میرے اساتذہ،میرے آئیڈیل،میرے محسن

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
جناب صدر استاد کون ہے ؟
انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور پھر ماں اپنے جگر کا ٹکڑا استاد کے حوالے کر دیتی ہے اور استاد اس کے لئے پوری دنیا کو ایک درسگاہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ باپ بچے کو زمین پر قدم قدم چلنا سکھاتا ہے ، استاد اسے دنیا میں آگے بڑھنا سکھا تاہے۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔معلّمی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ ’’کاش میں ایک معلم ہوتا‘۔ استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں کہ ’’ استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے‘‘۔علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ علیہ کے یہ الفاظ معلم کی عظمت و اہمیت کے عکاس ہیں۔’’استاد در اصل قوم کے محافظ ہیں۔کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور انکو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگذاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگذاری ملک کے معلموں کی کارگذاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسکے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اسکی محنت ہے۔ معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے۔لیکن اس کے علم سے فائدہ و ہ نیک بخت اْٹھاتے ہیں۔جنکے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں۔کیونکہ :الادب شجر والعلم ثمر فکیف یجدون الثمر بدون الشجر۔’’ادب ایک درخت ہے اور علم اسکا پھل۔اگر درخت ہی نہ ہوتو پھل کیسے لگے گا؟‘‘
خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت سیدنا علی مولود کعبہ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا!’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے اُستادکا درجہ دیتاہو ں۔ایک دوسرے موقعہ پر فرماتے ہیں کہ’’(صاحب علم)علم والےکا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ہمیں اساتذہ اور ہرعلم والے کا ادب کرنا چاہیے
باادب بانصیب، بے ادب بےنصیب
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

اب جس وقت ہم تعلیمی مراحل طے کر رہےہیں ،ہمارے پسندیدہ اساتذہ کا ہم باقائدہ ان کا انتظارکرتے ہیں کہ کب کلاس روم میں آئیںگے اور علم کے موتی نچھاور کرینگے،کب علم کے بحر بے کنار سے ہیمیں بھی مستفید کریں گے،کب ہمارے اساتذہ آئیں گے علم و ہنر کے لازوال موتی تقسیم کریں گے،کب ہمارے استذہ آئیں گے اور متلاشیان علم مرویدان علم کی پیاس کو مٹائیں گے
کون ہیں ہمارے اساتذہ؟
ہمارے اساتذہ وہ ہیں جب کلاس روم میں داخل ہوئے تو ان کی تمام توجہ ہماری جانب مبذول ہوجاتی ہے وہ ہرطالب علم کا نام لیکر اس کا حال احوال پوچھتے ہیں اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتاتو اسے حل کرنے میں ذاتی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں ،ان کے پڑھانے کا انداز اتنا پیارا اور مشفقانہ کہ ہر بات دل اور دماغ پر نقش ہوجاتی ،وہ انتہائی دوستانہ انداز میں بات کرتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے سامنے شفقت کا سمندر بہہ رہاہے کسی طالبعلم کو کوئی سزا دیناتو دور کی بات،ڈانٹ تک نہ پلاتے کوئی غلطی کرتا تو اسے انتہائی پیار سے سمجھتاتے ہیں اکثر طالب علم کی ظاہری حالت دیکھ کر اسکے حالات کا اندازہ لگا لیتے ہیں اگر کوئی طالبعلم دو چار دن تک فیس جمع نہیں کرواتا تو اپنی جیب سے ادائیگی کرتے ہیں اور کئی غریب طلبہ کی مدد بھی کرتے وہ ہم طلبہ کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے آس پاس کی خبر رکھا کرو کوئی طالبعلم کتب یا یونیفارم خریدنے کی سکت نہ رکھتا ہوتو اسے اپنی گرہ سے کتابیں اور یونیفارم خرید کر دیتے اور اس نیکی کا ذکر کبھی نہیں کرتے ،دل اور دماغ میں اتر جانے والی یہ شخصیات آج بھی اپنی عادات پر قائم ہیں
ہم ان سے ملنے جاتے ہیں تو کھڑے ہو کر ملتے ہیں اپنے برابر بٹھاتے ہیں میں بھی ہم اپنے دوستوں کو فخر سے بتاتاہیں کہ یہ ہیں ہمارے اساتذہ،ہمارے آئیڈیل یہ ہیں ہمارے محسن وہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے استاد کی عزت کروگے تو علم کے وہ موتی نصیب ہونگے جن کی چمک دمک سے تمہاری شخصیت خیرہ ہوجائیگی آج کے دور کے بڑے مسائل جھوٹ' غیبت اور خود غرضی ہیں اور ان اخلاقی امراض کا اثر بچوں پر بھی ہوتا ہے۔
وہ نصیحت کرتے ہیں کہ بُری صحبت سے بچو،اچھی ،نیک صحبت اختیار کرو
حضرت شیخ سعدی نے فرمایا
صحبت صالح ترا صالح کند۔۔۔صحبت طالع ترا طالع کند
ہمارے اساتذہ ہمارے والدین اگر کسی کام سے ہمیں روکتے ہیں تو ان کے سامنے ہمارا مستقبل ہوتا ہے وہ ہمارے بھلے کے لئے روک ٹوک کرتے ہیں دراصل ان کی روک ٹوک ہمارے لئے باعث رحمت ہے
کسی نے کیا خوب کہا کہ
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
اگر ہمیں کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو استاد کے مقام کو سمجھنا ہوگا۔
کسی کہنے والے نے کہا
میرے ماں باپ نے تو
مجھے صرف جنم ہے دیا
مجھے انسان تو آپ نے ہے بنایا
میرے جسم کی تعمیر
بے شک میرے ماں باپ نے کی لیکن
میری روح کو تو آپ نے ہے سنوارہ
میرے ماں باپ نے
مجھے جب بولنا اور چلنا سیکھایا
تو حق بات اور سیدھا راستہ
آپ نے ہی مجھ کو سمجھایا
اے میرے استادِ محترم
آج میں جو کچھ بھی ہوں
آپ ہی کی وجہ ہے ہوں
جو آپ نے
میرے ہاتھوں میں
علم کی شمع نہ تھمائی ہوتی
میں جاہلت کے اندھیروں میں
کب کا بٹھک گیا ہوتا
جو آپ نہ ہوتے
میں ہوتا ضرور لیکن
شاید آوارہ اور بد چلن ہوتا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 111 Articles with 96751 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Sep, 2017 Views: 2281

Comments

آپ کی رائے