میں سلمان ہوں(٧٧)

(Hukhan, karachi)
اب اپنے فسانے میں ہی اپنا ہی نہ نام ہو گا
دیکھنا کبھی کوئی نہ الزام اس پر ہو گا

سلمان بری طرح سے سٹپٹا سا گیا،،،اسے بالکل امید نہ تھی کہ روزی اسے اس حد تک چاہنے لگے گی،،،
اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا،،،وہ روزی کو زندگی کے امتحانوں سےبچا لینا چاہتاتھا،،،وہ اس نازک سی،،،
صاف گو صاف دل لڑکی کو مضطرب،،پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا،،،اپنی اوقات کااسے پتا تھا،،،
جب بھی وہ اپنے آپ میں سے باہر ہونے ہونے لگتاتھا،،،یہ دنیا چینخ چینخ کر اسےاسکی اوقات یاد دلاتی تھی،،
کہ اسے کس قدر جینےکا،،،خوش ہونےکا،،،مسکرانے کاحق ہے،،،مالک نے اسکو آزاد پیداکیا تھا،،،
کہ اسے بھی جینے کا اتنا ہی حق تھا جتنا کہ باقی مخلوق کو تھا،،،مگر سوسائٹی کےاپنے اصول تھے،،
ضابطے تھے،،،جس میں پیسے کو سب سے ذیادہ طاقت حاصل تھی۔
سلمان کو ایسے لگنے لگاجیسے وہ روزی کی پرابلمز میں اضافہ کررہا ہے،،،روزی دنیا سے ٹکرلینا،،،
چاہ رہی تھی،،،وہ ایسے سسٹم سےبغاوت کرنا چاہ رہی تھی جس سسٹم نے اسے طاقتور بنایا تھا،،،
وہ بہار کے موسم میں آسمان سے گرنے والی بارش کی پہلی بوند کی طرح تھی،،،وہ اس بدبودار ماحول میں،،،
خوشبودار ہوا کے جھونکےکی طرح تھی،،،کمزور اورنازک سی ہونے کےباوجود کسی مضبوط ستون کی،،،
طرح تھی،،،مجھے یہاں سے بھاگ جانا چاہیے،،،سلمان کے اندر چھپے ہوئے کمزور انسان نے پکارا،،،
سلمان بھاگ جا،،بھاگ جا،،،پہلے بھی تو بھاگا ہوا ہےبہت سے خونی رشتوں کو چھوڑ کر،،،
ان دوستوں کو چھوڑ کر جو تیرے بنا ادھورے تھے،،،جو برسوں بعد بھی اس کے گھرکی گلی کےچکر،،،
اس امیدپر لگاتے تھے،،،کہ شاید کسی دن اسی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے چھوٹے سے کمرے سے،،،
سلمان انہیں پکارے گا،،،
روزی نے گم سم سے سلمان کو دیکھاتو اسکی پتھرائی ہوئی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی،،،
اوہ مسٹر!میں تم سےبات کررہی ہوں،،،سلمان کی ادھوری سی ‘‘جی‘‘نے روزی کے چہرے پرمسکراہٹ،،،
کو بکھیردیا،،،وہ شرارتی لہجے میں بولی،،،شکر تم زندہ ہو،،،میں تو سمجھی تھی منہ پر ہاتھ رکھنے سے،،،
شاید تمہارا سانس رک گئی،،،لگتا ہے پہلے کسی لڑکی نے یوں نہیں چھوا ہے،،ایم آئی رائٹ؟؟؟
سلمان نے اپنےوجود کو سمیٹنا شروع کردیا،،،وہ لمحہ لمحہ ہوا میں تحلیل ہو رہاتھا،،،
شدید سردی بھی اس کے جسم سے لپٹ کر پسینہ پسینہ ہورہی تھی،،،کیوںاتنے پاس آرہے ہو،،،
میری جان یوں کیوں لے رہے ہو،،،اک پل میں مرجاؤں گا،،،میں تو سلمان ہوں خشو خاش ہو جاؤں گا،،،
(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 860418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Sep, 2017 Views: 565

Comments

آپ کی رائے
v nice
By: rahi, karachi on Sep, 05 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 06 2017
0 Like
v nice great touch of human thoughts
By: khalid, karachi on Sep, 05 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 06 2017
0 Like