بیگم کلثو م نواز

(Arif Jameel, Lahore)
کلثوم نواز ایک معزز کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بلکہ اُنکے تعلقات میں یہ بھی اہم ہے کہ مشہورِ زمانہ رُستمِ زماں گاماں پہلوان کی ایک بیٹی کی شادی ڈاکٹر حافظ بٹ صاحب سے ہوئی جنکی بیٹی یعنی گاماں پہلوان کی نواسی بیگم کلثوم نواز صاحبہ ہیں ۔ ۔۔۔ بی ۔ایس۔ سی اور ایم ۔اے اُرد و کر کے اپنی تعلیم مکمل کی ۔۔۔۔

نواز شریف اور کلثوم نواز شریف

شریف کے خاندان میں عام طور پر تو آپسی رشتوں کو ہی ترجیع دی جاتی ہے لیکن سابق وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی شادی خاندان سے باہر کی ایک لڑکی کلثوم سے ہوئی۔ کلثوم جو بعد میں کلثوم نواز کہلانے لگ پڑیں ایک معزز کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بلکہ اُنکے تعلقات میں یہ بھی اہم ہے کہ مشہورِ زمانہ رُستمِ زماں گاماں پہلوان کی ایک بیٹی کی شادی ڈاکٹر حافظ بٹ صاحب سے ہوئی جنکی بیٹی یعنی گاماں پہلوان کی نواسی بیگم کلثوم نواز صاحبہ ہیں ۔

کلثوم نواز کی خواہش تھی کہ ایف ۔ایس۔ سی کے بعد ڈاکٹری میں داخلہ لیں۔ لیکن بعد میں بی ۔ایس۔ سی اور ایم ۔اے اُرد و کر کے اپنی تعلیم مکمل کی ۔ وہ اپنے تعلیمی دور میں ایک بہترین کھلاڑی بھی رہ چکی ہیں اور ان کا اپنے پانچ بہن بھائیوں میں تیسرا نمبر ہے۔اُنھیں ایک نئے خاندان میں جو عزت ملی اور ایک اچھے سلجھے ہوئے شوہر کا تعاون بھی حاصل ہوا تو ازدواجی زندگی کی خوبصورتیاں زندگی کی رعنائیاں بن گئیں۔ بلکہ جب نواز شریف وزیر خزانہ پنجاب تھے تو جہاں ان کو جا کر کوئی تقریر کرنا ہوتی وہ تقریر کلثوم نو از خو د لکھ کر دیتی تھیں۔ مریم نواز اُنکی بڑی بیٹی ہیں ،دو بیٹے حسن و حیسن نواز ہیں اور ایک بیٹی عاصمہ نواز ہیں جو اسحاق ڈار کی بہو ہیں۔

جب اکتوبر1998ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیرِ اعظمِ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اُنھیں اور اُنکے بھائی شہباز شریف کو گرفتار کر کے مقدمات چلائے گئے تو اُس دوران بیگم کلثوم نواز جو مسلم لیگ مجلس عاملہ کی کارکن تھیں نے مسلم لیگ کی ترجمان کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ بلکہ فی الوقت اُنھوں نے اپنے خاوند کی طرف سے سیاسی ذمہ داری سمجھتے ہوئے زیادہ تر مسلم لیگیوں کو اپنے ساتھ ہی رکھا ۔

د وسری طرف جب نواز شریف کو گرفتاری کے بعد فوجی حکام چند ہفتے عوام کے سامنے نہ لائے تو اُنھوں نے 10ِ نومبر 1999ء کوبیا ن دے دیا کہ چند روز میں اگر ان کے خاندان سے نظر بندی کی پابندی نہ ہٹائی گئی اور نواز شریف سے ملاقات نہ کروائی گئی تو وہ اور ان کی بڑی بیٹی مریم نواز بھوک ہڑتال کر دیں گی۔ 22ِ نومبر 1999ء کو پہلے تو امیرِ قطر کی اپیل پر شریف خاندان کی نظر بندی ختم کی گئی اور پھر 23 نومبر 1999ء کو گرفتاری کے بعد پہلی دفعہ لانڈھی جیل کراچی میں نواز شریف کی ملاقات ان کے گھر والوں سے کروائی گئی۔

تقریبا 13ماہ بیگم کلثوم نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے مقدمات کی سماعت کے دوران کبھی کسی شہر میں اور کبھی کسی شہر میں جا کر عدالت کی کارروائی میں شامل ہوتیں اور نواز شریف سے ملاقات بھی کرتیں اور ان کی طرف سے مقدمے کے وکلاء سے صلاح مشورے بھی کرتیں۔ بلکہ عدالت کے باہر پولیس کا رویہ ان سے عام شہریوں جیسا ہی ہوتا۔

ایک دفعہ تو عدالت کے جج نے بھی کچھ اس طرح کہہ دیا کہ یہ عدالت کے دروازے کے پاس کون سی خاتون کھڑی ہیں۔ جبکہ اس وقت نواز شریف بھی عدالت میں ہی موجود تھے۔ بس وقت ساتھ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ دونوں خواتین محترمہ بے نظیر بھٹو سے بھی رابطہ رکھتیں اور جمہوریت کی بحالی کیلئے ان سے تعاون کرنے کا کہتیں۔

اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی کو ششیں بھی شروع ہو چکی تھیں اور پھر نواب زادہ نصر اللہ خان اس میں کامیاب بھی ہو گئے اور اے آر ڈی کے نام سے ایک اتحاد تشکیل پا گیا ۔جس کا مقصد ملک میں جلد از جلد جمہوریت کو بحال کرنا تھا۔ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی شامل تھیں اور بیگم کلثوم نواز اپنی جماعت کی رہنمائی کر رہی تھیں۔ اس کے کچھ مدت بعد ہی مسلم لیگ (ن) میں جو قیادت کا مسئلہ تھا ایک دم سامنے آ گیا اور 20ِ نومبر 2000 ء کو دو واضح دھڑوں میں جماعت تقسیم ہو گئی۔ جن میں سے ایک بیگم کلثوم نواز کے ساتھ تعاون کرنے والے رہنما اور کارکن تھے اور دوسری طرف چو ہدری شجاعت حسین، میاں اظہر اور اعجاز الحق وغیرہ کا گروپ تھا۔

30 ِ اکتوبر 2000ء میں سندھ ہائی کورٹ نے نواز شریف کی عمر قید کی دو سزاؤں کو ایک میں بدلنے کا حکم بھی جا ری کر دیا تھا، لیکن اس کے برعکس ان کا خاندان حکومت وقت سے کسی اور معاملے پر ہی گفت و شنید کر رہا تھا۔

جب کبھی بیگم کلثوم نواز سے اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد سوالات کئے جاتے تو وہ یہی کہتیں کہ حکومت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن پھر اچانک 9 ِ دسمبر 2000 ء کو سعودی عرب ایئر لائنز کا ہوائی جہاز اسلام آباد آیا اور سعودی عرب کے پرنس کے کہنے پر نواز شریف اور ان کے خاندان کو پاکستان سے لے جانے کا انتظام کیا جانے لگا۔

ان دنوں نواز شریف 16 ویں صدی کے اٹک کے قلعہ میں اپنی اسیری کے دن گزار رہے تھے اور اس وجہ سے سعودی عرب کے پرنس کو یہ کہا گیا تھا کہ نواز شریف کی رہائی کیلئے حکومتی معاملات میں مزید 2 روز لگیں گے نہیں تو پہلے 7 ِ دسمبر کو پروگرام تھا۔ بہرحال اس دوران ایک معا ہدہ حکومت اور شریف خاندان کے درمیان طے پایا جس کے بعد معزول وزیر اعظم نواز شریف 14 ماہ کی قید و بند کی تکلیفیں کاٹنے کے بعد اپنے خاندان کے 30افراد کے ساتھ جن میں والدین، دونوں بھائی اور اپنا سارا اہل خانہ بھی شامل تھا 9 ِ اور 10ِ دسمبر2000 ء اسلامی مہینہ رمضان میں پاکستان کی زمین اور اس کی مٹی چھوڑ کر سعودی عرب کے شہر جدہ روانہ ہو گئے۔ عوام نے صبح اُ ٹھ کر یہ خبر اخبارات میں پڑھی تو حیران رہ گئے۔ اخبارات و رسائل کے مطابق معاہدے میں اُنکی جلا وطنی کا عرصہ10 سال تھا۔

بہر حال کچھ نواز شریف کے خیر خواہوں نے یہ کہا کہ تمام خاندان دنیا کی عظیم سر زمین پر چلا گیا ہے اور یہ خبر بھی گرم رہی کہ بیگم کلثوم نواز نے اس سارے معاملے میں بڑی سمجھ داری سے کام لیکر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔

2007ء میں شریف برادران کی پاکستان واپسی پرسب ساتھ ہی واپس آگئے اور بیگم کلثوم نواز نے سیاسی معاملات سے کنارہ کشی ہی رکھی ۔ لیکن 28ِجولائی2017ء کو جب عدلیہ نے نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے الگ کر کے ناہل قراد دے دیا تو حلقہ این اے 120 لاہور سے بیگم کلثوم نواز کو مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اُمیدوار کھڑا کیا گیا جنہیں 17ِ ستمبر2017ء کو کامیابی حاصل ہو گئی۔

بیگم کلثوم نواز گلے میں کینسر کے باعث اپنی انتخابی مہم میں ایک دِن بھی شرکت نہ کر سکیں اور لندن علاج کروانے چلی گئیں۔ جہاں ایک تو آخری خبریں آنے تک اُنکی تیسری سرجری بھی کامیاب رہی ہے۔وہاں دوسری اہم خبر مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماؤں کی طرف سے بیگم کلثوم نواز کو وزیرِ اعظم پاکستان بنانے کی تجویز بھی پیش کی جارہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 170225 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
23 Sep, 2017 Views: 763

Comments

آپ کی رائے