تیرے بن کیا جینا قسط سوم

(Dr B.A Khurram, Karachi)

مصنف۔۔۔ نرجس بتول علوی

میں اٹھ کر بی اے کے کمرے میں جاتی ہوں بی اے لیٹا ہوا ہے لیکن اس کی آنکھیں مجھے دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں میں نے بی اے کو ھاتھ لگا کر چیک کیا تو بی اے کا بخار پہلے سے بہت کم تھا میں نے اﷲ کا شکر ادا کیا بی اے مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔پھو پھو جان آپ پریشان ہو جاتی ہیں پریشان مت ہوا کریں بی اے نے میرے ہاتھ سے پکڑکر بہت ہی پیار سے کہا میں بی اے کے ماتھے پر بوسہ دیتی ہوں مجھے اس وقت بی اے پر بہت زیادہ پیار آ رہا یتھا لیکن اس وجہ سے دل ہی دل میں بہت پریشان تھی کہ میرے دل میں اک خلش سی تھی کہ آخر اس کا دھیان آج کل کہاں ہوتا ہے بی اے نے مجھے آنکھ بھر کر دیکھا پھوپھو جان بہت پریشان نظر آ رہی ہیں آخر کیا بات ہے انکل تو ٹھیک ہیں نا میں نے نظریں چرا کر کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں تم نے کچھ کھانا ہے تو بتاؤ بی اے نے منہ بنا کر نہیں پھو پھو جان موڈ نہیں ہے تیری پسند کے آلو گوشت بنایا ہے لے آؤں کھانا میں بی اے کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی بی اے میرے گلیمیں باہیں ڈال کر بس پھو پھو جان آج آپ کہیں مت جا ئیں بس میرا دل کر رہا ہے آپ کو دیکھتا رہوں ارے آج کیا منوانی ہے جو پھو پھو کی اتنی خوشامد کی جا رہی ہے میں نے بی اے سے کہا اتنے میں دروازے پر دستک ہوتی ہے میں نے کہا بچے اکیڈمی سے آ گئے ہیں میں دیکھتی ہوں میں دروازے پر جاتی ہوں تو ارشد دروازے پر کھڑا تھا پھو پھو جان وہ میرا موبائل رہ گیا ہے میں نے ارشد سیکہا کہ آ جاؤ بی اے بھی جاگ گیا ہے ارشد اندر آتا ہے میں اس کے ساتھ بی اے کے کمرے میں جاتی ہوں دونوں دوست پنجہ بازی کرتے ہیں ارشد سنا ہے جی آپ کی طبعیت بہت خراب ہے کیا روگ لگ گیا بی اے چل بکواس نہ کیا کر کچھ سوچ کر بولا کرو بی اے شرارت سے بولا بزرگوں کا کچھ احترام ہوتا ہے ارشد ہماری پھوپھو کوء کترینہ کیف سے کم ہیں ایک اونچا سا قہقہ لگا کر بولا میں ان دونوں کی چالاکی کو سمجھ گئی اچھا طریقہ ہے پھوپھو کو کمرے سے باہر بجھنے کا دونوں قہقہ لگاتے ہیں میں یہ کہہ کر مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر آتی ہوں پھوپھو جب کمرے سے باہر آتی ہیں تو ارشد بی اے کو بیڈ پر دھکا دیتا ہے جب میں سو رہا تھا تو تم کیوں آگے تھے ارشد میری مرضی میں نے اچھا کیا ہے ارشد ویسے یہ سوال بی اے مجھے تجھ سے کرنا چاہی تھا کہ تم آج کل کہاں ہوتے ہو ایک ہفتہ سے نہ تم گھر ہوتے ہو نہ تم کالج آتے ہو آخر یہ مسلہ کیا ہے آج کل آخر جاتے کہاں ہو بی اے دروازے کی طرف جھانکتے ہوں ارشد کے منہ پر ہاتھ رکھتا ہے ارے یار مروا نہ دینا بی اے چپکے سے دروازہ بند کرتا ہے ارشد تم دروازہ بند کر آؤ یا پورا گھر بند کر دو پھوپھو کو جو بات پتہ چلنا تھی چل گئی پتہ اب تم چھپ جاؤ جا مللک چھوڑ جاؤپھوپھو کے ہاتھوں سے بچ کر دیکھاؤ تو تم تمھیں مانو بی اے کمرے میں تیز تیز چل رہا ہے بی اے ارشد سے تم دو منٹ کے لیے اپنا بھوتھا بند نہیں کر سکتا ارشد شرارت سے کیوں نہیں جگر تم کہو تو میں یہ بھوتھا اتار کر رکھ دیتا ہوں اور سیب کھاتا ہے بی اے ارے اویے تم یہ سیب کیوں کھا رہے ہو میرے لیے لے کر آئی تھیں پھوپھو ارشد بیڈ سے اٹھ کر بی اے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباتا ہے ارے یار ٹینشن میں ہو ں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 224205 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2017 Views: 595

Comments

آپ کی رائے