روہنگیا مسلمانوں کی فصل کٹ چکی

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
قیام امن عالم کی اسلامی تفہیم و توضیح اور انسانی حقوق کے عصری تقاضے
برما امن کا اعلان کرے گا ؛ تشدد کے جراثیم ہنوز باقی

اسلام کے معنی سلامتی کے ہیں جو امن کا مترادف ہے۔ جہاں سلامتی ہو گی وہاں رحمت، عافیت، خیر و راحت کا ماحول ہوگا۔ اسی لیے اسلام دنیا کے جس علاقے میں پہنچا؛ وہ امن و سکوں کا گہوارہ بن گیا۔ صدیوں تک یورپ جہالت کا مسکن تھا، افریقی قبائل جنگ و جدل کے رسیا اور انسانی جذباتِ خیر سے محروم تھے۔ دنیا کے اکثر علاقے جنگلی، اجڈ، گنوار خصلتوں کی حامل اقوام سے بھرے تھے۔ خود ہمارے ہندوستان میں اونچ نیچ کی کھائیاں گہری تھیں۔ عورتوں سے بد سلوکی فطرتِ ثانیہ تھی۔ ان کے حقوق کا کوئی تصور نہ تھا۔ اسلام باہمی حقوق کو تحفظ دے کر عام فرد کے معاملات سے لے کر خالقِ حقیقی کے عرفان تک رہنمائی کرتا ہے۔

تشدد کے مقابل جدوجہد: تشدد ، ظلم، غیر انسانی رویوں کے خاتمہ کی کوششوں کا نام جہاد ہے۔ جہاد کی تعبیریں در حقیقت رسول گرامی قدر صلی اﷲ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سے ملتی ہیں۔ جب کہ کفارِ مکہ نے خالقِ حقیقی کی راہ کی طرف پیشِ رفت کی بجائے حق سے منھ موڑا۔ غیرخدا کی پرستش کو شیوہ بنایا۔ اﷲ کا عرفان حاصل کرنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ تشدد کے وہ مظاہرے کیے جس کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔ ان سب کے باوجود بے پناہ غیبی علوم کے حامل پیغمبر اعظم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے عقائد کی اصلاح کی اور جب وقتِ جہاد آیا تو ظلم کا سر نیچا ہوا؛ مظلوم کی داد رَسی ہوئی۔ دہشت گردی کی بخیہ گیری کی گئی۔ اسلامی جہاد قیامِ امن کی علامت ہے۔ تشدد کی سیکڑوں مثالیں مل جائیں گی جن کے خاتمہ کے لیے غزوات و سرایا ہوئے۔ سیرت کا پہلو جہاد حقیقتاً دین کی سر بلندی؛ ظلم کی پسپائی اور تشدد کے خاتمہ کے لیے تھا۔ جس کے نتائج دنیا نے دیکھے کہ ایک صدی کے اندر پوری دنیا میں انسانی عظمتوں کا سویرا نمودار ہوا۔ دنیا کے جس خطے میں مسلمان گئے اپنے ساتھ اسلامی اخلاق کا جوہر لے کر گئے جس کے سائے میں بھٹکے ہوئے قافلے پناہ گزیں ہوئے۔

تلوار ظلم کے مقابل: انسانیت کو جب بھی دہشت زدہ کیا گیا اور ظلم حد سے بڑھ گیا تو اس وقت اسلامی جہاد نے سکون قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جہادِ اسلامی کے نتیجے میں امن کا ماحول تیار ہوا۔ اسلام کی فطری تعلیمات نے دلوں کو متاثر کیا۔ کہیں بھی اسلام کے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں زبردستی یا تلوار کا حصہ نہیں ملے گا۔ اسی لیے قرآن کا ارشاد ہے: لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (سورۃ البقرۃ:۲۵۶) ’’کچھ زبردستی نہیں دین میں ‘‘(کنزالایمان)

یہ آیت کریمہ ہر طرح کے تشدد اور اسلامی عقائد کی تبلیغ میں دباؤ کی نفی کرتی ہے۔ اس کا اہم پہلو مشاہداتی ہے؛ جہاں بھی مسلم حکومتوں کا زوال ہوا۔ اقتدار جاتا رہا اور اسلام باقی رہا۔ ایمان والے موجود رہے۔ ورنہ اگر زبردستی یا تلوار کا دخل اسلام کے لیے ہوتا تو اقتدار کے زوال کے ساتھ ہی اسلام بھی زوال پذیر مملکتوں میں باقی نہ رہتا۔

اشاعت دین کے فطری طریقے: دنیا میں جہاں کہیں بدامنی و تشدد کا دور دورہ ہے وہاں پر قیام امن کے لیے اسلامی ضابطے ہی ممکن العمل ہو سکتے ہیں۔ اسی پہلو نے تمام باطل قوتوں کو اسلام کے خلاف جھوٹی تشہیر پر آمادہ کیا۔ سچ کے راستے کو بھلانے کے لیے پروپیگنڈے کی راہ نکالی گئی۔ جب کہ اسلامی تبلیغ کا راستہ قرآن کی زبان میں یوں ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ(سورۃ النحل:۱۲۵)
’’اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہترہو‘‘ (کنزالایمان)

جو لوگ اسلام سے بیزار ہیں اور تشدد کی وارداتوں سے اسلام کو جوڑ رہے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی تعلیمات سے لوگ واقف ہوتے چلے گئے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ اسی لیے ہر لحظہ ہر لمحہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ بدامنی و ظلم و ستم کی آندھیوں کو اسلام سے منسوب کریں۔ جب کہ اسلامی جہاد بھی صرف ظالم کے خلاف ہے ؛ جو بستیوں، کھیتیوں، بوڑھوں، بچوں، عورتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آج میانمار(برما) کی زمیں پر بوڑھوں، بچوں، عورتوں کو جو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی مثال ہے۔ حال کا یہ تشدد اس وقت اور بھیانک ہو جاتا ہے جب صنفِ نازک کی عصمتوں سے وہ کھیل رہے ہیں جو یا تو بودھ مذہبی قائدین ہیں یا برمی محافظ(فوجی) ہیں؛ جو اپنے ہی ملک کی ایک غریب لٹی پٹی قوم کو زندہ جلا رہے ہیں، ظلم کی یہ صبح شامِ غم بن چکی ہے، تمام انسانی حقوق کے دعوے دار بِلوں میں گھسے ہیں۔ مسلم ممالک امریکہ و اسرائیل کے چرنوں پر قربان ہیں۔

تشدد کی مہم مکمل اگلی مہم کی تیاری: اس وقت دنیا بھر میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ برما میں مذہبی جنونی یا فوجی؛ روہنگیا مسلمانوں کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑنے بند کریں۔ ہمیں پتا ہے کہ اب چند دنوں میں برما امن کے قیام کا اعلان کر دے گا۔ کیوں کہ شاید اس کی مہم پوری ہو چکی۔ فصلِ انسانی کٹ چکی ہے۔ اب مزید فصل پکنے وقت لگے گا۔ تب پھر ایک نئی شامِ غم نمودار ہوگی؛ پھر تشدد، عصمت ریزی اور انسانی جانوں سے کھلواڑ۔ ہاں! دہشت گردی کی بدترین مہم شاید مکمل ہونے کو ہے۔ لاکھوں خانماں برباد بے سہارا و خوف کی تصویر بنے کیمپوں میں پڑے ہیں۔ عزیز الگ لٹ چکے، جو موجود ہیں وہ یا تو زخمی یا معذور ہیں یا پھر باقی زندگی غم و اندوہ کے ساتھ گزارنے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

مسلمان احتجاج کرتے ہیں۔ یو این او قیام امن کی اپیل کرتا ہے۔ فصلِ انسانی کی بہاریں لُٹتے دیکھتا ہے۔ جب محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی ہو گئی تو پھر امن کا واویلا کر کے مسلم بزدل حکمرانوں کی طرف سے دادو تحسین وصولتا ہے۔ یہ عمل ہر خطے میں جاری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے ذریعے خونین صبحوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔تمام واقعات و قرائین سے یہ نتیجہ رونما ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی اسی وقت کامیاب ہوگی جب وہ اسلامی احکام کو حیات کے گلشن میں بسا لے۔ اس لیے کہ اسلام پر استقامت اختیار کر کے ہی دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 149685 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2017 Views: 679

Comments

آپ کی رائے
pls see my article too about pre partition riots in Burma (On same hamari web )
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=97234
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 07 2017
Reply Reply
0 Like