میں سلمان ہوں(٩٠)

(Hukhan, karachi)
جانے کیوں دل ہوا جاتا ہے قربان
کیا کیجئے ظالم ہے اس کی مسکان
جاتا ہی نہیں اب کہیں اور دھیان
آہٹ پر لگے رہتے ہیں اب ہمارے کان

میرے اللہ،،،اس معصوم سی گڑیا نے ایسا کیا کہہ دیا،،،کہ تیرا پارہ نیچے ہی نہیں آتا ہے
کم بخت کسی اور کے گھر میں ہی پیدا ہو جانا تھا نہ،،،،کیوں ،،،ملکہ عالیہ ہمارے گھر
کا ہی رخ کرنا تھا،،،پوری دنیا میں یہی گھر ملا تھا پیدا ہونے کو،،،
اللہ اللہ کرکے کوئی اچھا انسان ملا،،،اوپر سے شہر کے رئیس اس کے ضمانتی،،،پھربھی
ندا جی کا دماغ نیچے نہیں آکر دے رہا،،،ندا کی ماں بانو کا پارا بھی چڑھ گیا۔۔

ندا نے اپنی ماں کو ایسے دیکھا،،،جیسے وہ کوئی آسمانی مخلوق ہو،،،

ندا نے ماں کے ہی لہجے میں جواب دینا شروع کر دیا،،،ماں تم اور وہ دونوں اک سے ہی ہو
ماں نےحیرت سے کہا وہ کون؟؟
وہ سلمان اور کون،،،ندا کی ٹون نیچے آنے کو تیار نہ تھی،،،،

ماں نے حیرت سے چینچ کرکہا،،،ہائے اس بچے سلمان کا کیا قصور،،،وہ کوئی گن پوائنٹ پر
کروا رہا ہے تیری شادی،،،منع کر دے،،،ماں نے جلے ہوئے لہجےمیں کہا،،‘‘ویسے تو ہمیں
تو منع کرسکتی ہے،،،پر سلمان کو نہ،،،،ہو ہی نہیں سکتا،،،ہے نا؟؟؟

ندا کا غصہ جنجھلاہٹ میں تبدیل ہو گیا،،،ندا نے نرم لہجے میں کہا،،،وہ کونسا میرا کوئی
سگا ہے،،،جب سگے ہی نہیں سمجھتے،،،وہ تو پھر پرایا ہے،،،

ماں کو ندا پر ترس آگیا،،،بیٹی ایسے تو نہ بول،،،ہم یا وہ کوئی بھی تیرا دشمن نہیں ہے
ہاں یہ ہے کہ تیرے سر میں چمکتی چاندی دیکھنے کی ہمت نہیں،،،
ندا مسکرا کر ماں کے پاس آگئی،،،اچھا اتنا پیار یا ڈر؟؟
ماں بولی بیٹی اللہ تجھے بیٹی نہ دے،،،اور اگر دے تو وقت پر اسے سر کا سایہ مل جائے،،،
ویسے وہ تجھے کیا کہہ رہی تھی،،،سلمان کے کمرے میں،،،ماں کی آنکھوں میں تجسس
پیدا ہو گیا،،،

ندا کے چہرے پر بے روح سی مسکراہٹ آگئی،،،ندا نے لمبی سی سانس لی،،،بس ماں
وہ بتانے آئی تھی ،،،کہ میں خوبصورت ہوں۔۔تعلیم یافتہ ہوں۔۔پیسے والی ہوں،،،،
میری زندگی میں ہر رنگ ہے۔۔ہر روپ ہے۔۔میرا جسم ہڈیوں کا مجموعہ نہیں،،،اس لیے
میں تیرا سلمان لے جارہی ہوں،،،

ندا کی آنکھیں بھیگ گئیں،،،ماں حیرت سے اس دکھوں کی پوٹلی کو تکنے لگی،،،
ہر جنم اس کے نام کر دوں
ہر شام اس کے نام کردوں
بس اب بہت ہوگئی دوری
آؤ اپنی ہر سانس تمہارے نام کر دوں۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 860091 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2017 Views: 1021

Comments

آپ کی رائے
bhut alaa dost
By: rahi, karachi on Sep, 27 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 28 2017
0 Like
good brother
By: sohail memon, karachi on Sep, 27 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 28 2017
0 Like
very nice very touching to heart and so realistic,,,i love trica of love lets see where it goes
By: khalid, karachi on Sep, 27 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 28 2017
0 Like