لازوال قسط نمبر 17

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

’’کب آئے گا تمہارا وہ دوست؟‘‘دونوں کو وہاں بیٹھے تقریباً ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔
’’ بس آنے ہی والا ہے۔۔‘‘ عندلیب بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی اور پھر پارکنگ ایریا پر نظر دوڑاتی جو ان کی ٹیبل کے سامنے ہی تھا۔ انمول کو انتظار کرتے کرتے تھکان ہو چکی تھی۔وہ اب آرام کرنا چاہتا تھا مگر عندلیب کے بار بار کہنے پر وہاں رکا رہا
’’دیکھو تم پچھلے بیس منٹو ں یہی کہہ رہی ہو۔۔‘‘انمول نے جھلاتے ہوئے کہا اور کھڑا ہو کر ایک طرف کو چلاگیا
’’ بس پانچ منٹ مزید ۔۔۔ وہ بس آتا ہی ہوگا۔۔‘‘ اس نے انمول کو منانے کی بجائے انتظار پر اکتفا کیااور وہیں بیٹھی پارکنگ ایریا کی طرف دیکھتی رہی
’’جلدی آجاؤ پلز۔۔۔‘‘ اس نے دل میں کہا تھا اتنے میں ایک کار نے پارکنگ ایریا میں آکر بریک لگائی۔ عندلیب پچھلے ایک گھنٹے میں پہلی بار کھڑی ہوئی ور انمول کی طرف بڑھنے کی بجائے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھی
’’ وہ آگیا۔۔‘‘اس نے زیر لب کہا مگر انمول نے سن لیا اور فوراً پلٹا۔ایک خوبرو شخص کار سے اترا اور ان کی ٹیبل کی جانب بڑھنے لگا۔انمول اور عندلیب کی نظریں اس آنے والے کے اوپر تھیں۔ سکائے بلیو شرٹ اور کریمی رنگ کی ڈریس پینٹ میں ملبوس وہ ہاتھوں سے اپنے بال کو سیٹ کرتا ہوا بالکل ان کے قریب آپہنچا
’’ہیلو ڈئیر!‘‘ آتے ہی اسے عندلیب سے ملنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تھے ۔ جسے عندلیب نے فوراً قبول کرلیا اور گرمجوشی سے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر ہلکا سا جھولایا۔ انمول یک ٹک اسے دیکھتا جا رہا تھا۔ آج تک اس نے صرف اپنے آپ کو ہی حیسن مانا تھااور سب کو اپنے سے کم تر لیکن اس آنے والے میں تو حسن اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھا
’’کہاں تھے تم اتنا عرصہ فہیم؟‘‘ جھٹ اس نے سوال داغا تھا
’’ بس کالج کی ایجوکیشن ابھی ختم ہی کی تھی کہ موم ڈید کے اصرار پر میں امریکہ چلا گیا پھروہاں سے کینیڈااور پھر دبئی بس کچھ دن پہلے ہی واپس آیا تھا کہ مہتا ب اور منیر سے ملاقات ہوگئی اوراُن سے تمہارے بارے میں سنا اس لئے تم سے ملنے چلا آیا۔لیکن تم بتاؤ تمہیں تو بڑی ہی جلدباز نکلی ۔۔ کچھ عرصہ تک میرا انتظار نہیں کرسکی۔ جھٹ شادی کروا لی۔۔‘‘وہ دونوں انمول کی موجودگی کو فراموش کر چکے تھے
’’بس کیا کروں۔۔ تم نے توپلٹ کر میری طرف دیکھا ہی نہیں بندہ فون پر ہی رابطہ قائم کرلیتا ہے مگر تمہیں تو وہاں جاکر جیسے پر لگ گئے تھے۔ مجھے تو بھول ہی گئے پھر بھلا میں کیوں تمہارا انتظار کرتی؟‘‘اس نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوئے کہا
’’ ویسے کہاں ہیں تمہارے میاں نامدار؟‘‘
’’اوہ۔۔۔ میں تو بھول ہی گئی۔۔‘‘ انمول کی جانب بڑھ کی’’ یہ ہیں میرے انمول۔۔ میرے شوہر۔۔‘‘اس کے لہجے میں انتہا کا تکلف تھا ۔ جیسے وہ اس کے سامنے اپنی بڑئی جتلارہی ہو
’’ہیلو۔۔آئی ایم انمول۔۔‘‘انمول نے بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھائے تو مجبوراً اسے بھی مصافحہ کرنا پڑا۔
’’ ویسے برا ماننے کی تو کوئی بات نہیں ہے عندلیب ۔۔۔میں ا ب بھی تمہارے شوہر سے زیادہ حسین ہوں۔‘‘ اس نے فرضی کالر کھڑے کئے
’’ یہ تو تم نے بالکل ٹھیک کہا بھلا تمہارا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے؟‘‘عندلیب نے معنی خیز لہجے میں کہا اور پھر دونوں ٹیبل جا بیٹھے۔ انمول نے ایک ثانیے کے عندلیب کو گھورا اور پھر چپ چاپ دونوں کے ساتھ ٹیبل پر جا بیٹھا ۔ وہ دونوں آپس میں بات چیت کے دوران انمول کو مسلسل نظر انداز کر رہے تھے۔ ایسا زندگی میں پہلی بار ہوا تھا کہ انمول کسی محفل میں تھا اور اس کے وجود کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی تھی۔ یہ بات اس کے لئے نہایت بے عزتی کی تھی
’’ویسے انمول تم نے اچھا نہیں کیا میری عندلیب کو مجھ سے چرا کر۔۔‘‘بظاہر وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھامگر ا س کی بات کمان سے نکلے تیر کی طرح اس کے دل پر لگ رہی تھی
’’میں کسی دوسرے کی چیزپر قابض نہیں ہوتا ہمیشہ وہی لیتا ہوں جو میرا اپنا ہوتا ہے۔‘‘جلے کٹے لہجے میں کہا
’’لگتا ہے ہمارے یہاں ہونے سے آپ جل رہے ہیں؟‘‘تمسخرانہ کہا
’’ کیا بات کر رہے ہو فہیم؟بھلا انمول تم سے کیوں جلنے لگا؟‘‘اس سے پہلے کہ انمول کچھ کہتا عندلیب نے بات کو رفع دفع کیا
’’بھئی۔۔اس سے زیادہ خوبرو جوان اس کی بیوی سے بات کررہا ہے۔ جلن کا پیدا ہونا تو یقینی امر ہے۔۔‘‘ قہقہ لگاتے ہوئے کہا
’’جی نہیں! میرا انمول اتنا نیرو مائنڈڈ نہیں ہے۔۔‘‘جھٹ اس نے تردید کر دی
’’اچھا جی! چلو انمول تم ہی بتاؤ کیا میرے اس طرح بے تکلف ہونے پر تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔۔‘‘ اس نے انمول کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ نہیں۔۔‘‘ بناوٹی لہجے میں جواب دیا
’’بس میں نے کہا تھا ناں۔۔!!‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے عندلیب نے کہا
’’ یہ تو اور بھی اچھی بات ہے پھر تو مجھے تم سے بات کرنے میں کوئی آڑمحسوس ہی نہیں ہوگی۔ ‘‘ اپنا ہاتھ عندلیب کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔ جسے دیکھ کر انمول کے تن میں جیسے آگ بھڑک اٹھی۔ د ل چاہا ابھی اس کا گلا دبوچ ڈالے مگر اپنے غصے کو کنٹرو ل کرتے ہوئے وہ صرف اپنی مٹھیاں ہی بھینچ سکا
’’ویسے بندے کو براڈ مائنڈڈ ہی ہونا چاہئے ۔۔ یہ کیا اپنی بیوی کو صرف اپنی ہی ملکیت سمجھتا رہے بندہ ۔ آخر دوستوں کا بھی تو کوئی حق ہوتا ہے ناں۔۔‘‘وہ اپنی انگلی عندلیب کے ہتھیلی پر پھیرتے ہوئے کہہ رہا تھاجو انمول کے ناقابل برداشت تھا
’’میرے خیال سے اب ڈنر شروع کر دینا چاہئے کیوں عندلیب؟‘‘ اس نے جبڑے بھینچتے ہوئے بناوٹی مسکراہٹ کو لبوں پر بکھیرتے ہوئے کہا
’’بالکل ٹھیک۔۔‘‘ عندلیب نے فہیم کی طرف دیکھا تو اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
’’تو پھر کیا کھانا پسند کریں گے آپ؟‘‘انمول کا لہجے ابھی بھی بناوٹی تھا
’’جو میری جان جگر کھانا پسند کریں گی۔۔‘‘ فہیم نے رومانوی انداز میں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری۔جو انمول کے بھڑکتے وجود پر تیل کا سا کام کرنے لگا
’’جانِ جگر؟‘‘جبڑے بھینچتے ہوئے اس نے زیر لب کہا تھا
’’ہان جان جگر ۔۔ کالج میں میں عندلیب کو جان جگر ہی کہا کرتا تھا۔۔‘‘اس نے بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنا راز افشاں کیا۔ عندلیب بھی حسرت کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہی تھی
’’وہ لمحے بھی کیا لمحے تھے۔۔۔‘‘ سرد آہ بھرتے ہوئے ماضی کی یادوں میں کھوتے ہوئے کہا
’’بہت یاد آرہے ہیں آج تم دونوں کو ماضی کے وہ دن۔۔‘‘طنزیہ انداز میں انمول نے کہا تھا
’’ہاں۔۔ یاد تو بہت آرہے ہیں۔۔‘‘ اتنے میں ویٹر اکھانا سرو کر کے چلاگیا۔ عندلیب نے ہاتھ قورمے کی پلیٹ کی طرف بڑھایا۔ اور پھر اپنے ہاتھوں سے کھانا فہیم کو سرو کیا
’’کاش وہ دن لوٹ آئیں جب ہم ایک ہی پلیٹ میں لنچ کیا کرتے تھے۔۔ ‘‘ فہیم نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا
’’ کر تو اب بھی سکتے ہیں۔۔ ‘‘عندلیب کے اس جملے پر انمول اپنا آپا کھو بیٹھا تھا۔ اس نے ہڑبڑاتے ہوئے پانی کا گلاس ٹیبل پر گرادیا جو ریستا ہوا انمول کی ہی پینٹ پر آگرا
’’اوہ۔۔ آئی ایم سوری۔۔میں ابھی آتا ہوں۔۔‘‘ بناوٹی انداز میں کہہ کر وہ فوراً اٹھ کر چلا گیا۔
’’ ویسے اس بہانے ہمیں اکیلے بات کرنے کا موقع مل گیا۔۔‘‘ فہیم کی آواز نے اس کی آنکھوں کو مزید دہکا دیا۔وہ واش روم میں جانے کی بجائے سیدھا پارکنگ ایریا کی طرف گیا اور گھر چلاآیا
٭ ٭ ٭
عندلیب کا فہیم کی قربت میں رہنا انمول کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا اور اس رات ڈنر سے بنا بتائے انمول کا واپس چلا آنا بھی عندلیب کو پسند نہ آیا۔دونو ں میں اس بات کو لے کر آئے دن تکرار ہونے لگی
’’لمٹ میں کراس نہیں کر رہی آئی بات سمجھ میں۔۔ وہ میرا دوست ہے اور کچھ نہیں ۔ ‘‘نائیٹ ڈریس میں وہ ابھی واش روم سے ہی نکلی تھی کہ اس نے انمول کی باتوں کا جواب دینا شرو ع کردیا۔ انمول بڑے ہی دھیمے لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا کہ فہیم سے دور رہنا چاہیے مگر اس نے بات کا الٹا مطلب نکالا
’’کیا کہا دوست؟ اُس رات وہ دوستوں کی طرح بات کر رہا تھا؟ تمہاری ہتھیلی پر انگلی پھیرنا اور پھر تمہیں جانِ جگر کہنا۔۔ دوستی میں ہی سب کچھ ہوتا ہے کیا؟‘‘ بیڈ پر دھڑام سے بیٹھتے ہوئے کراخت لہجے میں کہا تھا
’’ دیکھو۔۔ مجھ سے اونچی آوازمیں بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اونچا مجھے بھی بولنا آتا ہے اور تم کیا اس کے اور میرے بیچ کے رشتے کو لے کر بیٹھ گئے ہو۔ وہ میرا ایک اچھا دوست ہے اور بس ۔۔۔ تم کیوں مڈل کلاس شوہروں کی طرح شک کر رہے ہو؟‘‘بے رخی دیکھاتے ہوئے وہ اس کے ساتھ بیڈ پر آبیٹھی اور اس کی پشت انمول کی جانب تھی
’’کیا کہا تم نے مڈل کلا س شوہر۔۔۔میں تمہیں مڈل کلاس شوہر لگتا ہوں؟ اگر مڈل کلاس شوہر بن کر دکھایا ناں تو تمہارے اندر اتنی ہمت بھی نہیں رہے گی کہ گھر سے باہر قدم بھی رکھ سکو۔۔‘‘
’’اس کے علاوہ تم کر بھی کیا سکتے ہو۔۔لیکن ایک بات یاد رکھنا میں فہیم سے ہمیشہ ملتی رہوں گی۔ چاہے تمہیں اچھا لگے یا برا۔۔‘‘ اس نے پلٹ کر عجلت سے کہا اور پھر تکیہ کانوں پر رکھ کر لیٹ گئی
’’میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم کیسے ملتی ہو اس سے؟‘‘ لائیٹ آف کر کے وہ بھی جھٹکے سے بیڈ پر اس کی جانب پشت کئے لیٹ گیا۔ دونوں کی آنکھوں میں بے اعتنائی چھلک رہی تھی۔ محبت و انس نامی مادہ کہیں کھو کر رہ گیا تھا۔
’’ ہنہ۔۔‘‘ گردن جھٹکتے ہوئے عندلیب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں
٭ ٭ ٭
’’ کل آپ دونوں کا جھگڑا ہوا تھا۔۔‘‘ْ حجاب کھانے کی میز پر انمول کو بریڈ اور چائے سرو کر رہی تھی۔ اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی مگر وہ ابھی تک غصے میں تھا اور حجاب کی بات پر مزید چڑ گیا اور عندلیب کا غصہ اس پر اتارنے لگا
’’تمہیں اس سے مطلب؟اپنے کام سے کام رکھاکرو۔۔‘‘کراخت لہجے میں جواب دیا اور چائے کا کپ ایک آواز کے ساتھ ٹیبل پر رکھا
’’سوری میرا ارادہ آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا میں تو بس یہی کہنا چاہتی تھی کہ آپس میں جھگڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ صرف دوریاں بھی بڑھتی ہیں ۔اگر عندلیب کی کوئی بات آپ کو اچھی نہیں لگی تو آپ کو برداشت کرنا چاہئے تھا۔اسے جھڑکنا نہیں چاہئے تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جو کسی کی کوئی بات برداشت کر سکے۔کچھ لوگ صرف محبت کی زبان ہی سمجھتے ہیں۔آپ کو بھی محبت بھرے لہجے میں اسے سمجھانا چاہئے تھا۔‘‘حجاب کی باتوں پر اسے غصہ ضرور آیا مگر سچ یہی تھا۔ خاموشی سے ناشتہ کرتے ہوئے وہ حجاب کی باتوں کو سنتا جا رہا تھا۔
’’دیکھیں!میاں بیوی کا رشتہ صرف محبت سے جڑا ہوتا ہے ۔ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جو صرف پیار و محبت کے ذریعے ہی سلجھائے جا سکتے ہیں۔آپ کو بھی ایک بار یہ طوراپنانا چاہئے ‘‘یہ کہہ کر وہ کچن میں چلی گئی اور وہ خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا
٭ ٭ ٭
’’آپ کا بہت بہت شکریہ! آج آپ کی بدولت ۔۔۔‘‘اس کی آواز بھر آئی تھی
’’ نہیں آئینہ۔۔۔اس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔۔۔بس آئندہ دھیان رکھنا۔‘‘وجیہہ اس کے ساتھ کرسی پر بیٹھی تھی جبکہ شگفتہ بی بی ان کے سامنے بیٹھی تھیں
’’دیکھو بیٹا!عورت کی خوبصورتی اس کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ اس خوبصورتی کا اصل حق دار اس کا شوہر ہوتا ہے لیکن اگر وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور پر اپنی خوبصورتی کو عیاں کرتی ہے تو نتائج انہی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ دیکھو بیٹا!مرد ہمیشہ انہی لڑکیوں کے قرابت میں خود کو عیاں کرتے ہیں جو اُن کے سامنے اپنے وجود کو عیاں کرتی ہیں۔ایک مرد کا قدم پھسلانے میں سب سے اہم کردار خود ایک عورت ہی کرتی ہے۔جب جب عورت کسی نامحرم کے سامنے اپنے جسم کے کسی بھی حصے کوعیاں کرتی ہے تب تب وہ جسم کا حصہ اس نامحرم کے دل میں ایک حرص کو جنم دیتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ حرص زور پکڑلیتی ہے اور پھر گناہ جنم لیتاہے۔‘‘ شگفتہ بی بی نے ا حسن انداز سے اس کو سمجھایا تھا
’’جی آنٹی ۔۔آپ نے ٹھیک کہا۔ساری غلطی ہی میری تھی ۔ وجیہہ نے اس دن مجھے تنبیہہ بھی کی تھی مگر میں اتنی نادان تھی کہ ڈھکے چھپے الفاظ کا مطلب نہیں سمجھ سکی۔لیکن اب سمجھ چکی ہوں۔ اب ہمیشہ خیال رکھوں گی۔‘‘
’’ مجھے خوشی ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔۔‘‘وجیہہ نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے کہا
’’اور اب آپ کی کہی گئی ہر نصیحت پر عمل کروں گی۔۔‘‘ اس بات پر وجیہہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی
’’آپ جیسی لڑکیاں ہی اس معاشرے کااصل سرمایہ ہیں۔‘‘
’’ اور تم جیسی نوجوا ن لڑکیاں اس معاشرے کی ضرورت۔۔ مجھے امید ہے کہ اب تم اپنے دائرے میں رہ کر کام کرو گی۔۔‘‘ یہ سن کر اس نے اثبات میں سر ہلادیا
٭ ٭ ٭
’’ضرغام! یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔‘‘وہ اپنے ہاتھ میں موبائل میں تصویروں کودیکھتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی
’’تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘اس نے موبائل کو صوفے پر اچھال دیا اور آنکھیں بند کر کے صوفے سے ٹیک لگالی۔
’’ تم صرف میرے ہو اور میرے علاوہ کسی کا کوئی حق نہیں پہنچتا تمہیں چھونے کا۔۔‘‘ وہ بڑبڑاتی جا رہی تھی
’’اگر تم سیدھی طرح میرے نہ ہوئے تو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔مجھے صرف تم چاہئے صرف اور صرف تم۔۔۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور وارڈروب کی طرف بڑھ کی ایک ڈائری نکالی
’’ مجھے تمہاری کمزوری اچھی طرح معلوم ہے۔۔۔ تم چاہ کر بھی مجھ سے دور نہیں جا سکتے ضرغام۔۔‘‘اس کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔ وہ ڈائری کے ورقوں کو پلٹی جا رہی تھی اور مسکراتی جا رہی تھی۔کافی دیر ورقے پلٹنے کے بعد بھی اسے مطلوبہ نمبر نہ ملاتو ڈائری کو فرش پر دے پھینکا اور ایک دوسری ڈائری نکا ل کر اس میں کچھ ڈھونڈنے لگی
’’کہاں گیا۔۔۔!!‘‘ پیشانی پر شکن نمودار ہوگئے مگر اس نے ہار نہیں مانی تھی۔ ایک ایک ورق کو اچھی طرح جانچا اور آخر کار اسے ایک فون نمبر مل ہی گیا۔اس نمبر کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری
’’ بس اب تمہیں میرا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔۔‘‘وہ صوفے کی طرف بڑھی اور فون اٹھا کر نمبر ڈائل کیا۔ بیل کی آواز دوسری طرف سے واضح طور پر سنائی دے رہی تھی
’’ ہیلو۔۔ آئی ایم مسٹر کاشف۔۔‘‘ دوسری طرف سے تعارف کروایا گیا تھا
’’ ہیلو مسٹر کاشف میں عنایہ بول رہی ہوں۔۔۔‘‘ڈائری کو ایک طرف پھینکا اور خود صوفے پر بیٹھ کر فون پر باتیں کرنے لگی۔باتیں کرنے کے دوران اس کے چہرے پر ایک عجیب سے کشش تھی ۔
٭ ٭ ٭
’’ضرغام کو اگنار کیا تھا ناں تم نے ضرغام کو۔۔۔ اب تمہیں پتا چلے گا کہ ضرغام عباسی کو اگنار کرنے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔۔‘‘ اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے ہاتھوں کو سر کے نیچے رکھے ہوئے تھا
’’اب تم خود میرے پاس چل کر آؤ گی عنایہ۔۔۔‘‘آنکھیں بند کیے وہ بڑبڑارہا تھا
’’ آپ نے کچھ کہا؟‘‘وجیہہ کی آواز پر وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔وہ ابھی ابھی کمرے میں آئی تھی۔ہاتھوں میں پانی کا جگ تھا۔ جسے اُس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا
’’ میں نے تو کچھ نہیں کہا۔۔ تم یہاں آکر بیٹھو ذرا۔۔۔‘‘وہ جیسے ہی جگ رکھ کر پلٹنے لگی تو ضرغام نے رومانوی انداز میں اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور آہستہ سے کھینچ کر اپنی طرف کیا
’’چھوڑیں پلز۔۔۔‘‘ اس نے شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی
’’سوچ لو۔۔۔ یہ تو تم بھی جانتی ہو اسلام کیا کہتا ہے۔ شوہر اگر بلائے اور بیوی نہ آئے تو۔۔۔‘‘ اس نے بڑے ہی معنی خیز انداز میں وجیہہ سے کہا تھا۔ وجیہہ ضرغام کی اس بات کو سن کر ٹھٹک کر رہ گئی۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ابھی نافرمانی کرنے لگی تھی مگر ضرغام نے اسے بچا لیا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اس کے پاس آبیٹھی
’’میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں آج ساری رات تم سے باتیں کروں۔۔‘‘
’’ اچھا جی! اگر ساری رات باتیں کریں گے تو سوئیں گے کب؟‘‘ترچھی نظروں سے اس نے ضرغام کی طرف دیکھا
’’ کہہ توٹھیک رہی ہو۔۔۔چلو ادھر تو آؤ ناں پہلے۔۔‘‘ اس نے وجیہہ کو اپنے ساتھ بٹھایا ۔ اور اپنا بازو وجیہہ کی کمرکے پیچھے سے حمائل کر لیا ۔ وجیہہ نے بھی اپنا سر ضرغام کے کندھے پر رکھ لیا
’’وجیہہ تم جانتی ہومیں مجھے ہمیشہ سے رومانس پسند ہے۔بچپن سے آج تک ہمیشہ رومینٹک فلمیں ہی پسندیدہ رہی ہیں۔‘‘اس نے پہلی بار اپنے دل کی بات کہی تھی
’’لیکن ضرغام یہ تو کھلے عام فحاشی ہے۔بے حیائی ہے۔چار دیواری میں ہونے والی باتوں اور احساسات کو پوری دنیا کے سامنے بیاں کرنی اچھی بات نہیں ہوتی۔ اس سے تو ہمارا دین بھی منع کرتا ہے۔‘‘ ا س نے پلٹ کر کہا
’’خیر جو بھی ہو میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں۔ میں بس اسی طرح ساری رات گزارنا چاہتا ہوں۔۔‘‘وجیہہ نے تھوڑا ساترچھا ہو کر ضرغام کے چہرے کی طرف دیکھا ۔جو یک ٹک دیوار کی طرف دیکھ رہا تھا پھر اس نے دوبارہ اپنا سر ضرغام کے کندھے پر رکھ لیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ کافی دیر یونہی گزر گئی۔ دونوں نے کوئی حرکت نہ کی۔ضرغا م کی نظروں نے وجیہہ کے وجود کو دیکھا جو بے جان سا پڑا تھا۔ اس نے اپنی نگاہوں سے وجیہہ کے چہرے کو ٹٹولا جو گہری نیند میں تھا۔ یہ دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھائی ۔ اس نے آہستہ نے بائیں طرف رکھے موبائل کو اٹھایا اور چند تصاویر بنا کر سینڈ کیں۔ پھر آہستہ سے وجیہہ کا چہرہ سرکا کر سرہانے رکھا
’’اب ہوا میرا کام پورا۔۔۔‘‘ ہاتھوں کو جھاڑتا ہوا اٹھا اور دروازہ بند کر کے باہر چلاگیا
٭ ٭ ٭
رضیہ بیگم کی حالت سدھرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ہرگزرتا دن ان کے کمر درد میں شدت پکڑتا جا رہا تھا۔اب تو تھوڑا سا چلنے میں بھی انہیں تھکان ہونے لگتی تھی۔حجاب اپنی تئیں پوری کوشش کر رہی تھی انہیں آرام پہنچانے کی مگر اولاد کی طرف سے دیئے گئے دکھ کا مداوا بھلا کون کر سکتا ہے؟
’’ علی عظمت! انمول کو کبھی اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟‘‘ ایک رات جب حجاب انہیں دوا دے کر چلی گئی تو کروٹ بدلتے ہوئے انہوں نے کہا تھا
’’ امید کی جاسکتی ہے۔۔‘‘سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا
’’ویسے وجیہہ ٹھیک کہتی تھی، میرے ہی لاڈ پیار نے اسے بگاڑا ہے ، میری ہی غفلت نے اسے آج مجھ سے دور کر دیا ہے۔ نہ میں اسے اتنا دنیا کے قریب رکھتی ، نہ وہ دنیا میں اتنا کھوتا۔۔‘‘ آنکھوں سے اشک بن بلائے مہمان کی طرح بہنے لگے
’’اب کیا کیا جا سکتا ہے؟جو ہونا تھا سو ہوگیا۔۔‘‘
’’ لیکن ایک بات کی خوشی ہے کہ کم سے کم وجیہہ تو صحیح راستے پر ہے۔ امی کی پرورش کی بدولت ہمارا مان تو رکھتی ہے۔اگر وہ بھی میرے پاس رہتی تو شاید آج وہ بھی۔۔‘‘ ان کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں
’’ یہ کیا بیگم۔۔ آپ اتنی بذدل نکلیں۔۔۔!!‘‘ ان کے قریب ہوتے ہوئے شانوں پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا
’’بذدل ہی تو ہوں میں جو اپنے بیٹے کو صحیح راستے پر نہ لا سکی۔۔ صحیح پرورش نہ کر سکی۔ ہمیشہ امی کو برا بھلا کہتی رہی کہ انہوں نے ہماری وجیہہ کو ہم سے دور کر دیا ہے ۔ ہمیشہ انہیں ہی کوستی رہی۔ یہ تک نہ سمجھ سکی کہ انہوں نے اسے ہم سے دور نہیں بلکہ ہماری روح کے قریب کیا ہے۔‘‘ آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے
’’بیگم۔۔ حوصلہ رکھو۔۔یہ وقت رونے کا نہیں ہے‘‘ وہ مسلسل ان کا شانہ تھپتھپا رہے تھے
’’امی مجھے معاف تو کر دیں گی ناں۔۔‘‘انہوں نے ہچکیاں بھرتے ہوئے علی عظمت کی طرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھا
’’ ہاں۔۔ ضرور۔۔‘‘ انہوں نے اثبات میں سرہلاتے ایک بار پھر اس کو دلاسا دیا
٭ ٭ ٭
انمول نے کئی بار کوشش کی کہ وہ حجاب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عندلیب سے بات کرنے کی کوشش کرے مگر عندلیب اسے کوئی موقع ہی نہیں دے رہی تھی۔ وہ جب جب اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ۔ وہ جانے انجانے میں فہیم کا ذکر کر کے انمول کے غصے کو ہوا دے دیتی اور بات بات پر یہ جتلانے کی کوشش کرتی کہ اس نے فہیم جیسے خوبرو شخص کا انتظار نہ کرکے غلطی کی ہے
’’ یہ تم بار بار میرے سامنے اس فہیم کا نام مت لیا کرو۔۔‘‘اس نے آج دو ٹوک کہہ دیا تھا
’’کیوں نہ لوں نام اُس کا؟ میں لونگی۔۔ وہ میرا دوست ہے اور ہمیشہ رہے گا اور دوست ہونے کے ناطے میں ہمیشہ اس کا نام لیتی رہونگی ۔‘‘ انمول کی باتوں ہر وہ مزید بھڑک جاتی
’’تو پھر جا کر اس کے ساتھ ہی کیوں نہیں رہ لیتی۔۔ میرے ساتھ یوں رہنے کا کیا جواز بنتا ہے۔۔‘‘محبت کا رنگ اترنا شروع ہوگیا تھا۔ چار دن کی چاندنی کے بعد اندھیری رات نے ان دونوں کی زندگیوں میں قدم رکھ لیا تھا۔انمول تو اس اندھیری رات میں بھی چراغ ڈھونڈنے کی سعی کر رہا تھا مگر عندلیب تو جیسے سارے دیئے ہی بجھا دینا چاہتی تھی۔کوئی ایک دیا بھی جلتا رہے ایسا وہ چاہتی ہی نہیں تھی۔ اسی لئے انمول کی برابری کرتی رہی۔ وہ جس بات سے چڑتا ۔ بڑھ چڑھ کر وہی بات ، وہی کام اس کے سامنے کرتی
’’میں تو کب کی چھوڑ کر بھی چلی جاتی تمہیں اگر ۔۔۔‘‘کچھ مجبوریاں تو جو اس کو حد سے تجاوز کرنے سے روکتی تھی۔وہ مجبوری میکہ کی مجبوری تھی۔ اس کے ڈیڈ کی مجبوری تھی
’’اگر کیا؟ ‘‘ انمول نے جھلاتے ہوئے پوچھا تھا
’’اگر میں پہلے اس سے رشتے کے لئے ناں نہ کرتی تو۔۔۔‘‘اتنا بڑا سچ سن کر تو جیسے اس کے سر پر کسی نے بم پھوڑا تھا۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتا جا رہا تھا۔اور وہ آنکھیں پھیرے آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی
’’ کیا کہا تم نے؟تم پہلے اس سے شادی کرنے والی تھی؟‘‘انمو ل نے عندلیب کے شانے جھنجوڑتے ہوئے پوچھا تھا
’’ ہاں۔۔کرنے والی تھی اُس سے شادی۔۔‘‘جبرے بھینچتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بڑی بے نیازی سے کہہ رہی تھی۔اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار رہی تھی
’’یہ بات تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی؟‘‘ اس نے جھلاکر پوچھا تھا
’’میں نے ضروری نہیں سمجھا۔۔‘‘واقعی پہلے ضروری نہیں تھا مگر ضروری تو اب بھی نہیں تھا مگر وہ پھر بھی بتا رہی تھی شاید اس رشتے کی ڈگر کو وہ اب مزید چلانا ہی نہیں چاہتی تھی
’’کیوں۔‘‘ وہ غرایا تھا
’’ تمہارے ہر سوال کا جواب دینا میں ضروری نہیں سمجھتی۔۔ آئی بات سمجھ میں۔۔‘‘اس کے دونوں ہاتھوں کو جھٹک کر پیچھے کیا اور پاؤں پٹحتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
’’ عندلیب۔۔۔!!‘‘ اس نے پہل بار حقارت سے اُس کا نام لیا تھا مگر وہ سننے سے قاصر تھی۔اس نے ایک زور دار لات بیڈ کی ٹانگ پر رسید کی ۔ اور کشن اٹھا کر آئینے پر مارکر اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 64918 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
04 Sep, 2017 Views: 493

Comments

آپ کی رائے