شجر ممنوعہ (صفحہ نمبر ٨)

(Kanwal Naveed, Karachi)

دل اسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

رشیدہ پیسے لے کر جا چکی تھی۔ شواف کرسی پر گردن رکھے انکھیں بند کئےدیر تک بیٹھی رہی ۔ آج پھر اس کی اور اس کے ورکر کی کوششوں سے ایک گھرٹوٹنے سے بچ گیا۔ ایمن آ کر میز بجا رہی تھی کہ شواف چونک گئی ۔ میڈم آپ گھر نہیں گئیں۔ شام کے سات ہو رہے ہیں ۔ شواف نے اپنی عینک کو اتار کر صاف کیا۔ ہاں بس جانے ہی والی ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا انیس سال کی ہو چکی تھی۔ اس کی نانی بہت بیمار تھیں ۔ وہ دن رات ان کے پاس رہتی ان کا خیال رکھتی۔وہ اسے ڈھیروں دُعائیں دیتی ۔ سوہا کے دل و دماغ میں نانی اس طرح بسی ہوئی تھی کہ ان کی موت پر اسے اپنی کائنات ختم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ لگا تار دو دن تک روتی رہی ۔ مومنہ نے اسے گلے لگا کر تسلی دینے کی کوشش کی لیکن اس نے نہ صرف اسے دھتکار دیا بلکہ اسے بُرا بھلا بھی کہا۔ جب اوصاف نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ اس پر بھی غصہ ہو کر کمرے میں چلی گئی۔ مومنہ اور اوصاف اداسی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ سوہا ایف اے کے امتحان میں بری طرح فیل ہونے کے بعد گھر میں ہی تھی۔ اس نے مذید پرھنے سے انکار کر دیا تھا۔ جبکہ اس کا واحد کام جو نانی کی باتیں سننا تھا۔ ان کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ وہ بھی ختم ہو چکا تھاتو وہ زندگی سے سخت مایوس تھی۔
اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ خود کشی کر لے ۔ اگر مرنا ہی ہے تو انسان جیتا کیوں رہتا ہے۔ وہ روتے ہوئے خود سے سوال کر رہی تھی ۔ جس کا جواب اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شواف نے اخبار میں اوصاف کی تصویر سوہا کے ساتھ دیکھی ۔ جس میں کانٹیکٹ نمبر کے ساتھ لکھا تھا۔ اس بچی کا نام سوہا اوصاف ہے ،جو کل سے گھر سے لاپتہ ہے ۔ جس کو کہیں بھی دیکھائی دے ۔رابطہ کریں ۔ بچی اپنی نانی کی موت پر صدمے کا شکار ہے۔ پتہ بتانے والے کو انعام دیا جائے گا۔
شواف کو اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے فوراً این جی او آ کر اپنے ورکر کے ساتھ میٹینگ کی ۔ انہیں سوہا کی تصویر دے کر اس کا پتہ کرنے کا کہا۔ اس نے پولیس کمشنر اعجاز سے بات کرتے ہوئے کہا۔ اس بچی کو ہر حال میں ڈھونڈنا ہے۔ ہر حال میں ۔ وہ غم کی شدت سے رونے لگی ۔ پولیس کمشنر نے اسے تسلی دی ۔ آپ تسلی رکھیں ۔ بچی ضرور مل جائے گی۔
سوہا نے میری غلطی کو دہرایا ہے ۔ کیوں ۔ میرے اللہ کیوں۔ وہ اپنے آپ کو ستے ہوئے رو رہی تھی۔کاش کہ میں اس وقت گھر سے قدم باہر نہ نکالتی ،کاش میرے مولا تو نے مجھے روک لیا ہوتا۔ کاش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مومنہ اوصاف کو تسلی دے رہی تھی۔ اوصاف نے پریشانی سے کہا۔ کچھ سمجھ نہیں آتا ، سوہا ایسے کر کیسے سکتی ہے۔ میری بیٹی ، کہاں کمی رہ گئی ،مجھے تو سمجھ نہیں آتا۔ میرے اللہ آج تین دن ہو گئے ،اس لڑکی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ پولیس کی بھی مدد لے رہا ہوں ، جوان لڑکی ہے ،اس نے اپنی گردن جھکا لی ۔ اس کی انکھوں سے آنسو چھلک گئے۔
اس نے روتے ہوئے کہا۔ شاہد مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو، شاہد ۔ مومنہ نے اوصاف کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اللہ بہتر کرئے گا۔ آپ حوصلہ رکھیں ۔ فون کی بیل بج رہی تھی۔ مومنہ نے فون اُٹھایا ۔ اس کی ماں کا فون تھا۔ مومنہ سے انہوں نے سوہا کے بارے میں پوچھا۔ مومنہ نے بتایا تو انہوں نے افسوس سے کہا۔ جیسی ماں تھی ویسی بیٹی نکلی ۔ بے چارہ اوصاف ۔ انہوں نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔کیکر کے پیڑ سے پھول کہاں ملتے ہیں ۔ اس کی ماں کا ابھی تک پتہ نہیں تو بیٹی کا کیاپتہ چلنا ہے۔ اللہ اوصاف کو حوصلہ دے۔
مومنہ نے کچھ دیر کی بات کے بعد فون بند کر دیا۔ وہ اوصاف کی حالت سے پریشان تھی۔اسے بھی سوہا کی فکر تھی۔ اس نے انکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔ اے اللہ ہماری بچی کومحفوظ رکھنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس کمشنر اعجاز نے سنجیدگی سے کہا۔دیکھیں آپ کے لیے ہم نے پورا شہر چھان مارا ۔ آپ نے جس لڑکی کو ڈھونڈنے کا کہا تھا۔ وہ اپنی نانی کی موت کے بعد اس کے گھر والوں کے مطابق پریشان تھی۔ شام کو گھر سے نکلی ۔ اس کی نانی نے کافی رقم اس کے نام کر دی تھی۔ اپنا گھر بھی اس لڑکی کے نام کر دیا تھا اپنی زندگی میں ہی۔ وہ لڑکی گھر سے نکلنے کے بعد بینک میں گئی۔ اس نے سات ہزار روپے کی شاپنگ بھی کی ۔ عام گھر کا سامان لینے کے بعد وہ اپنی نانی کے گھر گئی اس کے بعد وہاں سے وہ کہاں گئی۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ کیوں کہ اس کی نانی کے گھر کے باہر تالا لگا ہے۔ اس کے باپ کا کہنا ہے کہ بچی صدمے میں تھی۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ شہر چھوڑ گئی ہے۔
شواف نے مکمل خاموشی سے ساری باتیں سنی ۔ اس نے اداسی سے کہا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ شہر چھوڑ کر گئی ہے۔ پولیس کمشنر نے تھوڑی دیر کے توقف سے کہا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں ۔آپ کی این جی اومیں تو مدد کے لیے ایسی لڑکیاں روز آتی ہوں گی ۔جو جوانی کے جوش میں گھر کی دہلیز تو پار کر لیتی ہیں ،پھر تمام عمر پچھتاوا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ شواف نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔ آپ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں،لیکن بعض اوقات صرف جوانی ہی مسائل پیدا نہیں کر رہی ہوتی ۔ لڑکیاں کئی نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہوتی ہیں ۔ مایوسی اور محرومی گھر چھوڑنے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں فقط ایک ہی چیز کو بغاوت کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسان کبھی کبھی خود بھی خود کو سمجھ نہیں پاتاتو دنیا اسے کیا سمجھے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پویس کمشنر نے عاجزانہ انداز میں کہا۔ آپ اب ہم سے کیا خدمت چاہتی ہیں ۔ ہمارے مطابق تووہ لڑکی سوہا اس شہر میں نہیں ہے ۔ اس کی نانی کے پاس جو موبائل تھا ،اس کی سم بھی نکال دی گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ لڑکی نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ گھر چھوڑا ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس نے گھریلو استعمال کی چیزوں کا کیا کیا۔ شاہد وہ الگ سے گھر بنا رہی تھی۔ یا پھر۔ یہاں سے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ شواف نے مسکراتے ہوئے کہا۔ آپ کا مطلب ہے کہ سوہا یعنی وہ لڑکی کہیں الگ سے اکیلے رہنے کا سوچ رہی تھی۔ مگر کہاں ۔اس کی نانی کی تو موت ۔۔۔۔۔شواف پھر خاموش ہو گئی ۔ کچھ دیر بعد شواف نےکھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ ہم اس سلسلے میں پھر ملتے ہیں۔

پولیس کمشنر نے ٹشو پیپر نکالتے ہوئے کہا ، جی جی۔ جب آپ چاہیں۔ وہ بھی جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ شواف نے ڈرائیور کو بلایا اور چاپی اس سے لے لی۔ وہ بہت سالوں بعد مانوس راستوں سے ہوتی ہوئی اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس نے اس گھر میں اپنا بچبن اور لرکپن گزارا تھا۔اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے، اس کے آنسو چھلک گئے۔ وہ کیوں اپنی ماں سے تمام عمر ملنے کی ہمت نہیں کر سکی ۔ وہ کیوں کسی رشتے کا سامنا نہیں کر سکی۔ بہت سے کیوں اس کے دماغ میں گھوم رہے تھے۔ اس نے اپنے ایک ورکر عمیرکو فون کیاجو تالا توڑے بغیرتالا کھول لیتا تھا۔ کچھ دیر میں شواف کے سامنے کھڑا تھا۔
جاری ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182643 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
18 Sep, 2017 Views: 545

Comments

آپ کی رائے