شجر ممنوعہ (صفحہ ٣)

(Kanwal Naveed, Karachi)

دل اسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

اس کی امی دروازے پر کھڑی تھیں ۔ شواف بیٹا کتنی دیر لگاتی ہو ،دروازہ کھولنے میں ۔ اپنی ماں کو دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی ۔ وہ اوصاف کو دیکھنا چاہ رہی تھی جو ابھی تک نہیں آیا تھا۔

شواف نے مایوسی سے کہا ۔ امی آپ اس وقت ۔ شام کو تو آپ کبھی نہیں آئیں ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ کل تمہارے پاپا کے ساتھ ایک شادی مں۔ جانا ہے ، سوچا تم لوگ ہمارے ساتھ چلو۔وہی اپنے مو پر صاحب ، ان کی بٹیو کی شادی ہے۔ تاہبری شادی مںخ بہت پہس خرچ کیا تاک ۔ انہوں نے۔ اب ہیںو بھی تو کرنا ہے نا۔ ورنہ کیا عزت رہے گی ہماری۔

شواف نے لظ عزت کو دہرایا۔ اس لفظ سے اسے شدید الجنا ہوتی تھی۔ اس لفظ کا مبلہ ابھی تک وہ مکمل سمجھ نہیں پائی تھی۔ عزت اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اس کے کھوئے کھوئے انداز کو دیکھ کر ۔اس کی امی پھر بولی۔ اوصاف نہ بھی جائےتو کوئی بات نہیں ۔ تم ضرور چلو۔کیا خیال ہے تمہارا؟ نہیں امی مجھے کہیں نہیں جانا۔ شواف نے اداسی سے کہا۔ اس کی ماں نے اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اوصاف سے تمہارا کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا ۔ تمہارا لہجہ کیوں ایسا ہو رہا ہے۔

شواف کے دل میں آیا انہیں بتا دے ۔وہ کیا کرنے کا سوچ رہی ہے۔ مگر وہ خاموشی سے اپنی ماں کا چہرہ دیکھتی رہی۔شواف نے اپنی ماں کو ایک اجنبی احساس کے ساتھ دیکھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کبھی کبھی بہت اپنے بھی ہم سے اور ہم ان سے مکمل انجان رہتے ہیں ۔ انسان بہت پیچیدہ ہے۔ بہت ذیادہ ۔ خود کو جاننا کبھی کبھی کیسا مشکل ہوتا ہے۔

اسے کھویا ہوا پا کر اس کی امی نے پھر اس سے سوال کیا ۔ کوئی مسلہ تو نہیں شواف ؟شواف بلکل خاموش تھی۔ جب اس کی ماں عطیہ جبین نے اسے ہلکی سی تھپکی دی۔ شواف ،شواف ۔

شواف نے موجودہ لمحے میں خود کو محسوس کیا۔ عطیہ جبین نے پھر اس کو ہلکی سی تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ بیٹا تم بتاو ،نہ بتاو میں جانتی ہوں ۔ تم خوش نہیں لگ رہی ۔ لیکن عورت کی زندگی یہی ہے۔ وہ خود خوش رہے نہ رہے دوسروں کو خوش رکھنا اس کا فرض ہے۔ تمہاری بیٹی اور شوہر تمہاری زمہ داری ہیں ۔ اپنی زمہ داریوں سے کبھی منہ نہ موڑنا۔ مرد تو کھلی فضا میں باز کی طرح اُڑنا چاہتا ہے ، عورت اسے روک نہیں سکتی ،نہ ہی اسے روکنا چاہیے۔ورنہ وہ اسے ہی نوچ کھائے گا۔ تم سمجھ رہی ہو نا!

عورت کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ مرد کو احساس دلاتی رہے کہ وہ خواہ کتنی ہی اونچی اُڑان بھرے ۔اس کی نظر نیچے ہی رہنی چاہیے۔ اپنے بیوی بچوں پر، تاکہ وہ ان کی ضروریات سے غافل نہ رہے۔ کیا تم سمجھ رہی ہو شواف میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔ شواف نے آنکھیں رگڑ کر ہاں میں سر ہلا دیا۔ اگرچہ وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس کی ماں کچھ دیر اس کے ساتھ گزار کر چلی گئی ۔ وہ پھر انتظار میں بے چینی کے ساتھ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں چلتی جا رہی تھی۔ اچانک سے اس کے فون پر گھنٹی کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔

اس کی دوست۔مشک بار نے کافی دنوں بعد اسے کال کی تھی۔ مشک بار اس کی اکلوتی دوست تھی ،جس سے وہ اپنی بہت سی باتیں کہہ پاتی تھی۔ مشک بار نے فون پر شواف کو محسوس کرتے ہوئے فوراً سے کہا۔
تم تو بہت ہی بے وفا ہو شفویار۔ میں کروں تو کروں ۔ فون ہی نہیں کرتی۔ اب میاں جی سے اتنا بھی عشق نہ ہو کسی کو ،کہ وہ دنیا کو پورا ہی چھوڑ کر اسی کا ہو جائے۔ شواف نے اس کی بات سنی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ شاہد وہ کسی کے منہ سے یہی سننا چاہتی تھی کہ اس نے اوصاف کے لیے دنیا چھوڑی ہے۔ وہ ابھی اس کے لفظوں سے محظوظ ہو رہی تھی کہ مشک بار ،جسے وہ سونا کہتی تھی،پھر سے بولی ۔ میں اکیلی ہی بات کروں گی یا تم بھی کچھ منہ سے پھوٹو گی۔ شواف نے مسکراتے ہوئے کہا۔یہ ہی بات میں بھی تم سے کہہ سکتی ہوں جو تم مجھ سے کہہ رہی ہو۔ سونا۔ بیگم ۔اس نے جان بوجھ کر لفظوں کو توڑا تھا۔ اس کی بے چینی میں کچھ کمی آ چکی تھی۔

سونا نے افسردگی سے کہا۔ اچھا یار تم جیتی میں ہاری ۔ ساری غلطیاں میری ۔ اب بتاو، تمہاری زندگی میں کیا چل رہا۔ سونا کے کہنے کی دیر تھی کہ شواف نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ اچانک سے اس کے بنائے ہوئے ارادے اس کی نظروں میں گھوم گئے۔

سونا نے اس کی آواز میں شامل نمی کو محسوس کیا۔ کیاہوا؟شفو کچھ تو بولو۔ شواف نے روتے ہوئے کہا۔ میں اوصاف سے خلع لینے کا سوچ رہی ہوں ۔ سونا۔ کیا؟ سونا کی آواز میں حیرت ذیادہ اور افسوس کم تھا۔ تم ایسا کیسے سوچ سکتی ہو۔ بیٹی ہے تمہاری اس کا سوچو۔ شواف نے ایک آہ بھری۔ بیٹی ۔ ہاں میرے جیسی میری بیٹی۔ جس طرح میرے لیے میری ماں اجنبی ہے۔ اسی طرح ،میں بھی اپنی بیٹی کے لیے اجنبی ہی ہوں گی۔ سونا نے کچھ دیر کی خاموشی کو توڑا جو شواف کے جملے کے بعد دونوں کے درمیان موجود تھی۔ تم اپنے ماضی کو حال سے منسلک نہ کرو۔ تمہارے ماں باپ کے درمیان جو معملات تھے ،وہ تمہارے اور اوصاف کے درمیان نہیں ہیں۔ تم بے وقوف مت بنو۔ اوصاف بہت سمجھدار اور اچھا انسان ہے ۔اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔شفو۔ زندگی سب کی مشکلات سے بھری ہی ہوتی ہے ۔یہ فلم نہیں کہ تین گھنٹے بعد۔سب پھر ہنسی خوشی رہنے لگے کہا جا سکے ۔ ہر روز جیون جینے والوں کے لیے نیا چیلنج ہی ہوتا ہے۔
شواف نے مایوسی سے کہا۔ وہی اور ویسے ہی معملات ہیں ۔بس نوعیت مختلف ہے سونا۔ اس نے ایک سرد آہ بھری۔

سونا نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دھیمے لہجے میں کہا ۔مسلہ کیا ہے۔ تم اس حد تک کیسے سوچ سکتی ہو۔ شواف نے پھر رونا شروع کر دیا۔ سونا نے اسے تسلی دی۔ رونا کسی مسلے کا حل نہیں ۔ شفو۔ہم بچے تو ہیں نہیں اور نہ ہی تم لالی پاپ مانگ رہی ہوکہ اوصاف تمہیں فوراً سے دے دیں ۔ شواف نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی ہچکیوں کو روکا۔ مسلہ ،سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ میں اسے کچھ کہہ ہی نہیں پاتی ۔ وہ سب کچھ کہتا ہےاور ہر بار میں ہی مجرم ہوتی ہوں ۔ سونا نے اس کی بات مکمل ہوتے ہی کہا۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ تم واقعی مجرم ہوتی ہو؟ یا صرف وہ کہتا ہے۔ شواف نے غصے سے کہا۔ تمہارا مطلب ہے کہ میں غلط ہوں ۔ سونا نے کچھ دیر کے توقف کے بعد کہا۔نہیں میرا مطلب ہے کہ تم کیا سوچتی ہو۔ غلط کون ہے؟ شواف بلکل خاموش تھی۔

سونا نے پھر سے سوال دُہرایا۔ اس بارشواف کا رونا بند ہو چکا تھا۔ اس نے اس حوالے سے نہیں سوچا تھا۔ کیا واقعی میرا قصور ہے یا نہیں ۔ اسے کھویا ہوا پا کر سونا نے کہا۔ دیکھو شواف کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے اپنے آپ کو معصوم بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنے آپ کے ساتھ ملص ہونا لازمی ہے ،خواہ اور کسی سے مخلص ہوں نہ ہوں ۔ میں جہاں تک تمہیں اور اوصاف کو جانتی ہوں ،تمہیں یہی مشورہ دوں گی ، جلد فلہل نہ کرو۔شواف نے اداسی سے کہا۔پتہ نہیں کیا کروں ۔ کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ بس میں تبدیلی چاہتی ہوں ۔

مشک بار نے کچھ سوچنے کے بعد کہا۔ تبدیلی ،باہر کچھ بدل جانے سے سکون نہیں ملتا۔ شفو یار میری نندبہت ہی عقل مند ہے ۔تم اوصاف سے کچھ بھی کہنے سے پہلے مجھ سے آ کر ملو۔میں تمہیں اپنی نند سے ملوانا چاہتی ہوں۔ رشتوں کو توڑنا بہت آسان ہے ۔ اگر ہم کوئی بہترحل نہ نکال سکے تو پھر تم نے جو سوچا ہے کرتی رہنا۔ شواف خاموش رہی۔

کبھی کبھی خاموشی اندر کے انسان کو تکلیف کے صحرا میں بھٹکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔وہ اپنے اندر کے انسان سے خفا تھی۔ سونا (مشک بار) نے اسے پھر مخاطب کیا۔ وہ اپنے خیالات سے باہر آ چکی تھی۔ شواف نے اس کی آواز کو سننے کے بعد کہا۔ ٹھیک کہہ رہی ہو ۔میں بھی اتنے سال یہ ہی سوچتی رہی۔رشتے کس قدر اہم ہیں ، یہ میں جانتی ہوں ۔ مگر اب میں تھک چکی ہوں ۔
(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182774 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
26 Aug, 2017 Views: 604

Comments

آپ کی رائے