قربانی پر ذبح یا جھٹکا؟ ایک اہم سوال

(اجمل حفیظ, Lahore)
اس تحریر کا مقصد ذبح اور جھٹکا کے فرق کو زیر بحث لا کر ایک عام غلطی کی نشاندھی کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں فروغ پاتی جا رہی ہے اور سنگین بھی ہے.

مسلمانوں پر گوشت صرف ذبح شدہ جانور (شرعی) کا حلال ہے. جبکہ غیر مسلم اپنے مذہب و عقائد کے لحاظ سے ضرب شدہ، جھٹکا شدہ اور ذبح شدہ حتی کہ بعض مردار کا گوشت بھی کھا لیتے ہیں. اس تحریر کا مقصد ذبح اور جھٹکا کے فرق کو زیر بحث لا کر ایک عام غلطی کی نشاندھی کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں فروغ پاتی جا رہی ہے اور سنگین بھی ہے.

جانور ذبح شدہ اور جھٹکا سے گردن اترنے میں فرق یہ ہے کہ ذبح کرنے سے صرف گردن کا گوشت اور تمام متعلقہ رگیں فوری کاٹی جاتی ہیں جبکہ جھٹکے کے طریقہ میں گردن کی ہڈی بھی مکمل جدا ہو جاتی ہے. چونکہ یہ ریڑھ کی ہڈی ہے جس میں حرام مغز کی رسی نما نلی ہوتی ہے جو دماغ کو تمام اعصاب و جسمانی حرکات کا کنٹرول دیتی ہے، لہٰذا جھٹکا میں حرام مغز نالی کے فوراً جدا ہو جانے سے جانور کی اعصابی حرکات بشمول دل کی دھڑکن بھی بند ہو جاتے ہیں. نتیجتاً خون کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اس طرح گوشت میں رواں خون رک کر جمع ہو رہتا ہے. یاد رہے کہ خوردنی طور پر خون یا اس کے مشتمل اجزا (ماسوائے کلیجی اور تلی کے) شرعی حیثیت میں "حرام" ہیں. تکنیکی اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ گوشت میں خون کی موجودگی کا یہی فرق "حلال گوشت" اور جھٹکے گوشت کا فرق ہے. خواہ جانور حلال کی فہرست میں شامل ہو لیکن ایسا گوشت حرام ہے جس کا جانور مسنون طریقہ پر ذبح نہ کیا گیا ہو.

یہاں یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ ذبح کی صورت میں دماغ کو خون کی فراہمی فوراً کٹ جانے سے جانور کو تکلیف کا احساس تو جاتا رہتا ہے لیکن حرام مغز کے بدستور رابطہ کے باعث دل کی دھڑکن، اعصابی حرکات اور تناؤ بحال رہتے ہیں جو جسم میں سے بقیہ خون کو نکال باہر کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں.خون کے مکمل طور پر بہہ کر نکل جانے سے اس طرح جانور قدرتی طور پر بے جان ہو جاتا ہے. گو کہ جسم سے خون کا %100 مکمل خارج ہو جانا ممکن نہیں لیکن درست ذبح کرنے سے ہماری شرعی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے.

اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے قربانی پر جانور خواہ اپنے ہاتھ سے ذبح کریں یا قصاب کی خدمات لیں احتیاط کیجئے کہ چھری پھیرنے کے بعد جانور کی جسمانی حرکات ختم ہو جانے سے پہلے (جسے ٹھنڈا ہو جانا بھی کہتے ہیں) :

- نہ تو جانور کی گردن کی ہڈی توڑی جائے،

- نہ چھری کی نوک سے حرام مغز کی نالی کاٹی جائے،

-اور نہ ہی گردن علیحدہ کی جائے، تاآنکہ جانور مکمل طور پر ٹھنڈا ہو جائے اور اس کے جسم سے خون کو خارج ہونے کا پورا وقت مل سکے.

نوٹ:
آجکل اکثر قصاب وقت بچانے کی خاطر قربانی کے وقت مذکورہ بالا کوئی ایک کام کرتے ہیں اور پوچھنے پر یہ بہانہ کرتے ہیں کہ جانور کو تکلیف سے بچا رہے ہیں. انھیں اس بات سے منع کیجئے اور اگر ممکن ہو تو شعور دینے کی کوشش کریں تاکہ اس عمل کی اصلاح ہو سکے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: اجمل حفیظ

Read More Articles by اجمل حفیظ: 14 Articles with 5180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2017 Views: 418

Comments

آپ کی رائے