لازوال قسط نمبر 20

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

’’ کہاں جا رہی ہو؟‘‘ انمول کی آنکھ کھلی تو عندلیب کو ڈریسنگ کے سامنے تیار ہوتے ہوئے پایا۔ اس نے وال کلاک پر نظر دوڑائی تو وہ گیارہ بجنے کی نوید سنا رہا تھا۔ وہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور یک ٹک عندلیب کی جانب دیکھ رہا تھا
’’فہیم کا فون آیا تھا۔ آج ہم دونوں کالج جا رہے ہیں۔۔‘‘ لپ لوزر لگاتے ہوئے اس نے بے نیازی سے کہا
’’میں بھی چلتا ہوں۔۔‘‘ لحاف کو سرکا کر اس نے اٹھنا ہی چاہا تھا کہ عندلیب جھٹ پلٹی
’’تمہیں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘ برق رفتاری سے کہا
’’ مگر کیوں؟‘‘اس نے استفہامیہ انداز میں عندلیب کی طرف دیکھا
’’ تم ایسے ہی بوریت محسوس کرو گے ۔۔۔ ہم دونوں اپنی باتیں کریں گے یا پھر تم سے۔۔‘‘ کہہ کر وہ پلٹی اور دوبارہ میک اپ کرنے میں مصروف ہوگئی
’’ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔‘‘وہ اٹھا اور وارڈ روب سے اپنے اپنا ڈریس نکالا
’’ کہا ناں! کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں جانے کی۔۔ سمجھ نہیں آتی۔‘‘ اس کے لہجے میں روکھا پن واضح تھا
’’تمہیں میرے ساتھ جانے میں پرابلم ہے یہ پھر تم دونوں کے درمیان میرے ہونے سے۔۔‘‘ اس نے غصے میں ڈریس بیڈ پر پھینک دیا۔
’’تمہارا جو دل چاہے سمجھو۔۔۔ مگر میری جان چھوڑو۔۔‘‘پلٹ کر اس نے عقابی نظروں سے انمول کی طرف دیکھا اور پھر پاؤں پٹختی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
* * * *
’’ ضرغام۔۔ جاناضروری ہے کیا؟‘‘پیکنگ کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں نے کام کرناچھوڑد یا۔ ناجانے کیوں اس کا دل اندر ہی اندر سے اسے کہہ رہا تھا کہ ضرغام کو جانے سے روک لے۔ایک خوف تھا جو اسے اندر ہی اند ر سے پریشان کئے ہوئے تھا
’’جانا ضروری ہے۔۔‘‘وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ پ رکھ دیئے۔ چہرے پر انتہا کی سنجیدگی تھی۔ابھی تک اس نے اپنے دل کا حال وجیہہ کے سامنے نہیں رکھا تھا۔کچھ دن اکیلے ر ہ کر وہ اپنے دل کا حال اپنے رب کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے بنا کسی کو بتائے اس نے عمرہ کا سامان سفر باندھا تھا۔گھر سے کسی اپنے کو ملنے کا کہہ کر و ہ وہاں جا رہا تھا۔وہ اپنا ہی تو ہے۔خدا کا گھر ہر مسلمان کا اپنا ہی تو ہوتا ہے ۔ وہ بھی اسی اپنے گھر میں جا رہا تھا جہاں دلوں کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔
’’لیکن اچانک؟‘‘ وہ ضرغام کے دل کے حالات سے تو واقف نہ تھی مگر جو دیکھ رہی تھی اس کی بنا پر ایک ڈر اس کے دل میں کھٹک رہا تھا۔
’’دنیا میں ہر کام اچانک ہی تو ہوتا ہے۔۔‘‘ ایک طمانت بھری نگاہ اس نے وجیہہ کے چہرے پر ڈالی تھی۔
’’ٹھیک ہے۔۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے اس نے بجھے دل سے کہا تھا۔پیکنگ کرنے کے بعد اس نے ایک نظر ضرغام پر ڈالی جو رسٹ واچ باندھ رہا تھا
’’دیکھائیں ۔۔ میں باند ھ دیتی ہوں۔۔‘‘اپنے ہاتھوں سے اس کی کلائی میں واچ باندھنے لگی۔آنکھوں میں ایک عجیب سا ڈر ضرغام کی آنکھوں سے چھپ نہیں پایا
’’تم اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو؟‘‘اس نے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر کیا۔جھکی نظروں نے ضرغام کو دیکھا تو ان میں پانی تیرنے لگا
’’یہ کیا ان آنکھوں میں آنسو۔۔‘‘ پہلی بار اس نے اپنے گرم ہاتھو ں کے انگوٹھوں سے اس کے آنسو کو پونچھا ۔ اس کے چھونے کی دیر تھی کہ دل میں ایک سکوت اتر گیا
’’تم خو د ہی تو کہتی ہو جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ۔ میرا جانا ضروری ہے مگر دیکھنا میرا جانا ہمارے رشتے کو مزید مضبوط کر دے گا اور میری واپسی تمہارے لئے ایک نعمت ہوگی۔۔‘‘ ضرغام کی باتیں اس کی سمجھ سے بالاتر تھیں۔ وہ یک ٹک اسے دیکھتی جا رہی تھی
’’یہ میرا وعدہ ہے کہ اب تمہیں کوئی تکلیف نہیں دونگا۔۔ ‘‘اس کی آواز میں عجب مٹھاس تھی مگر نہ جانے کیوں ڈر تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔اُس نے رسٹ واچ پر نگاہ دوڑائی تو جانے کا وقت ہوچکا تھا
’’جانے کا وقت ہوگیا ہے۔۔‘‘اس کی آواز بھی بھر آئی تھی مگر وہ اپنے جذبات کو کنٹرو کرنا جانتا تھا۔ نرمی کے ساتھ اس نے اپنا ہاتھ اس کے رخسار پر پھیرا اور پھر سوٹ کیس اٹھا کر کمرے سے باہر چلاگیا۔کچھ دیر اس کی راہ کو تکنے رہنے کے بعد وہ بھی باہر کو چل دی۔ایک ایک قدم اٹھانے کے لئے اسے جتنی جہد کر نی پڑ رہی تھی۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔آگے دیکھا تواسے نیچے ٹی وی لاؤنج میں پایا اور خود کو پہاڑ پر کھڑے ہوئے پایا۔ایک ایک سیڑھی اس کے لئے پل صراط تھی۔وہ سہارا لیتے ہوئے نیچے اتر رہی تھی۔شگفتہ بی بی اپنے ہاتھو ں سے اس کو پیار کر رہی تھی
’’ خیال رکھنا اپنا۔۔اور کھانا وقت پر کھانا۔۔‘‘ بچوں کی طرح وہ نصیحت کر رہی تھی مگر یہ نصیحت آج اس گراں نہیں تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ آج اس جیسی کئی اور نصیحتیں کی جائیں وہ ان کو سننا چاہتا تھا۔ان پر عمل کرنا چاہتا تھا
’’جی امی۔۔‘‘ اس نے پیار سے اُن کے ہاتھوں کو چوما تھا۔ یہ دیکھ کر شگفتہ بی بی کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔انہوں نے جھٹ ضرغام کو اپنے گلے لگا لیا۔ ایسا لگ رہا تھا ۔ جس وقت کا انہوں نے اتنا عرصہ انتظار کیا ، وہ پل آگیا ہے۔ ان کا بیٹا ، ان کے پاس ہے۔وہ بیٹاجو ان کا اپنا تھا۔ان کا کہا مانتا تھا۔ممتا کی تشنگی تھی کہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ وہ بھی ان کے پاس کھڑی آنکھوں میں اشک سموئے ہوئے تھی۔
’’ اب چلتا ہوں۔۔‘‘ آہستہ سے پیچھے ہٹا اور ایک نرم گرم نگاہ وجیہہ کے وجود پر ڈالی تو جیسے اس کے بپھرے وجود کو کنارہ مل گیا۔ اس کی خاموش نگاہوں نے اسے وہ کچھ کہہ دیا جو شاید وہ بول کر بھی نہیں کہہ سکتا تھا
’’ اچھا پھر اب میں چلتا ہوں۔۔‘‘ آگے بڑھ کر اس نے ابھی اپنا سوٹ کیس ہی اٹھا یا تھا کہ مضبوط قدموں کی آوازوں نے سب کو دروازے کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے ہاتھ سے سوٹ کیس پھسل گیا۔ ایک زور دار آواز پیدا ہوئی۔ وجیہہ کی نظریں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں۔شگفتہ بی بی بھی یک ٹک دروازے کی طرف دیکھتی جا رہی تھیں۔ تین آدمی بغیر اجازت کے گھر میں داخل ہوتے جا رہے تھے۔ تینوں سے سیاہ شرٹ اور خاکی پینٹ پہنی ہوئی تھی ۔ ایک کے ہاتھ میں چھری اور ایک کے ہاتھ میں ہتکھڑیاں تھی۔ تیسرا آدمی ان کا افسر معلوم ہوتا تھا۔وہ خالی ہاتھ بس سب چیزوں کوگھورتا جا رہا تھا
’’جج جی آپ۔۔‘‘ ضرغام نے ہکلاتے ہوئے کہا تھا
’’آپ ہی مسٹر ضرغام عباسی ہیں؟‘‘ اس افسر نے تصدیق چاہی تھی
’’ جی میں ہی ضرغام عباسی ہوں۔۔‘‘غیر یقینی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے جواب دیا
’’آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔۔!!‘‘ یہ آواز صور اسرافیل کی مانند تھی۔وجیہہ کی تو جان ہی نکل گئی۔ ایک ایسا دھچکا لگا کہ وہ صوفے سے ہی جا ٹکڑائی ۔اسے اپنی سماعت پر یقین ہی نہیں�آرہا تھا۔
’’ کیا کہا آپ نے؟‘‘ شگفتہ بی بی نے بھی غیر یقینی طور پر استفسار کیا تھا
’’مسٹر ضرغا م عباسی کو گرفتار کیا جا تا ہے۔۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر کہا او ر اپنے سے پیچھے کھڑے حوالدا ر کو آنکھوں سے اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھا اور ضرغام کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنانے لگا۔ضرغام تو جیسے اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔ غیر یقینی طو ر پر وہ سب کو دیکھتا جا رہا تھا
’’ مگر کیوں کر رہے ہیں آپ میرے بیٹے کو گرفتار ؟ آخر کیا کیا ہے اس نے؟‘‘شگفتہ بی بی نے سخت لہجے میں استفسار کیا تھا۔
’’آپ کے بیٹے کے خلاف زیادتی کی ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے۔۔۔‘‘اس ایک جملے نے دوسری بار صوراسرافیل کا کام کیا تھا۔وجیہہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ایک پل کے لئے نہ ہی وہ کچھ دیکھ سکی تھی اور نہ ہی کچھ سن سکی تھی۔شگفتہ بی بی کے پاؤں تلے سے تو جیسے کسی نے زمین ہی چھین لی ہو۔ اپنے آپ کو خلا میں کھڑا ہوا محسوس کر رہی تھیں۔ ضرغام اس کی تو حالت ہی ناقابل بیاں تھی۔ حوالدار اس کو ہتھکڑیاں پہنچا چکا تھا۔
’’مس عنایہ نے ان کے خلاف زبردستی کرنے کی ایف آئی آر کٹوائی ہے۔‘‘اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی ر ہ گئیں۔اس نے غیر یقین طور پر اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھاتو ہتھکڑی میں جکڑا ہوا پایا
’’ نن نن نہیں۔۔۔یہ جھوٹ ہے۔۔‘‘ شگفتہ بی بی نے زیر لب کہا تھا
’’ دیکھئے۔۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔ میرا بیٹا ایسا گھناؤنا کام نہیں کر سکتا۔۔‘‘ شگفتہ بی بی ا ن کے سامنے آہ و زاری کر رہی تھی مگر ان سب کا کوئی فائدہ نہیں تھا
’’دیکھئے ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ مِس عنایہ ہمارے پاس خود آئی تھیں اور انہوں نے بذات خود مسٹر ضرغام عباسی کے خلاف یہ ایف آئی آر کٹوائی ہے۔ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔۔‘‘ وجیہہ پر ایک ایک لفظ پہاڑ بن کر نازل ہو رہا تھا۔ وہ پھٹی آنکھوں سے ضرغام کی طرف دیکھ رہی تھی۔شک دل میں جنم دے رہا تھا
’’آپ کا یوں اچانک کیسے پلان بنا آوٹ آف کنٹری جانے کا؟‘‘اپنا ہی سوال اس کے لئے وبال جان بن گیا تھا۔بار بار ایک جملہ اس کے ذہن میں ہتھوڑے مار رہا تھا
’’وقت کا تقاضا ہے کہ میں کچھ عرصہ کے لئے یہاں سے چلا جاؤں۔۔۔‘‘
’’ وہ جانا چاہتا تھا مگر کیوں؟ اس لئے۔۔‘‘ دل دو دماغ کی جنگ چھڑ گئی
’’ نہیں وہ ایسا نہیں ہے۔۔۔‘‘د ل کہہ رہا تھا
’’ پھر اچانک جانے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟‘‘ دماغ کہہ رہا تھا
’’میرا یقین کرنے کی کوشش کرو وجیہہ۔۔ یہ سب سچ نہیں ہے۔یہ سب فریب ہے ۔‘‘ضرغام کی خاموش نگاہیں اس کے سامنے منتیں سماجت کر رہی تھیں۔
’’تو پھر سچ کیا ہے؟‘‘ اس کا دل بار بار پوچھ رہا تھا مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہہ پاتا اسے وہاں سے لے جایا جا رہا تھا
’’ لے چلو اس کو۔۔۔‘‘حوالدار نے زبردستی اسے گھسیٹنا شروع کر دیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے سات جا رہا تھا مگر اس کی نگاہیں وجیہہ کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
’’ مت لے کر جاؤ ۔۔ میرے بیٹے کو۔۔۔وہ ایسا نہیں کر سکتا۔۔‘‘ممتا صفائی دے رہی تھی مگراس کی شنوائی نہیں ہو رہی تھی
’’چلو ۔۔۔‘‘ افسر باہر چلاگیا۔ اس کے پیچھے پیچھے دونوں حوالدار بھی ضرغام کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔ شگفتہ بی بی آہ و بکا کرتی رہ گئیں
’’ رکو۔۔۔ کوئی تو روکو۔۔‘‘ وہ دوڑتی ہوئی وجیہہ کے پاس آئیں
’’ وجیہہ روکو انہیں۔۔۔ کہو ان سے کہ ضرغام ایسی گھناؤنی حرکت نہیں کر سکتا۔۔۔ ‘‘وجیہہ بت بنی ان کی باتیں سنتی رہی مگر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی
’’ کچھ تو بولو۔۔۔‘‘ اس کو جھنجوڑتے ہوئے شگفتہ بی بی نے کہا تھا تبھی انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو ضرغام کو لے جایا جا چکا تھا۔وہ بھاگ کر دہلیز کے پاس گئیں
’’ ضرغام۔۔۔۔‘‘ چیخ کر کہا اور پھر آہستہ آہستہ زمین بوس ہوتی گئیں
’’ امی۔۔‘‘ وجیہہ شگفتہ بی بی کی حالت دیکھ کر ان کی طرف لپکی۔اتنا بڑا صدمہ وہ برداشت نہ کرپائی تھیں ۔ درد کی ایک لہر ان کے جسم کے بائیں حصے میں سرایت کرنے لگی
’’ امی۔۔ ‘‘ وہ ہکلاتے ہوئے ان کے چہرے کو تھپتھپا رہی تھی ۔ مگر ان کی آنکھیں مسلسل بند ہوتی جا رہی تھیں
* * * *
ایمرجینسی وارڈ سے باہر رضیہ بیگم حوصلہ دے رہی تھیں مگر اس کی پریشانی تھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
’’بیٹا حوصلہ کرو۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔‘‘رضیہ بیگم کی آنکھوں سے بھی اشک جا ری تھے
’’ امی ۔۔۔‘‘روتے ہوئے و ہ ان کے گلے لگ گئی تبھی وارڈ کا دروازہ کھلا
’’ ڈاکٹر ۔۔ امی ٹھیک تو ہے ناں۔۔‘‘وجیہہ ان کی طرف لپکی مگر اس ڈاکٹر کے چہرے پر ایک تاسف تھا
’’ دیکھیے۔۔ ہم نے پوری کوشش کی مگر۔۔۔‘‘ نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی
’’ نہیں۔۔۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے وہ وہ دروازہ کھول کر وارڈ میں گئی تو شگفتہ بی بی اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ غشی ان پر طاری تھی ۔ آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ وہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس گئی اور ان کے سر پر کپکپاتے ہوئے ہاتھ پھیرنے لگی
’’آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ ہکلا کر بول رہی تھی
’’وجیہہ۔۔‘‘ انہوں نے ہکلاتے ہوئے اس کا نام لیا تھا۔
’’ نہیں امی۔۔ زیادہ نہیں بولنا۔۔ ابھی آپ آرام کرو۔۔ بعد میں جب ٹھیک ہوجائیں گی ناں آپ تب بات کریں گے۔۔‘‘ وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے کہہ رہی تھی
’’وجیہہ مم مجھ سے وعدہ کرو۔۔‘‘انہوں نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے وجیہہ کا ہاتھ پکڑا تھا۔
’’امی۔۔ آپ مت بولیں۔۔‘‘آنکھوں سے اشک جار ی تھے۔ رضیہ بیگم اور علی عظمت بھی اندر آگئے
’’ضرغام پر کبھی شک نہیں کرو گی۔۔۔اس کا ساتھ دو گی۔۔وہ ایسا کام نہیں کرسکتا۔یہ سب جھوٹ ہے۔۔‘‘وہ گہرے سانس لیتے ہوئے کہہ رہی تھیں
’’ امی۔۔۔‘‘ وہ روتے ہوئے ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی
’’وجیہہ میں ایک ماں ہوں۔ مجھے اپنے بیٹے کی ایک ایک خصلت کا پتا ہے۔میرا بیٹا بد لحاظ ، بد تمیز ہو سکتا ہے مگر بد کرار نہیں۔یہ اس پر بہتا ن باندھا گیا ہے۔تم مجھ سے وعدہ کرو میرے بیٹے کا ساتھ نہیں چھوڑو گی۔اس بہتان کو اس کے سر سے اتارو گی۔۔اس کی مدد کر و گی‘‘ان کی سانسیں اکھڑنے گی تھیں۔ ہاتھوں میں بھی لرزش زور پکڑ رہی تھی
’’ امی۔۔۔یہ وقت ایسی باتیں کرنے کا نہیں ہے۔۔‘‘
’’ وعدہ کرو مجھ سے۔۔۔ میرے بعد اس کا خیال رکھو گی۔۔‘‘سانسیں اکھڑنے کو تیار کھڑی تھیں مگر ایک ڈور انہیں روکے ہوئے تھی
’’ امی۔۔۔ پلز۔۔‘‘ آنکھوں سے اشک رواں دواں جاری تھی۔ دونوں ہاتھوں سے ان کا ہاتھ تھامے وہ ان کے سرہانے بیٹھی تھی
’’وجیہہ۔۔۔ و۔۔وع۔۔وعدہ۔۔۔ کرو۔۔۔ ‘‘ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے ایک بار پھر کہا
’’ میں وعدہ کرتی ہوں۔۔‘‘شگفتہ بی بی کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس نے بنا سوچے سمجھے اثبات میں سر ہلادیا۔ شاید ان کی سانسیں یہی سننے کے لئے اٹکی ہوئی تھیں یہ لفظ سننے کی دیر تھی کہ ہاتھ ہوا کے پروں پر سوار ہو کر ان کے سینے پر آگرا ۔ پورا جسم بے جان ہوگیا
’’ امی۔۔۔‘‘ وہ چلائی تھی مگرآواز ان تک پہنچنے سے قاصر تھی
’’ بیٹا! حوصلہ کرو۔۔۔‘‘ علی عظمت نے وجیہہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا
* * * *

******
ناول ابھی جاری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 63886 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
24 Sep, 2017 Views: 404

Comments

آپ کی رائے