مجھے کچھ کہنا ہے۔

(Riaz Jazib, Dg Khan)
ایک صحافی دوست نے گزشتہ شب اپنے فیس بک آئی ڈی پرنیوز بریک کی ڈی جی خان ریلوے اسٹیشن پر ایک فیملی اپنی ہلاک ہوجانے والی بچی کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ موجود، ایمولینس کے خرچہ کی استعداد نہیں رکھتی۔ اس موقع پر ایک مخیرآگے آئے اور انہوں نے ذاتی طور پر اخراجات بردداشت کرتے ہوئے ایمولینس کا بندوبست کرادیا۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے صحافی نے اپنی ذمہ داری پوری کی اور پبلک میسج چھوڑا کہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور مخیر لوگ اس خاندان کی مدد کریں۔ اس پر ایک مخیر آگے بڑھے اور ایمولینس کا بندوبست کرادیا یہ اس سے بھی بہترین ہوگیاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ کسی کے کام آئے اللہ پاک ان کی اس نیکی کو قبول فرمائے۔ لیکن مجھے کچھ کہنا ہے۔

ایک صحافی دوست نے گزشتہ شب اپنے فیس بک آئی ڈی پرنیوز بریک کی ڈی جی خان ریلوے اسٹیشن پر ایک فیملی اپنی ہلاک ہوجانے والی بچی کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ موجود، ایمولینس کے خرچہ کی استعداد نہیں رکھتی۔ اس موقع پر ایک مخیرآگے آئے اور انہوں نے ذاتی طور پر اخراجات بردداشت کرتے ہوئے ایمولینس کا بندوبست کرادیا۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے صحافی نے اپنی ذمہ داری پوری کی اور پبلک میسج چھوڑا کہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور مخیر لوگ اس خاندان کی مدد کریں۔ اس پر ایک مخیر آگے بڑھے اور ایمولینس کا بندوبست کرادیا یہ اس سے بھی بہترین ہوگیاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ کسی کے کام آئے اللہ پاک ان کی اس نیکی کو قبول فرمائے۔ لیکن مجھے کچھ کہنا ہے اس سلسلے میں کہ ریلوے کے محکمہ والوں کی یہاں اس صورت حال میں کیا ذمہ داری بنتی تھی اور اس نے یہ ذمہ پوری کی یا نہیں۔ یقینی طور پر نہیں کی مذکورہ فیملی نے ٹرین کا ٹکٹ لے رکھا تھا اور ٹرین کا انجن خراب ہونے سے مسافروں کوبے یارومددگار چھوڑ دیا گیااس اثناءمیں بچی کی حالت بگڑگئی جب پائلٹ انجن کا بندوبست ہواتو ٹرین ڈی جی خان ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی اور معصوم بچی کی موت واقع ہوگئی۔ رات کے پہلے پہرجب مسافر فیملی جس کی قیادت ایک باپردہ خاتون کررہی تھی فوت ہوجانے والی بچی کے علاوہ بھی دو اور معصوم بچے اس کے ساتھ تھے اپنی فوت ہوجانے والی بچی کی نعش کو پیلٹ فارم کی بینچ پر لے کربیٹھی تھی کہ موقع پر موجود مقامی دو صحافی ان کی جانب متوجہ ہوئے تو انہیں ساری صورت حال کا پتہ چلا۔صحافیوں نے ریلوے کے مقامی حکام سے بات چیت کی کہ وہ کیا کرسکتے ہیں تو انہیں شدید مایوسی ہوئی کہ اس سلسلہ میں کچھ نہیں کرسکتے۔ اصل مسئلہ اب یہ تھا کہ بچی کی ڈیڈ باڈی کو کس طرح منزل مقصود تک وہ جلدی پہنچایا جائے۔ پہلا آپشن یہ تھا کہ ریلوے کی اپنی ایمولینس سروس کو کال کیا جائے تو معلوم ہوا کہ ڈی جی خان اسٹیشن پر ایسا کوئی انتظام نہیں۔ دوسرا آپشن تھا کہ اسی ٹرین سے بھجوایا جائے جس کے آگے پائلیٹ انجن لگا ہے۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ یہ ٹرین آگے اسٹیشن تک کوٹ ادو تک جائے گی تواس کا انجن تبدیل ہوگا پھر یہ فراٹے سے نہیں خراما خراما جائے گی اور کم از کم چالیس گھنٹے لگ جائیں گے۔ تیسرا آپشن تھا کہ مقامی پولیس و انتظامیہ سمیت میونسپلٹی اداروں کو کال کی جائے وہ اس مصیبت زدہ فیملی کی مدد کریں اور سرکاری طورپر ایمولینس کا بندوبست کیا جائے یہاں بھی ناکامی ہوئی کسی بھی سطح کے پبلک آفس کے ذمہ داران سے رابطہ نہ ہوسکا یا وہاں سے ریسپانس نہ ملا۔ چوتھا آپشن تھا کہ موقع پرموجود لوگوں سے اپیل کی جائے کہ وہ باہمی طور پر چندہ اکھٹا کریں اس پر فوری عمل کیا گیا یہاں انہی دو صحافیوں نے پہل کی اور مجموعی طور پر ان دونوں کی کاوش سے 17 ہزار روپے کی رقم کا بندوبست ہونے کی امید پیدا ہوئی ۔فوری طور پر ایمبولینس سے بات کی گئی جس کا کرایہ اٹک کے دورافتادہ گاؤں تک کا 25 ہزار طے ہوا، ایک گھنٹہ تک اسی صورت حال کا سامنا رہا کہ ان میں سے ایک صحافی نے اس کی پوسٹ فیس بک پر کردی کہ کوئی مخیر اس فیملی کی مدد کرے۔ فوری طور پر ایک مخیرنے ریسپانس کیا اور ایمبولینس لے کر آگئے۔ یوں اس فیملی کو ڈیڈ باڈی سمیت روانہ کیا گیا۔ آگے کیا لکھوں اور آپ کیا پڑھیں گے۔بس مجھے یہی کہنا تھا۔ پرانا نہ نیا پاکستان یہ ہے غریب کا پاکستان جہاں کوئی جواب دہ نہیں ہوتا اور سب جواب مانگتے ہیں سب بے قصور ہیں اور سب قصور وار بھی ہیںکوئی ظالم نہیں مگر سب مظلوم بھی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Jazib

Read More Articles by Riaz Jazib: 53 Articles with 33353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2017 Views: 279

Comments

آپ کی رائے