تمہارا مطلب ہے کہ ہم سب بااختیار ہیں ؟تم اس لیے ایسا سوچتے ہو،کیوں کہ تم نے غربت کی زندگی نہیں دیکھی۔ سڑک پر سر کھجاتے ہوئے بیکاری ، کس قدر بااختیار ہوتے ہیں ،اس کے چہرے پر ہنسی تھی ،اس کا لہجہ تمسخر خیز تھا۔ اوصاف نے انتہائی سنجیدگی سے اس کی نظر میں دیکھا اور پورے یقین سے کہا۔ بے شک انسان مجبور محض نہیں ۔ رب نے ہر کسی کو صلاحیتوں سے نوازہ ہے ۔ ہم جب محنت سے دور بھاگتے ہیں تو پھر سر کھجانا ہماری قسمت ٹھہرتا ہے ۔ امارت اور غربت اہم نہیں ۔ اہم بات تو یہ ہے کہ انسان کس حد تک خواب دیکھ سکتا ہے۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کس حد تک محنت کر سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جن بیکاریوں کی تم بات کر رہے ہو ۔ ان میں سے اسی فی صد صرف یہ ہی سوچتے ہیں کہ پیسے مانگنے کا وہ طریقہ سیکھیں جو لوگوں سے ذیادہ پیسے نکلوانے کا باعث بنے ۔

عامر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔ وہ خواہ کیسی ہی محنت کر لیں ۔گھر تھوڑا ہی لے سکتے ہیں ۔ اوصاف نے دھیمے لہجے میں کہا بات گھر لینے کی نہیں ،مجبور ہونے کی ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کے گھر نہیں ہوتے ۔ نہ ہی وہ بہت مالدار ہوتے ہیں ،لیکن وہ بہت بااختیار ہوتے ہیں ، مجھ سے اور تم سے کہیں ذیادہ ۔ ان کے پاس لوگ جا کر اپنی مجبوریوں کا رونا روتے ہیں ۔ یہ رونا صرف اور صرف اپنی ذات کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں ۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔انسان اپنی ذات پر بروسہ کیسے چھوڑ سکتا ہے جبکہ رب نے تو ہر پل ساتھ رہنے اور ساتھ دینے کی نوید دی ہے۔

عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ یار تمہیں تو مثبت سوچ پھیلانے کے لیے سیمینار کرنے چاہیں ۔ اوصاف کے چہرے پر ہنسی پھیل گئی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں ۔ تھوڑا علم میں اضافہ تو ہو۔ یہ خدمت بھی کریں گئے ۔ آپ جیسے لوگوں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شواف اوصاف کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آ ج وہ اپنی ہر غلطی کا اعتراف کر کے اوصاف سے الگ ہونے کا مطالبہ کرئے گی۔ شواف سوچ رہی تھی ، ساری عمر جس طرح اس کے ماں باپ نے گزاری ہے وہ نہیں گزار سکتی ۔ وہ لگا تار اوصاف سے بات کرنے کی ہمت لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ جیسے جیسے وہ سوچتی ۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگتے تھے۔
دروازے پر دستک ہوئی ۔ وہ اپنے چہرے کو صاف کر کے باہر گئی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182725 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
24 Aug, 2017 Views: 598

Comments

آپ کی رائے