میں سلمان ہوں(٧٦)

(Hukhan, karachi)
اب تو خواب بھی روٹھ گئے آنکھوں سے
دل نہیں بہلتا اب اس کی یادوں سے

نئے رشتےبنا لینا بہت آسان ہے،،،مگر ان کے ‘‘بھرم‘‘ کو قائم رکھنا پرانے رشتوں سے بھی مشکل ہوتا ہے،،،
آزمائشوں کو مشکلات سمجھنا صرف اور صرف نادانی ہے،،،پرانے کی قیمت پر نئے رشتے نہیں،،
بنائے جا سکتے،،،انسانی رشتے رنجیر کی طرح ہوتے ہیں،،،اک کڑی بھی ٹوٹ جائے،،،مِس ہو جائے،،،
تو پھر ان کو قائم رکھنا پوری ایمانداری کے ساتھ بہت مشکل ہوتا ہے،،،
میری مانیے،،تو فراز اور اس کی ماں کو خالی ہاتھ لوٹا دینا آپ لوگوں کو زیب نہیں دیتا،،پھر وہ،،،
وہ آپ کو بہت چاہتا ہے،،،اس سے یہ حق نہ چھینو،،،ضروری نہیں جو آپا کے ساتھ ہوا،،،اس مشکل سے،،
آپکو بھی گزرنا ہو،،،ویسے بھی آپ میں اور آپا میں بہت فرق ہے،،،آپ زمانے کو اس کے لمحوں میں،،
جیتی ہو،،،آپ کی آنکھ کاپانی صرف اپنی ذات کے لیے مخصوص نہیں،،،ہر دردآپ کو محسوس ہوتا ہے،،،
اس دردکا تعلق آپ سے ہو نہ ہو،،،آپ کی سوچ خود تک محدود نہیں،،،آپکی سوچ کا میدان بہت،،
وسیع ہے،،،روزی سلمان کی بات اس طرح سن رہی تھی جیسے آج کے بعد سلمان کی آواز اس کے،،،
کانوں میں کبھی نہیں آئے گی،،،اسے اپنا آپ اس کمزور سے انسان سے بھی چھوٹا لگ رہا تھا،،،
روزی نے سلمان کو دیکھا اور اپنے اندر پوری طاقت جمع کرنے لگی،،،وہ اسے کیسے جواب دے،،،
جسے وہ چاہ کراسے نئی زندگی دینا چاہتی تھی،،،جس کے لیے وہ زمانے سے،،،دنیا سے،،خود سے،،،
خاندان سے لڑنا چاہتی تھی،،،جس ذات کے لیے وہ بغاوت پر آمادہ تھی،،،وہی اسکو سمجھنےسے،،
قاصر تھا،،،روزی نے اپنے اندرلہو لہان ہوتی روزی کو قابو کرلیا،،،دکھی سے لہجے میں بولی‘‘سلمان‘‘،،،
فراز کو میری ضرورت نہیں،،،میں کسی ایسے شخص کے ساتھ جینا چاہتی ہوں،،،جسے میری،،
ضرورت ہو،،میں اس کے لیے کچھ کرسکوں،،،میں تھکے ہوئے قدموں کی طاقت بن جانا چاہتی ہوں،،،
کسی اک پل بھی میں نے فراز سے محبت نہیں کی،،،میں کیسے اس سے انصاف کرپاؤں گی،،،
جب کوئی آ جائےتو پھر فیصلہ بہت مشکل ہو جاتا ہے،،،میں اپنی زندگی کسی شخص کے ساتھ،،،
اجنبی بن کرنہیں گزار سکتی،،،روزی کالہجہ اور بھی دکھی ہوگیا،،،
میں بھی کس کے سامنے خودکو بیان کررہی ہوں،،،جسے شایدکسی کے جذبات کی قدر ہی نہیں،،،
جو جھوٹ لکھتا ہے صرف واہ واہ پڑھنے کے لیے،،،لفظوں سے کھیلتا ہے،،،
سلمان انسان لفظ نہیں ہوتے،،ان سے نہ کھیلا کرو،،،یا تو خودکو ایسے نقاب میں لپیٹ لو،،،
کہ ہرکوئی تم سے نفرت کرنا شروع کردے،،،سلمان نے کچھ کہناچاہا،،،روزی نے آگے بڑھ کے اسکے منہ پرہاتھ
رکھ دیا،،،روزی،،،،(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 888151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2017 Views: 634

Comments

آپ کی رائے
Very nice har bar tarha..
By: Mini, Mandi bhauddin on Aug, 31 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 31 2017
0 Like
nice bhai bhut khubh
By: sohail memon, karachi on Aug, 31 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 31 2017
0 Like