حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات و مناقب (قسط اول)

(Asim, Karachi)

حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کو کشف و مجاہدات میں مکمل دسترس حاصل تھی اور اصول شرع کے بہت بڑے عالم تھے اور اپنے ماموں علی حشرم کے ہاتھ پر بیعت تھے۔ مرو میں ولادت ہوئی اور بغداد میں مقیم رہے۔ آپ کی توبہ کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ حالت دیوانگی میں کہیں جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک کاغذ پڑا دیکھائی دیا آپ نے وہ کاغذ اٹھایا اور دیکھا تو اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا آپ نے اس کاغذ کو عطر سے معطر کر کے کسی بلند مقام پر رکھ دیا اور اسی شب خواب میں دیکھا کہ کسی درویش کو منجانب اللہ حکم ملا بشر حافی کو یہ خوشخبری سنا دو کہ ہمارے نام کو معطر کر کے جو تم نے تعظیما ایک بلند مقام پر رکھا ہے اس کی وجہ سے ہم تمہیں بھی پاکیزہ مراتب عطا کریں گے اور بیداری کے بعد جب ان درویش کو یہ تصور آیا کہ بشر حافی تو فسق و فجور میں مبتلا ہیں اس لئے شائد میرا خوابصحیح نہیں ہے۔ لیکن دوسری مرتبہ اور تیسری مرتبہ بھی جب یہی خواب آیا تو وہ آپ کے گھر پہنچے وہاں معلوم ہوا کہ میکدے میں ہیںاور جب وہ درویش میکدے میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ بشر حافی نشہ میں چور اور بدمست پڑے ہوئے ہیں انہوں لوگوں سے کہا کہ آپ سے جا کر کہہ دو کہ میں تمہارے لئے ایک ضروری پیغام لایا ہوں۔ چنانچہ جب لوگوں نے آپ سے کہا تو فرمایا کہ نامعلوم عتاب الہی کا پیغام ہے یا سزا کا۔ اور یہ کہہ کر میکدہ سے ہمیشہ کے لئے توبہ کر کے نکلے جس کے بعد اللہ تعالی نے وہ عزیم مراتب عطا فرمائے کہ آپ کا ذکر بھی قلوب کے لئے سکون بن گیا اور چونکہ آپ اس احساس کی وجہ سے ننگے پاؤں رہا کرتے تھے کہ زمین کو اللہ تعالی نے فرش فرمایا ہے اسی کئے شاہی فرش پر جوتے پہن کر چلنا آداب کے منافی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو حافی کہا جاتاہے۔

اولیا کرام کی ایسی جماعت بھی تھی جو نہ تو ڈھیلے سے استنجاء کرتے تھے اور نہ زمین پر تھوکتے تھے کیوں کہ انہیں ہر شے میں اور ہر جگہ انوار الہی کا ظہور محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی اس جماعت سے تعلق تھا اور بعض صوفیاء کے نزدیک چونکہ نور الہی چشم سالک میں ہوا کرتا ہے اس لئے اسے ہر جگہ سوائے خدا کے کچھ نظر نہیں آتا ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثعلبہ کی میت کے ہمراہ انگوٹھوں کے بل تشریف لے جا رہے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ ملائکہ کے پروں پر میرا قدم نہ پڑ جائے۔

حضرت امام احمد بن حنبل رح بیشتر آپ ہی کی معیت میں رہتے اور آپ کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔ چنانچہ جب آپ کے شاگردوں نے پوچھا کہ محدث فقیہ ہونے کے باوجود آپ ایک خبطی کہ ہمراہ کیوں رہتے ہیں فرمایا کہ مجھے اپنے علوم پر مکمل طور پر عبور حاصل ہے لیکن وہ خبطی اللہ تعالی کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اسی وجہ سے امام صاحب اکثر آپ سے استدعا کرتے کہ مجھےخدا کی باتیں سناؤ۔

منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ حیرت کی حالت میں پوری رات گھر کے دروازے پر ایک قدم اندر اور ایک قدم باہر رکھے کھڑے رہے پھر ایک مرتبہ چھت پر چڑھتے ہوئے پوری رات سیڑھیوں پر ہی گزار دی اور جب نماز صبح کے وقت آپ اپنی ہمشیرہ کہ یہاں پہنچے تو انہوں نے کہا یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ فرمایا کہ میں اس تصویر میں غرق ہوں کہ بغداد میں دو غیر مسلموں کے نام بھی بشر ہیں اور میرا نام بھی یہی ہے لیکن نہ جانے اللہ تعالی نے مجھے دولت اسلام سے کیوں نوازا اور انہیں کیوں محروم رکھا۔ (جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M. Asim Raza

Read More Articles by M. Asim Raza: 13 Articles with 14152 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2017 Views: 2306

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ