لازوال قسط نمبر 16

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

’’ پھپو یہ لیجیے گرما گرم ناشتہ۔۔‘‘ایک ٹرے میں چائے اور بریڈ رکھے وہ رضیہ بیگم کے کمرے میں آئی تھی
’’ پھپا جان کہاں گئے۔۔؟‘‘ٹرے رکھنے کے بعد اس نے کمرے میں دیکھا تو علی عظمت کو نہ پا کر سوال کیا
’’ وہ تو فریش ہو رہے ہیں لیکن تم بتاؤ تم کو اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ہم خود آجاتے باہر۔۔‘‘موڑے کو سرکا کر ابیڈ کے سامنے کیا اور اس پر بیٹھ گئی
’’ اب اس میں تکلف کی کیا بات ہے؟ آپ کا خیال رکھنا تو میری ذمہ داری بنتی ہے ناں۔۔‘‘پیار سے مسکراتے ہوئے کہا
’’لیکن جسے رکھنا چاہئے وہ تو بے خبر ہے۔‘‘آنکھوں میں نمی آگئی
’’پھپو۔۔ آپ کو میرے ہوتے ہوئے فکرکرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ چلیں اب ناشتہ کریں سب کچھ بھول کر۔۔۔‘‘اپنے ہاتھ سے انہیں ناشتہ کرانے لگی۔اُ ن کو تو حوصلہ دے دیا مگر دل میں خود بخود آنسو تیرنے لگے۔ سوچا تھا کہ شادی کے بعد شاید وہ اپنا مقام انمول کی نظروں میں بنا لے گی مگر کچھ وقت نے ساتھ نہ دیا اور کچھ عندلیب نے۔ہمیشہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی
’’اپنے کام سے کام رکھا کرو۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں انمول کے آگے پیچھے منڈلانے کی ۔۔‘‘ حجاب انمو ل کے لئے شرٹ کو آئرن کر کے اس کے کمرے میں آئی تھی
’’لیکن میں تو۔۔‘‘اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی عندلیب نے اس کے ہاتھ سے شرٹ چھین لی
’’زبان درازی کرنا بند کرو اورجا کر اپنا کام کرو۔۔۔‘‘بے رخی سے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ وہ جیسے ہی پلٹی تو انمول کو واش روم سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔ گیلے بدن کو وہ بے نیازی سے ٹاول کے ساتھ صاف کر رہا تھا
’’انمول میری جان۔۔ یہ لوشرٹ۔۔تمہارے لئے اپنے ہاتھوں سے آئرن کی ہے۔۔‘‘ اپنے ہاتھوں سے وہ انمول کو وہ شرٹ پہنانے لگی مگر وہ تو جانتا تھا مگر بھی جان بوجھ کر انجان بنا رہا اور وہ آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے باہر چلی آئی۔ صرف ایک بار اس کی تذلیل نہ ہوئی ۔ جب جب موقع ملتا دونوں اس کی تذلیل کرتے
’’میرے آگے پیچھے مکھیوں کی طرح منڈلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘ وہ غصے میں غرایا تھا
’’ لیکن میں تو آپ کے ناشتہ۔۔‘‘اس کی آواز کے ساتھ ہچکیاں بھی شامل ہو گئیں
’’ ناشتہ۔۔۔‘‘ اس نے اچھال کر ناشتے کی پلیٹ کو ہوا میں اڑا دیا اور وہ دیکھتی رہ گئی
’’کر لو اب خود ناشتہ۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پاؤں پٹختا ہوا چلا گیا اور وہ روہانسی دیکھتی رہ گئی۔
’’ کیا ہوا کن خیالوں میں گم ہو؟‘‘وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی کہ وجیہہ کی آواز نے اسے چونکا دیا
’’ آپی آپ؟‘‘وہ ایکدم اپنے خیالوں سے باہرآئی
’’ہاں جی میں۔۔ کن خیالوں میں گم ہیں حجاب انمو ل عظمت۔۔؟‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس نے چھوٹی سی پھلجڑی چھوڑی تھی مگر یہ پھلجڑی اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی بجائے اداسی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی
’’کیا ہوا حجاب؟ تم اداس ہو؟‘‘ اس کے چہرے کے رنگ کو بدلتے دیکھ کر پوچھا
’’ نہیں آپی!ایسی بات نہیں ہے۔۔‘‘ اس نے بناوٹی مسکراہٹ کو چہرے پر پھیلاتے ہوئے کہا
’’ ایسی بات نہیں ہے تو کیسی بات ہے؟ ہاں‘‘ شکیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
’’نہیں آپی! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پہلے یہ بتائیں اتنے دن بعد کیسے آنا ہوا؟وہاں جا کر تو جیسے آپ ہمیں بھول ہی گئیں۔۔‘‘ اس نے جھٹ بات کا رخ بدلا
’’تم چھوٹی ہو تو چھوٹی ہی بن کر رہو۔۔بڑی بننے کی کوشش مت کرو۔۔۔‘‘اس کی چوری پکڑتے ہوئے وجیہہ نے کہا تھا
’’ میں نے کیا کیا؟‘‘ نظریں چراتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی
’’تم نے کچھ نہیں کیا مگر تمہاری نظروں نے مجھ سے بہت کچھ کہہ دیا۔۔ادھر بیٹھو۔۔‘‘ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھانا چاہا
’’ نہیں آپی۔۔ میں آپ کے لئے کچھ لے کر آتی ہوں۔۔‘‘ ایک بار پھر بات ٹالنے کی کوشش کی
’’ میں نے کہا ناں! ادھر بیٹھو۔۔‘‘ہاتھ پکڑ کر زبردستی بٹھایااوردائیں ہاتھ سے اس کے جھکے ہوئے چہرے کو اپنی طرف کیا
’’ تم انمول کی وجہ سے پریشان ہو ناں؟‘‘ اس کے چہرے سے اس کو پریشانی کو پڑھتے ہوئے وجیہہ نے کہا تھا مگر وہ خاموش رہی
’’میں جانتی ہوں حجاب کہ انمول اس وقت تمہیں پسند نہیں کرتا اور شاید تمہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتا ۔ لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے کہ تم آنکھیں یہ چرا لو۔۔‘‘اس نے پیار سے حجاب کو سمجھایا
’’لیکن آپی۔۔‘‘ اس کی آواز بھر آئی تھی
’’ میں جانتی ہوں حجاب تمہیں بہت تکلیف ہوتی ہوگی ، تمہیں ہی نہیں ہر لڑکی کو تکلیف ہوتی ہے جب اس کا شوہر اس کے ساتھ بے اعتنائی برتے۔‘‘ ایک پل کے لئے وہ اپنے ماضی میں چلی گئی
’’جس کی خاطر لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آتی ہے اگر وہی آپ کو کہہ دے کہ اس کا اور آپ کا کوئی رشتہ نہیں۔ آپ اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔دل چاہتا ہے کہ ابھی زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دھنس جائیں مگر۔۔۔‘‘اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے مزید کہا
’’ مگر حجاب زندگی یہ نہیں ہے۔ زندگی تو نام ہی کسوٹی کا ہے۔ایک کے بعد ایک کسوٹی انسان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔اور سب سے بڑی کسوٹی نکاح ہے اور اس کا نبھانا ہے۔‘‘ اس نے پیار سے اس کاچہرہ اپنی طرف کیا
’’تم جانتی ہو حجاب شادی کے بعد ہمیشہ ایک لڑکی کو ہی پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ اسے ہی تنگ و د و کرنی پڑتی ہے۔اسے اپنا بنانے کے لئے ہمیشہ اُس کی ہاں میں ہاں ملانی پڑتی ہے ۔ تم جانتی ہوحجاب! ایک شوہر کبھی یہ پسند نہیں کرنا کہ اس کی بیوی اس پر ہمیشہ حکم چلاتی پھرے ۔ اسے ہمیشہ ایسی بیوی پسند ہوتی ہے جو اس کی ہاں میں ہاں ملائے ۔ اس کے ہر حکم کو بن کہے بجا لائے۔ ایسی ہی بیویاں ہوتی ہیں جو ایک وقت آتا ہے اپنے شوہروں کی آنکھوں کا تارا بنتی ہیں۔ایک مرد کوکبھی چِت نہیں کیا جاسکتا ماسوائے محبت کی مار کے۔مرد کی ذات میں ہمیشہ ایک تشنگی برقرار رہتی ہے۔دنیا کی کوئی شے اس تشنگی کو ختم نہیں کر سکتی ماسوائے عورت کی محبت کے۔ایک مرد کو ہمیشہ محبت کے زریعے ہی پچھارا جا سکتاہے اور اپنا بنایا جا سکتاہے۔۔‘‘
’’ لیکن محبت بھی تو جب ہی کی جائے گی ناں جب وہ آپ کو اپنے پاس آنے دے۔۔‘‘درد بھرے لہجے میں حجاب نے کہا تھا
’’نہیں حجاب۔وہ محبت نہیں ہوتی محبت تو احساس کا نام ہوتا ہے، ایک دوسرے کی ضروریات کے خیال رکھنے کا نام ہوتا ہے۔بن کہے ایک دوسرے کا دکھ سکھ سمجھ لینے کا نام ہوتا ہے۔‘‘
’’ لیکن آپی! وہ تو مجھے اپنے کسی کام کے ہاتھ ہی نہیں لگانے دیتے۔۔۔‘‘
’’تو کیا ہوا۔۔ تم پھر بھی اس کا ہر کام کرو۔۔ یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہی کہ وہ میرا بھائی ہے بلکہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ تم میری بہن ہو اور ایک بہن ہمیشہ اپنی بہن کو صحیح سیکھ ہی دیتی ہے۔۔‘‘پیار سے اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا
’’ایسا تبھی ہوگا ناں جب عندلیب نامی دیوار ڈھلے گی۔۔‘‘بے رخی سے اس کو برابھلا کہنا شروع کردیا
’’نہیں حجاب۔۔ کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں کہتے۔ ہر ایک نے اپنے اعمال کا جواب دہ خود ہونا ہے۔ جو شخص جو بوتا ہے بعد میں وہی کاٹتا ہے اگر اس نے برا کیا تو وہ برا کاٹے گی مگر تم اس کا برے الفاظ میں ذکر کر کے اپنی زبان کیوں میلی کر رہی ہو۔ زبان سے ہمیشہ محبت اور دعائیہ کلمات نکلنے چاہئے۔‘‘وجیہہ کی باتیں اس کے دل پر آہستہ آہستہ اثر کرنے لگی تھیں۔
٭ ٭ ٭
’’ایک نئے ٹوپک کے ساتھ اگلے ہفتے پھر ملاقات ہوگی تب تک کے لئے اپنے پسندیدہ شو لازوال کے ہوسٹ ضرغام عباسی کو اجازت دیں۔ اللہ حافظ۔۔‘‘آج پہلی بار اسے اللہ حافظ کہہ کر شو کا اختتا م کیا تھا۔ سب اس کے اس انداز پر حیران تھے۔سٹیج سے اترنے کے بعد وہ شہزاد کے پاس آیا اور سب سے روایتی بات چیت میں مصرو ف ہوگیا
’’خیریت تو ہے ضرغام ؟ آ ج کل بہت تبدیلی رونماہوتی جا رہی ہیں تم میں۔۔۔‘‘شہزاد نے چھیڑتے ہوئے کہا تھا
’’ آخر بیوی آئی ہے گھر۔۔ کچھ تو تبدیلی لائے گی ناں۔۔‘‘عنایہ نے بے رخی سے کہا
’’ارے تم کب آئی؟‘‘ضرغام اس کی طرف بڑھنے لگا مگر وہ اس کو اگنار کرتی رہی
’’شہزاد بھائی میرے مارننگ شو کا کیا بنا؟ میں نے کہا تھا ناں کہ میں کچھ دن تک شو نہیں کر سکتی۔۔‘‘ وہ شہزاد صاحب سے گویا تھیں
’’ تم نے مجھے نہیں بتایا؟‘‘ضرغام نے حیرت سے پوچھا تھا
’’ آپ نے بتایا نہیں شہزاد بھائی۔۔‘‘ عنایہ نے ضرغام کو نظر انداز کر دیا
’’ نیو ہوسٹ آئی تو تھی آج ۔۔آڈیشن تو کر لیا ہے اب دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔۔‘‘انہوں نے کچھ حوصلہ دیتے ہوئے کہا
’’ ٹھیک۔۔۔ لیکن ہوسٹ ایسی ہونی چاہئے جو میرے شو کی ریٹنگ گرنے نہ دے۔۔ یہ بات میں صاف صا ف کہہ رہی ہوں۔‘‘اس نے بے باک کہا تھا
’’ اس کی تو فکر ہی نہ کرو۔۔‘‘ شہزاد صاحب نے دلاسا دیا
’’لیکن میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔ ‘‘ اس عنایہ کو کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کرنا چاہا مگر اس نے اس کے ہاتھ جھٹک دیئے
’’اور شمائل نظر نہیں آرہی ۔۔ آپ نے دیکھا ہے اسے۔‘‘جان بوجھ کر ادھر ادھر تانک جھانک کرتے ہوئے کہا
’’ وہ تو نہیں آئی آج۔۔۔‘‘ شہزاد نے کہا
’’ مجھے اس سے ڈریس لینی تھی۔۔‘‘ ا س نے افسوس کرتے ہوئے کہا
’’ میں نے کچھ پوچھا ہے عنایہ؟ ‘‘ اس نے ایک بار پھر اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا تھا
’’اچھا پھر میں اب چلتی ہوں۔۔ ‘‘ اپنا پرس اٹھاتے ہوئے کہا
’’عنایہ۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔‘‘ وہ جھلاتے ہوئے اس کے پیچھا کرنے لگا مگر وہ اس کو اگنار کرتی رہی
’’ کیا ہے۔۔؟‘‘ کار کے پاس پہنچ کر اس نے روکھے اندازمیں پوچھا
’’ تم مجھے اگنار کیوں کر رہی ہو؟آخر کیا کیا میں نے؟‘‘
’’ تم نے تو کچھ نہیں کیا۔۔سب کچھ تو میں نے کیا ہے۔۔‘‘ بناوٹی لہجے میں اس کا مذاق اڑایا
’’ ٹھیک ہے نہیں کرنی تو نہ کرو ۔۔ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم سے بات کرنے میں۔۔‘‘پاؤں پٹختے ہوئے اس نے کار کا دروازہ کھولا اور پھر آناًفاناً وہاں سے غائب ہوگئی۔ضرغام کو عنایہ کی یہ حرکت ذرا پسند نہیں آئی
’’ سمجھتی کیا ہے؟وہ اپنے آپ کو؟ وہ سمجھتی ہے کہ میں کیا اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ جب چاہے نکھرے دیکھائے اور میں برداشت کرتا رہوں گا۔۔ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔‘‘ اس نے زوردار آواز کے ساتھ بیڈ روم کا دروازہ کھولا تھا
’’ ہنہ۔۔ اگر وہ مجھے اگنار کر رہی ہے تو میں کیوں اس کی فکر کروں۔۔۔‘‘ منہ بنا کر اس نے ایک زور دار لات بیڈ کے رسید کی
’’وجیہہ میرے لئے گرین ٹی لاؤ۔۔‘‘وہ بنا ادھر ادھر دیکھے بڑبڑاتا جا رہا تھا
’’اب جب تک وہ مجھ سے بات نہیں کرے گی ناں۔۔۔ تب تک میں ا س سے بات نہیں کرنے والا۔۔‘‘
’’وجیہہ ۔۔۔ ‘‘ وہ چلایا مگر کوئی نہ آیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو وہاں وجیہہ نہیں تھی۔ اس کا لہجہ دھیمہ ہوگیا۔اس نے واش روم میں دیکھا وہ وہاں بھی نہیں تھی
’’ وجیہہ۔۔تم کچن میں ہو؟‘‘کچن مین دیکھا مگر وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ اس کے چہرے ہر پریشانی کی اثرات نمایاں ہوگئے۔
’’ وہ کہیں بھی نہیں ہے۔۔ کہاں جا سکتی ہے مجھے بتائے بنا۔۔‘‘پہلی بار اسے وجیہہ کی کمی کا احساس ہو رہا تھا۔اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اپنا اس کو چھوڑ کر چلا گیا ہو۔
’’امی۔۔‘‘ اس نے دروازہ کھولا تو شگفتہ بی بی کو نمازِ عشاء ادا کرتے ہوئے پایا۔ وہ خاموشی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا اور صوفے پر ایک طرف بیٹھ گیا۔ شگفتہ بی بی نے سلام پھیر کر صوفے پر دیکھا تو ضرغام کو اونگھتے ہوئے پایا۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس گئی اور دم کر کے اس پر پھونکا۔
’’ امی۔۔ آپ نے پڑھ لی نماز۔۔‘‘ماں کی ہونٹوں سے نکلی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
’’خیریت تو ہے یہاں آکر سو رہے ہو؟ طبیعت تو تھیک ہے ناں؟‘‘
’’ طیعت تو ٹھیک ہے۔ میں یہ پوچھنے آیا تھا کہ وجیہہ کہاں ہے؟ نظر نہیں آرہی۔‘‘ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا
’’وہ تو اپنے میکے گئی ہے۔۔‘‘اٹھ کر جائے نماز ایک طرف رکھا
’’میکے؟ مگر اس نے مجھے تو کچھ نہیں بتایا۔۔۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑایا تھا
’’مجھے بتا کر گئی ہے۔تمہارا فون ٹرائے کرتی رہی مگر تمہارا فون آف جا رہا تھا۔‘‘انہوں نے وجہ بتائی ۔ ضرغام نے جینزسے اپنا موبائل نکالا تو وہ واقعی آف تھا
’’ اوہ شٹ۔۔۔ بیٹری پھر ڈاؤن ہوگئی۔۔لیکن امی میرے آنے کا انتظار تو کر سکتی تھی ناں وہ۔۔‘‘اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرے تھے
’’ کچھ نہیں ہوتا بیٹا۔۔ اتنے دنوں کے بعد تو گئی ہے وہ۔۔‘‘
’’ ایسے کیوں کچھ نہیں ہوتا۔۔‘‘ وہ بڑبڑاتا ہوادروازے کے قریب گیا
’’ اب تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘حیرانی سے اس کی طر ف دیکھا
’’اسے لینے جا رہا ہوں۔۔۔‘‘یہ کہہ کر اس نے زوردارآواز سے دروازہ بند کیا۔ ضرغام کی یہ حرکت دیکھ کر انہیں پہلی بار غصے کی جگہ پیار آیا تھا۔اس کے دل میں وجیہہ آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہورہی تھی
’’ خدا دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔۔ دونوں ہمیشہ خوش رہیں۔۔‘‘دل ہی دل میں شگفتہ بی بی نے دعا دی
٭ ٭ ٭
انمو ل میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔تمہیں انصاف سے کام لینا ہوگا۔اب تم پہلے کی طرح آزاد نہیں ہو ۔ تم ایک شوہر ہو اور وہ بھی دو دو بیویوں کے۔۔ تمہیں دونوں کے ساتھ انصاف کے ساتھ کام لینا ہوگا۔عندلیب کے ساتھ ساتھ حجاب کو بھی اس کا حق دینا ہوگا۔۔‘‘انمول ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب وجیہہ نے اس کو سمجھانا شروع کیا۔ شروع میں وہ ہنہ ہاں کرتا رہا مگر بعد میں ا س کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرنے لگے
’’تو میں کیا کروں۔۔۔‘‘اس نے روکھے پن سے کہا تھا
’’ تمہیں عندلیب کے ساتھ ساتھ حجاب کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔صرف تمہارے اوپر عندلیب کا ہی حق نہیں ہے۔ حجاب بھی تمہاری ذات پر ویسا ہی حق رکھتی ہے جیسا کہ عندلیب رکھتی ہے۔تمہیں ان دونوں کو ان کا جائز حق دینا ہوگا انمول۔۔‘‘
’’ اگر نہ دوں تو۔۔‘‘اس نے جھلاتے ہوئے کہا
’’تو تم گنہگار ہوگے۔دیکھو انمول۔دو دو شادیاں کرنا بہت آسان ہے مگر ان کو نبھانا بہت مشکل ۔۔۔اگر وہ شخص جس کی دوبیویاں ہوں اور وہ صرف ایک ہی کی طرف جھک جائے توقیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک جسم کا ایک حصہ جھڑا ہوا ہوگا۔۔‘‘
’’آج پھر نصیحتیں کرنے آئی ہو کیا۔۔‘‘ اس نے کندھے جھٹکتے ہوئے ٹی وی کو بند کیا
’’میں نصیحتیں کرنے نہیں صرف تمہیں سمجھانے آئی ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے کہ سنبھل جاؤ ایک طرف نہ جھکو۔حجاب بھی تمہاری بیوی ہے ۔ اس کو بھی اس کا حق دو۔۔ جس طرح تمہاری محبت کی حقدار عندلیب ہے بالکل اسی طرح حجاب بھی تمہاری بیوی ہونے کے ناطے تمہاری محبت کی دعوی دار ہے۔۔‘‘وجیہہ کی باتیں سن کر اس کے کان پکنے لگے تھے
’’ اگر کوئی اور بات کرنی ہے تو کر و ورنہ چلتی بنو پلز۔۔‘‘اس نے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھاتو اس کی انگلی ضرغام کی طرف جا کر ٹھہر گئی ۔ وجیہہ نے پلٹ کر دیکھا تو دروازے پر ضرغام کھڑا تھا
’’ ضرغام آپ؟‘‘ وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ انمول کی جانب یک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔
’’ اندر آئیں۔۔‘‘ وہ خراماں خراماں آگے بڑھنے لگا مگر نظروں کو انمول کے چہرے کی جانب سے نہیں ہٹایا۔ ایک پل کے لئے انمول بھی ٹھٹک کر رہ گیا اور اپنی نظریں چرا لیں.
’’بے فکر رہو۔۔ میں اسے یہاں سے لینے ہی آیا ہوں۔۔‘‘جبڑے بھینچتے ہوئے کہا
’’ بڑا احسان ہوگا۔۔‘‘ اس نے زیر لب کہا تھا
’’ضرغام آپ یہاں۔۔۔ کیسے آنا ہوا؟‘‘ وہ بات کو بدلنے کی کوشش کرنے لگی
’’وہ تم مجھے بتا کر کیو ں نہیں آئی۔۔ تمہیں پتا بھی ہے جب بھی میں گھر آتا ہوں تو تمہیں دیکھنے کی مجھے عادت ہوگئی ہے اور تم پھر بھی مجھے بغیر بتائے یہاں آگئی۔۔‘‘ وہ ایک پل کے لئے سب کچھ بھول کر آنے کی وجہ بتانے لگا
’’ لیکن امی کو بتایا تو تھا۔۔‘‘‘
’’ امی کو بتایا تھا لیکن مجھے تو نہیں ناں۔۔تم میری بیوی ہو۔ مجھ سے پوچھ کر آنا چاہئے تمہیں۔۔‘‘ اس نے مصنوعی غصہ دیکھا
’’ارے ضرغام بیٹا! تم ؟‘‘ علی عظمت ٹیرس سے آئے تھے
’’ السلام علیکم ابو۔۔‘‘آگے بڑھ کر اس نے ادب سے سلام کیا تو وجیہہ کو بہت اچھا لگا۔ضرغام کو یوں سلام کرتا دیکھ کر انمول جل بھن کر رہ گیا۔
’’تم کب آئے بیٹا! وجیہہ تم نے کھانے پینے کا بندو بست کیا؟‘‘علی عظمت نے وجیہہ سے پوچھا
’’ جی ابووہ۔۔‘‘ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اتنے میں حجاب کچن سے چائے لے کر آموجود ہوئی
’’آپ کی بیٹی تو یہاں آکر سارے کام کرنا بھول گئی اس لئے آپ کی بہو کو ہی مجبوراً چائے بنانا پڑی۔۔‘‘ہنستے ہوئے اس نے چائے سب کو سرو کی
’’آپ نہیں لے گیں ۔۔۔‘‘ سب کو چائے سرو کرنے کے بعد وہ انمول کے پاس گئی مگر اس نے ہاتھ بڑھانا بھی مناسب نہیں سمجھا
’’ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘گردن جھٹکتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا
’’اس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔‘‘ علی عظمت نے انمول کو جاتا دیکھ کر زیر لب کہا تھا
’’ویسے چائے اچھی بنائی ہے آپ نے۔۔‘‘ ضرغام نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا
’’شکریہ۔۔۔اگر پسند آئی تو اور لا کر دوں۔۔‘‘فوراً ایک نئے کپ کی پیشکش کر دی جسے ضرغام نے فورا مسترد کر دیا
’’اب اتنی بھی اچھی نہیں بنائی کہ ایک کپ مزید پی کر اپنے آپ کوشوگر کا مریض کر لوں۔۔۔‘‘اس چٹکلے پر سب ہنس پڑے۔ کافی دیر بات چیت کرنے کے بعد ضرغام اچانک گویا ہوا
’’ تو اب چلیں وجیہہ۔۔۔‘‘اٹھتے ہوئے وجیہہ کو کہا تو وجیہہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
’’ چلیں؟ مگر کہاں؟‘‘
’’ کہاں کا کیا مطلب ہے ؟ گھر نہیں جانا کیا؟‘‘انجان بنتے ہوئے کہا
’’ لیکن آج تو آئی ہوں میں۔۔۔۔‘‘استفہامیہ انداز میں ضرغام کی طرف دیکھا
’’ تو کیا ہوا؟ مل تو لیا ناں سب سے۔۔اب چلتے ہیں۔۔‘‘ ا س کا ہاتھ پکڑ کر لے جانا چاہا تو وجیہہ کو کچھ عجیب سا لگا اس نے فوراً ضرغام کا ہاتھ جھٹک دیا
’’مگر۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی علی عظمت گویا ہوئے
’’ بیٹا! اگر ضرغام ضد کر رہا ہے تو چلی جاؤ ناں۔۔ پھر کبھی آجانا رہنے کے لئے ۔ ویسے بھی شوہروں کی بات ٹالا نہیں کرتے۔۔‘‘ ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
’’ لیکن ابو۔۔‘‘اس کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری تھی
’’ لیکن چھوڑو۔۔ ہمیں کوئی اعراض نہیں ہمارے لئے یہی خوشی کی بات ہے کہ تم اپنے گھر میں خوش ہو۔۔‘‘دونوں کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’چلیں اب ۔۔۔‘‘ ضرغام نے معنی خیز نگاہوں سے وجیہہ کو دیکھا تو اس کی مقناطیسی نگاہوں کی حدت کو برداشت نہ کر سکی اور پلکیں خودبخود جھک گئیں۔
٭ ٭ ٭

’’ پہلے کم تھی مصیبتیں جو تمہاری بہن بھی آموجود ہوئی تھی۔۔‘‘ عندلیب نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا
’’ چلو اچھا ہوا چلی گئی۔۔۔ ورنہ جب تک رہتی نصیحتوں کی بوچھاڑکرتی رہتی۔۔۔ ہنہ۔۔‘‘ لیٹتے ہوئے کہا
’’اچھی بات ہے۔۔ ویسے تم سے ایک بات کرنی تھی کہ۔۔۔‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر انمول نے اس کی بات کو ان سنا کردیا
’’مجھے نیند آرہی ہے۔۔ باقی باتیں کل کریں گے۔۔‘‘انمول کی بات پر وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہی مگر مگر یہ سمجھ کر خاموش ہوگئی کہ شاید وہ تھک گیا ہے مگر وہ تو تھکا نہیں تھا ۔ وہ تو وجیہہ کی باتوں پر سوچ و بچار کر رہا تھا
’’کیا وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔‘‘ اس نے سوچا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں
* * * *
ٖ’’ جلدی کرو دیر ہو رہی ہے۔۔‘‘لپ لائینر لگاتے ہوئے وہ ایک ثانیے کے لئے رکی اور انمول کو تنبیہہ کر کے دوبارہ لپ لائینر لگانے میں لگی۔
’’آرہا ہوں۔۔تھوڑا سا انتظار تو کرو۔۔۔‘‘واش روم سے انمول کی آواز آئی تھی
’’آرہا ہوں۔۔‘‘ ہاتھ روک کر اس نے تمسخرانہ کہا اور دوبارہ لپ لائینر چیک کی۔دونوں ہونٹوں کو مس کر کے اس نے لپ لائینر کو سیٹ کیا۔ اس ے بعد آنکھوں میں کاجل لگانے لگی
’’یار عندلیب یہ شرٹ بٹن کا ٹوٹ گیا ہے۔ذرا ٹانکا لگا دو۔۔۔‘‘واش روم سے باہر آیا تو وہ اپنا بٹن ہاتھ میں لئے ہوئے تھا۔ اس کے گریبان کو ایک بٹن ٹوٹا ہوا تھا
’’میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔ تم خود لگا لو۔۔‘‘اس نے بے نیازی سے جواب دیا
’’کیا کہا تم نے میں خود لگاؤں۔۔؟؟‘‘اس نے حیرت سے عندلیب کی طرف دیکھا
’’تو اس میں بڑی بات کیا ہے؟خود لگا لو یا پھر کوئی اور شرٹ پہن لو۔۔‘‘اس نے جھلا کر کہاتو انمول کو ایک پل کے لئے غصہ آیا مگر اس نے اپنے آپ کو کنٹرول کیا
حجاب ادھر آؤ۔۔‘‘ اس نے دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں سے حجاب گزر رہی تھی ۔ اس نے عندلیب کو جلانے کی خاطر اسے وہاں بلایا
’’ میں؟؟‘‘ اسے یقین نہیں آیا کہ انمول نے اسے بلایا تھا ۔ اس نے باہر سے ہی تصدیق چاہی تھی
’’ہاں تم۔۔۔ ادھر آؤ۔۔‘‘ اس نے ترچھی نگاہوں سے عندلیب کی طرف دیکھا جو اپنے میک اپ میں محو تھی
’’ جی۔۔‘‘ اس نے نیچی نظروں سے پوچھا تھا
’’میرا یہ بٹن لگاؤ۔۔‘‘اس کے ہاتھ میں بٹن پکڑاتے ہوئے اس نے کہا۔ بٹن کو پکڑتے ہوئے حجاب کے ہاتھ کانپنے لگے
’’ مم مم میں؟‘‘
’’ کیوں تمہیں لگانا نہیں آتا؟‘‘عندلیب نے دونوں کو لمحہ بھر کے لئے گھورا
’’نن نہیںآتا۔۔ ‘‘ہکلاتے ہوئے اس نے کہا تھا
’’ تو پھر لگاؤ۔۔۔‘‘حجاب نے دراز سے سوئی دھاگا لیا اور شرٹ پہنے ہوئے ہی بٹن ٹانکنے لگی۔عندلیب دونوں کو گھورتی رہی مگر انمول کو کوئی فرق نہ پڑا۔ وہ بے دھیانی سے سامنے دیوار کی طرف دیکھتا رہاجبکہ حجاب کی خوشی کاتو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ آج پہلی بار وہ انمول کا کوئی کام اپنے ہاتھوں سے کر رہی تھی۔
’’ یہ لیجیے۔۔‘‘ بٹن ٹانکنے کے بعد وہ پیچھے کوہٹی او ر سوئی دھاگا واپس دراز میں رکھا
’’ شکریہ۔۔‘‘بٹن کو چیک کرتے ہوئے انمول نے کہا تھا۔ یہ سنتے ہی وہ باہر کو چل دی
’’تمہیں کیا ضرورت تھی اُس سے بٹن لگوانے کی؟‘‘حجاب ابھی دروازے سے دو قدم ہی ہٹی تھی کہ عندلیب کی آواز کان میں گونجی
’’ وہ میری بیوی ہے ، میری مرضی میں اس سے جو چاہے کام کرواؤں۔۔‘‘اس جملے نے تو اس کو ہوا میں اڑانے کا کام کیا۔ چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ چھاگئی۔وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو دیکھا
’’ مرد ہمیشہ محبت کی مار ہی کھاتا ہے۔‘‘وجیہہ کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگی

٭٭٭٭
ناول ابھی جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 63954 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
30 Aug, 2017 Views: 543

Comments

آپ کی رائے