حسنہ قسط نمبر 55

(Zeena, Lahore)

“ اتنی سی چھوکری کیسے میرے سامنے بول رہی تھی۔ آخر بیٹی کس کی ہے نہ وہ کسی سے ڈرتی تھی نہ یہ کسی سے ڈرتی ہے۔ “ وہ کمرے میں غصے سے ٹہل رہی تھی کہ اچانک اسکی نظر ڈریسنگ پہ لگے آئینے پر پڑی اسے خود کو دیکھ کر جھٹکا سا لگا ۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اسنے اپنے چہرے کو ہاتھ لگایا پھر ایک دم سے پیچھے ہٹی، اسے خود سے عجیب سا خوف محسوس ہوا۔ “ کیا یہ میرا ہی چہرا ہے اتنا کالا کیوں ہو گیا ہے، یہ اتنا خوف ناک تو نہیں تھا۔ “ یہ چہرہ تمہارا ہی ہے یہ تمہارے اعمال کی سیاہی ہے جو تم ایک بے قصور کو تنگ کر کے لے رہی ہو، اور یہی سیاہی تمہارے وجود سے کبھی ختم نہیں ہوگی۔ تم نے ایک بے قصور کو بہت رلایا ہے اسی کے بدلے یہ سیاہی تمہارے چہرے پر مل دی گئی ہے“ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی یہ آواز کس کی ہے کون اسے یہ سب کہہ رہا ہے آواز بند نہیں ہو رہی تھی اسنے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ دیئے پھر زور سے چیخنے لگی تاکہ وہ اس آواز کو ختم کر سکے۔

اسکی آنکھ ایک جھٹکے سے کھلی اسکی سانسیں تیز چل رہی تھی اے سی آن ہونے کے باوجود وہ پسینے میں بھیگی ہوئی تھی۔ اسنے اپنا ہاتھ ماتھے پر لگایا تو پسینہ محسوس کر کہ وہ پریشان ہوگئی اسنے جلدی سے ٹیبل لیمپ آن کیا ،گھڑی پر ٹائم دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ وہ اٹھی اور ٹیبل پر پرے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلنے لگی۔ اتنے میں اسے پورچ میں گاڑی کی آواز سنائی دی۔ والی اس ٹائم آتا ہے۔ جانے کیوں اسے برا لگا اسکا بیٹا اب گھر سے زیادہ باہر رہنے لگا تھا، وہ پانی پی کر والی سے بات کرنے کے لئے چلی گئی۔
“ والی بیٹا آپ آج کل گھر لیٹ کیوں آ رہے ہیں ؟ “ شازمہ نے اندر آتے والی سے پوچھا۔
“ کچھ نہیں ماما آج کل آفس میں بہت کام ہوتا ہے۔ اسی لئے دیر ہوجاتی ہے۔ “ والی نے دیر سے آنے کی وضاحت دی۔
شازمہ اچھے سے جانتی تھی وہ حسنہ کی وجہ سے لیٹ آتا ہے اس لئے اسنے زیادہ نہیں پوچھا۔
“ کھانا لگا دوں بیٹا ؟“
“نہیں ماما میں کھانا کھا کر آیا ہوں اب بس آرام کرو گا۔ شب خیر۔ وہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ شازمہ کے دل کو کچھ ہوا وہ اسے جاتا دیکھتی رہی شاید اسے ہی احساس ندامت کہتے ہیں جو اسے ہو رہا تھا۔
وہ کمرے میں آیا تو حسنہ بے خبر سو رہی تھی اس نے ایک نظر اسکو دیکھا تو دیکھتا ہی چلا گیا وہ کسی معصوم بچے جیسی لگ رہی تھی اسے بے اختیار اس پر ترس آیا نگاہیں اسکے معصوم چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھی، اسنے سر جھٹکا اور سونے کے لئے لیٹ گیا،
ایسے ہی بہت سارے دن گزر گئے۔ وہ عصر کی نماز سے فارغ ہوئی ہی تھی کہ فون کی بیل بجنے لگی ، وہ جائے نماز کو لپیٹ کر سایئڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ایک ہاتھ سے موبائل کو اٹھا لیا، موبائل پر والی کا نام چمکتا دیکھ کر اسنے جلدی سے کال پک کی۔
“ہیلو “ اسنے ڈرتے ہوئے کہا۔
“ آج شام میں تیار رہنا دوست کی شادی پر جانا ہے۔“ دوسرے طرف سے بس اتنا کہہ کر کال کٹ کر دی۔
اسے بہت خوشی ہو رہی تھی وہ پہلی بار اسکے ساتھ کہی جانے لگی تھی اسے دل سے تیار ہونا تھا۔
اتنے دنوں میں وہ خاموش ہو گئی تھی پر والی کا خیال ویسے ہی رکھ رہی تھی۔ بس اب فرق یہ تھا کہ لنچ والی بابا کی ہاتھ بھیج دیا کرتی تھی۔ شازمہ بھی چپ چپ رہنے لگ گئی تھی زیادہ ٹائم اپنے کمرے میں ہی گزارتی تھی۔ اسکی نائلہ سے بھی بہت دنوں سے بات نہیں ہوئی تھی۔ پر آج اسکا ارادہ نائلہ سے ملنے کا تھا،،،،، (جاری ہے )
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﯾﺖ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ،
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺗﮭﯽ،
ﮐﮧ
ﻣﺤﺒﺖ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ۔ ۔ ۔
ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮﮞ ﮔﺎ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ،
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ،
ﻣﮕﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮈﺭ ﺳﮯ،
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﯾﮧ ﻣﭩﮭﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﻣﮕﺮﺟﺐ
ﻣﭩﮭﯿﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ
ﺗﻮ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﺗﮭﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﯾﺖ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zeena

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 138463 views »
I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More
30 Aug, 2017 Views: 1431

Comments

آپ کی رائے
niceee novel,,,,,,,,,,,,
By: sana, kohat on Sep, 04 2017
Reply Reply
0 Like
Thank You Sana ,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Sep, 05 2017
0 Like
niceeeeeee epi and awesome poetry,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Aug, 31 2017
Reply Reply
0 Like
Thank You Umama .....:)
By: Zeena, Lahore on Sep, 05 2017
0 Like