بد عنوانی۔۔۔ملکی ترقی میں کاوٹ

(Malik Muhammad Shahbaz, )

رسول اکرم ﷺ کے فرمان ِ عالیشان کا مفہوم ہے کہ موت سے قبل زندگی کو غنیمت سمجھو ۔یعنی جب زندگی ختم ہو جائے اور موت سر پہ آجائے تو اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ موت سے قبل مرنے کی تیاری کرنے والا انسان خدا کے حضور کامیاب و کامران ہوگا اور اسے زندگی کے متعلق کسی قسم کا پچھتاوا نہیں ہوگا۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سوائے نیک اعمال کے کوئی بھی دنیاوی چیز آخرت میں کارگر ثابت نہیں ہوگی ۔زندگی اور موت کا نظام خالقِ عرض و سماں کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے جسے چاہے اپنے پاس بلالے ۔ اس کے فیصلوں کو چیلنج کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔کسی کو بچپن، لڑکپن ، جوانی میں بلالے یابڑھاپے تک مہلت دیے رکھے سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔دنیا کی کوئی طاقت اس کے حکم کے خلاف نہیں جا سکتی اور ہر کسی کو مالک ِ عرض و سماں کے تمام فیصلے ہر صورت میں ماننے ہی پڑتے ہیں۔گزشتہ روز چچا زاد بھائی امجد رفیق بھی اسی مالک کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کرکے والدین ، بہن بھائیوں اور دوستوں کو کو سوگوار کر گیا۔ہنستا کھیلتا امجد رفیق ہمیشہ بڑوں کی عزت کرتا اور ہم عصروں سے ادب سے پیش آتا تھا۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے فرمان کام کام اور کام کو اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنے والا نوجوان امجد رفیق کم و بیش اٹھارہ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے کر والد کی کمرتوڑ گیا۔امجد رفیق کی اچانک وفات کی خبر اس کالم کا محرک بنی۔مالک کی مرضی کے مطابق ہر ایک کو جانا ہے اور آخر میں بقا صرف ذات الٰہی کو ہی حاصل ہے۔

آج کل ہر کوئی دنیاوی دولت و شہرت کے انبار لگانے میں اس قدر گم ہوچکا ہے کہ زندگی کے اصل مقصد کو مکمل طور پر بھلا دیا گیا ہے۔فرمان خداوندی کا مفہوم ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن آج کے انسان نے اس فرمان عالیشان کو بالکل بھُلا دیا ہے اور دنیا سمیٹنا ہی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔یہاں جسے دیکھو حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر مال و متاع اکٹھا کرنے میں ہمہ تن مصروف عمل دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی کو مشکل میں دیکھ کر مدد کرنے کی بجائے اس کی جیب صاف کرنا معمول بنا لیا گیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ تقریبا دو تین ہفتے قبل پیش آیا۔ہمارے دوست عبد الرحمن کسی مریض کو جناح ہسپتال لاہورداخل کرواکے گھر واپس آرہے تھے کہ اچانک راستے میں گاڑی الٹ گئی اور ان کا بازو فریکچر ہو گیا۔ رات کا وقت تھا ، ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔اپنی جیب سے موبائل فون نکالا اور گھر اطلاع دینے کے بعد گاڑی سے کپڑے کا ٹکڑا تلاش کرکے بازو پر اپنی مدد آپ کے تحت باندھنے کی کوشش کرنے لگے تھے کہ نجی فیکٹری سے ڈیوٹی کر کے آنے والے راہ گزر وہاں آن کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک صاحب مدد کا بہانہ بنا کرموبائل فون لے کر رفوچکر ہوگیاجس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔

آج کاانسان انسانیت سے بہت دور ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں کرپشن ،اوربے ایمانی دکھائی دیتی ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی ایک کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو مکمل طور پر شفافیت سے کوسوں دور نظر آئے گا۔ایک کلرک سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات بغیر کسی لالچ کے کسی کا جائز کام بھی نہیں کریں گی۔سڑک پر ناکہ لگا کر کھڑے ہونے والے پولیس اہلکار ہوں یا کسی ہسپتال کا کوئی ڈاکٹرہو ، کسی سرکاری سکول کا کوئی ٹیچر ہو یا عدالت میں بیٹھا جج ، کوئی بھی اپنے کام سے مخلص دکھائی نہیں دے گا۔ ہر ایک اپنا حصہ سمیٹنے کا خواہش مند نظر آئے گا۔ ہر کسی کو رگڑا لگانے پر یقینا مجھ سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ سکول ٹیچر اور ڈاکٹر کس طرح مال بٹورتے ہیں تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ سکول ٹیچر اپنی ذمہ داریاں سرکاری سکول میں بطریق احسن نبھانے کی بجائے کوچنگ سنٹر کا مشورہ دیتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حصے کا مال بغیر کسی رکاوٹ کے ہر مہینے پہنچتا رہے۔ اور سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینک پر آنے کا مشورہ مفت علاج کرنے کے لیے ہرگز نہیں دیتا بلکہ اس کا مقصد بھی مریض اور اس کے لواحقین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہوتا ہے۔

تمام مسائل اور پریشانیوں کا واحد حل یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی جگہ ،اپنے کام سے مخلص ہو جائے ۔بصورت دیگر وطن عزیز ترقی کے سفر کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا۔ارباب اختیار کو تمام اداروں میں کلرک سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو ان کی ذمہ داریوں کی بطریق احسن ادائیگی پر پابند کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں مخلص اور ایماندار مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینی ہوں گی ۔ایسے نئے قوانین بنانے ہوں گے جن کے اطلاق سے بد عنوانی کرنے والے ہر ایک فرد کو مکمل سزا ملے اور وہ دوسروں کے لیے نشان عبر ت بن جائے۔یوں وطن عزیز کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔ان شاء اﷲ پاکستان دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔ اﷲ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔آمین ثم آمین 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Shahbaz

Read More Articles by Malik Muhammad Shahbaz: 54 Articles with 24621 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2017 Views: 572

Comments

آپ کی رائے