بس دو منٹ

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)
ہم اکثر اوقات غیر ضروری طور پر جھوٹ بولتے ہیں جو کہ گناہِ بے لذت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے لیکن یہ بہت بڑی معاشرتی خرابی ہے۔اسی حوالے سے یہ مضمون لکھا گیا ۔

اکبر بھائی السلام علیکم
و علیکم السلام بھائی۔
یار اکبربھائی، گھر میں پانی کی فٹنگ کا کچھ کام کرانا ہے اور ہمارے ایک پڑوسی کی پانی کی موٹر بھی خراب ہے۔ بس اس لیے آپ کے پاس حاضر ہوا تھا کہ ذرا گھر پر ایک چکر لگالیں۔

ارے سلیم بھائی بس میں ایک جگہ جارہا ہوں، وہاں میرا دس بارہ منٹ کا کام ہے۔ میں آپ کے پاس بیس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔

بہت شکریہ اکبر بھائی، میں گھر پر آپ انتظار کررہا ہوں۔

یہ مکالمہ تھا ہمارا محلے کے ایک پلمبر سے۔ یہ بتاتا چلوں کہ میں نے یہاں پمبر کا نام بدل دیا ہے۔ اکبر ایک فرضی نام ہے لیکن کردار حقیقی ہے۔ بہر حال تو اکبر صاحب سے یہ بات کرنے کے بعد میں بھاگم بھاگ گھر پہنچا۔ اب انتظار تھا کہ اکبر بھائی آئیں تو پہلے پڑوسی کی موٹر چیک کرائی جائے پھر اپنے گھر کا کام کرایا جائے۔ اکبر بھائی نے بیس منٹ کا وقت دیا تھا۔ ہم پانچ منٹ پہلے سے ہی گھر کے باہر کھڑے ہوئے تاکہ جیسے ہی وہ آئیں تو ان کا استقبال کیا جائے۔ لیکن یہ کیا ؟؟؟ بیس منٹ، پچیس منٹ، آدھا گھنٹہ،پون گھنٹہ گزر گیا لیکن اکبر بھائی کا کوئی اتا پتا نہیں۔ انتظار سے تنگ آکر ہم نے بالآخر انہیں فون کیا۔ رابطہ ہونے پر اکبر بھائی نےمعذرت کی کہ کام میں پھنس گیا تھا بس اب نٹ ٹائٹ کرکے آپ کے پاس آرہا ہوں۔

چلیں جی ہم نے سوچا کہ بس اب پانچ دس منٹ میں یہ آتے ہی ہونگے۔ اب ایک بار پھر انتظار شروع ہوا۔ پانچ منٹ، دس منٹ، پندرہ منٹ، پچیس منٹ گزر گئے لیکن شائد نٹ ٹائٹ نہیں ہوئے۔ تھک ہار کر ہم دوبارہ ان کی دکان پر پہنچ گئے، دیکھا کہ موصوف موٹر سائیکل پر ہاتھ میں اوزار پکڑے کہیں جانے کی تیاری میں تھے، ہمیں دیکھتے ہی بولے ’’ یار یہ دیکھیں بس آپ کی طرف ہی آرہا تھا۔‘‘ اس کے بعد کم و بیش دو گھنٹے انتظار کی کوفت اٹھانے کے بعد ہم انہیں اپنے ساتھ لے کر گھر آئے اور کام مکمل کرایا۔

یہ ساری بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اکثر و بیشتر اس طرح کے جملے کہہ جاتے لیکن ہمیں ان کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا یا پھر ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ اس سے دوسرے فرد کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔آپ نے اکثر اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ دفاتر میں ، بازاروں میں ، یا ڈرائیور حضرات اور عید قرباں پر قسائی حضرات لوگوں سے اس قسم کی بات کہتے ہیں کہ ’’ بس دو منٹ میٰں آیا‘‘ یا بس پانچ سات منٹ میں آپ کا کام مکمل ہوجائے گا‘‘ ’’ آپ پریشان نہ ہوں میں دس منٹ میں آپ کی طرف آرہا ہوں‘‘ یا پھرفرض کریں کہ آپ پاور ہائوس نارتھ کراچی سے کسی فرد کو فون کر کے پوچھیں کہ یا رمیں کب سے انتظار کررہا ہوں ،آپ کہاں ہیں۔ اب وہ صاحب موجود ہیں عائشہ منزل پر لیکن آپ کو بتاتے ہیں کہ بھائی میں ناگن چورنگی پر ہوں اور بس دو منٹ میں آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں۔ اب آپ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ ناگن چورنگی پر ہیں تو اس کے مطابق تو انہیں واقعی بمشکل تین یا چار منٹ میں یہاں موجود ہونا چاہیے، لیکن پتا چلا کہ پندرہ منٹ گزر گئے موصوف کا کوئی پتا ہی نہیں کیوں کہ انہوںنے آپ سے غلط بیانی کی تھی۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ ٹیکسی یا رکشہ میں سفر کے دوران کسی جگہ پر ٹیکسی یا رکشہ رکواتے ہیں اور ڈرائیور سے کہتے ہیں کہ آپ رکیں بس میں دو منٹ میں سامنے دفتر یا گھر یا دکان سے ہوکر آتا ہوں ، جب کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں وہاں دو منٹ کا کام نہیں ہے بلکہ دس پندرہ منٹ لگ سکتے ہیں، لیکن ہم یہ غلط بیانی کرتے ہیں۔لوگ عموماً ہمیں دو تین یا پانچ منٹ انتظار کہتے ہیں لیکن لیکن یہ دو ، پانچ، دس منٹ عموماً آدھے گھنٹے سے لے کر دو گھنٹوں تک محیط ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم رکشہ یا ٹیکسی بک کرتے ہیں تو اس وقت بھی غلط بیانی کرتے ہیں۔ مثلاً ہمیں عباسی شہید ہسپتال سے چار گلیاں چھوڑ کر ایک گلی میں اندر جانا ہے لیکن ہم رکشہ یا ٹیکسی والے کو یہ نہیں بتاتے بلکہ اس سے کہتے ہیں کہ عباسی شہید ہسپتال جانا ہے۔ ڈرائیور اس کے مطابق کرایہ طے کرتا ہے اور بعد میں ڈرائیور اور سواری کے درمیان تلخ کلامی اور تُو تُو میں میں ہوتی ہے۔

اس طرح کی باتیںغیر ضروری جھوٹ ہیں۔ جس کو ہم گناہِ بے لذت کہہ سکتے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ ہم لوگوں سے بلاضرورت اس طرح کی غلط بیانی کریں؟ کیا یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو واضح طور پر بتائیں کہ ہم کہاں پر ہیں اور ہمیں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ کیا لوگوں سے صاف ، سیدھی اور سچی بات کرنے سے ہمیں کوئی نقصان ہوتا ہے؟ جواب ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم لوگ غیر ضروری طور پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اس سے گریز کرنا چاہیے، ہمیں لوگوں کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں اور ہمیں کتنا وقت لگ سکتا ہے ، یا ہمیں رکشہ یا ٹیکسی ڈرائیور کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ ہمیں کہا ں جاناہے۔

آخری بات یہ کہ یہ ساری باتیں دوسروں کے لیے نہیں بلکہ میرے اور آپ کے لیے ہیں۔ ہم ان باتوں پر خود عمل کریں گے تو دوسروں کو ان پر عمل کا کہہ سکیں گے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا آغاز ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 526 Articles with 1098094 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More
10 Sep, 2017 Views: 691

Comments

آپ کی رائے