شجر ممنوعہ (صفحہ نمبر٤)

(kanwalnaveed, Karachi)

سونا میں تھک چکی ہوں ۔ شفواف نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا۔ دروازے پر پھر سے کوئی تھا۔ اس کے دل میں پھر اوصاف کا خیال پیدا ہوا ۔ وہ کمرے سے نکل کر دروازے تک آ چکی تھی۔

اوصاف نے ایک نظر اسے دیکھا ۔ وہ سلام کر کے پیچھے ہٹ گئی۔اوصاف نے دھیمے لہجے میں کہا۔ کہاں تھی۔ میں کافی دیر سےبیل دے رہا ہوں یہاں ۔ شواف خاموش رہی ۔ وہ کمرے میں جا چکا تھا۔ وہ اسے پیچھے سے کمرے میں جاتا دیکھ رہی تھی۔ اس کا وجود عجیب کش مکش کا شکار تھا۔ کیا ؟یہ وہ شخص ہے جس سے میں محبت کرتی ہوں ۔ اگر نہیں کرتی تو پھر اسے چھوڑتے ہوئے میں اتنا کیوں سوچ رہی ہوں ۔اوصاف نے پھرکمرے سے آواز دی۔ شواف سوہا سو گئی۔وہ آتے ہی اپنی تین سال کی بیٹی کا پوچھتا تھا۔ جس سے وہ اکثر دیر سے آنے کی وجہ سے مل نہیں پاتا تھا۔ شواف نے اوصاف کو اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اوصاف سے خلع کا مطالبہ کیسے کرئے۔ اوصاف نے پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں نے تم سے کچھ کہا ہے کہاں ہو۔شواف نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ہاں سو گئی۔ اوصاف نے شواف کی انکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ اس کے لیے فل ٹائم میڈ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس سے بلکل لا تعلق ہو کر بیٹھ جاو ۔ وہ تمہاری زمہ داری ہے۔ پتہ نہیں کیا سوچتی رہتی ہو۔ اپنے دماغ کو تھوڑا سکون بھی دیا کرو۔ شواف نے گھڑی کو گھورنا شروع کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بج چکے تھے ۔اوصاف اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق کھانا کھا کر کتاب پرھ کر سو چکا تھا۔ شواف نے کمرے میں آ کر سوہا کو سوتے ہوے دیکھا۔ اسے اپنی زندگی منحوس اور غیر تسلی بخش لگ رہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ۔سب کچھ ہو جاتا ہے، کسی کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو ماں ایک دن کا بچہ چھوڑ کر مر جاتی ہے وہ بھی کوئی نہ کوئی پال ہی لاتر ہے۔ سوہا کی تربیت میرے بیرر بھی ہو سیت ہے۔ اوصاف ہے نا۔ وہ پھر اوصاف کو دیکھنے کے لیے بیڈ روم میں آئی۔اوصاف کو کافی دیر وہ سوتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ کمرے میں کھڑکی سے کافی روشنی آرہی تھی۔ شواف نے اپنا دم گھٹا ہوا محسوس کیا۔ اس نے گھر کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی ۔ اس کے دل و دماغ میں تلخ قسم کی سوچیں چل رہیں تھیں اور وہ بغیر سوچے سمجھے سڑک پر چل رہی تھی۔

اگر انسان کی انتہا موت ہی ہے تو پھر یہ سارا ڈرامہ کس لیے ،کیوں ۔اس سے تو بہت اچھا ہے کہ انسان مر جائے ۔ موت کو خود گلے لگا لے ۔ جس چیز پچاس سال بعد ہونا ہے ۔پچاس سال روکر انتظار کرنے سے اچھا ہے کہ ابھی ہو جائے۔ اس کی سوچوں میں انتشار اس قدر ذیادہ تھا کہ وہ خود اپنے آپ کو سمجھانہیں پا رہی تھی۔ اس نے تیزی سے گاڑی کو آتے ہوئے دیکھا۔اس نے خودکشی کا سوچا اور گاڑی کے آگے کود گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفیر نے گاڑی کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی ۔ شواف کا ایکسڈنٹ ہوا مگر وہ معجزانہ طور پر بہت کم زخمی ہوئی ۔ سفیر اسے لے کر ہوسپٹل آ گیا۔سفیر نے اپنی امی کو فون کیا۔ مریم مجتبی ایک سوشل ورکر تھیں ۔ وہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کرتیں تھیں ۔ سفیر کو یقین تھا کہ ضرور اس لڑکی نے گھریلو مسائل سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ سفیر نے امی کو ایکسیڈینٹ کا بتایا تو وہ پریشان ہو گئیں ۔ مریم مجتبی بہت بااثر ہونے کے ساتھ بہت رحمدل اور شفیق ماں تھیں ۔

ابھی صرف ساڑھے چار ہوئے تھے۔ مریم مجتبی نے پھر بھی سفیر کو ہوسپٹل آنے کی پیش کش کی سفیر نے انہیں منع کر دیا۔ پولیس کو وہ پہلے ہی مطلع کر چکا تھا۔پولیس انسپیکٹرسرفراز اس کا اچھا دوست تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھڑی کا الارم بج رہا تھا۔ اوصاف نے الارم بند کیا۔شواف بستر پر نہیں تھی۔ وہ الارم بند کر کے دوبارہ سو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوصاف نے اپنی بہن کو فون کیا۔ ارباب ،شواف کا کچھ پتہ نہیں چلا رہا۔ صبح جب میں جاگا تو وہ گھر میں نہیں تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں ۔ ارباب نے پریشانی سے کہا۔ سوہا وہ کہاں ہے۔ کیا اسے ساتھ لے کر گئی ہے۔ اوصاف نے سوہا کی طرف دیکھا، نہیں نہیں وہ تو نسرین باجی کے پاس ہی ہے۔ میں نے شواف کے والدین سے پتہ کیا تو انہیں کچھ پتہ نہیں وہ کہاں ہے۔ میں نے اس کی تمام دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی پتہ کرنے کی کوشش کی ۔ وہ اپنا موبائل بھی ساتھ نہیں لے کر گئی ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں ۔ حد ہے یہ تو ۔ کیا کروں میں اس عورت کا۔ ارباب نے اوصاف کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ شاہد کسی ایسی دوست کے پاس گئی ہو۔ جس کا آپ کو پتہ نہ ہو بھائی۔ آپ کی لڑائی ہوئی تھی ،اس سے۔ اوصاف نے تلخی سے کہا ۔ ایسی تو کوئی لڑائی نہیں ہوئی اس سے ،کہ وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے۔

کچھ دن پہلے،میں نے اسے تھوڑا ڈانٹا تھا۔ فیس بک پر بہت سے لوگوں کو فرینڈ ز کی لسٹ میں شامل کر لیا تھااس نے۔ نہ جان نہ پہچان ۔میں نے اسے کہا تھا،اس طرح ہر ایک سے دوستی ٹھیک نہیں ۔میں نے اسے اتنا کہا تھاکہ کچھ گناہ کیے نہیں جاتے ہو جاتے ہیں ۔ اتنی سی بات تھی کہ اسے لگا میں اس پر شک کر رہا ہوں ۔ عقل کی بات تو اس کے دماغ میں آتی نہیں ۔ عجیب موٹا دماغ ہے اس کا۔ اب اس طرح گھر سے جانے کا مطلب ۔ پریشان کر کے رکھا ہے۔ تم ہی بتاو کیا کروں۔

ارباب خاموش تھی ۔ اوصاف نے پھر افسردگی سے کہا۔ سوچ رہا ہوں پولیس میں رپورٹ کروا دو یا رہنے دوں ۔ وہا ں جا کر کیا کہوں گا۔ رات کو میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ۔ عجیب لگتاہے۔ پتہ نہیں اس عورت کے دماغ میں کیا چلتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182398 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
04 Sep, 2017 Views: 611

Comments

آپ کی رائے