میں سلمان ہوں(٩٤)

(Hukhan, karachi)
ہر روز زندگی اک نیا سوال پوچھتی ہے
دینے کو بزدلی کا نیا طعنہ ڈھونڈتی ہے

تم خود تو بکھرے ہوئے ہی ہو،،،اپنے اطراف ہر چیز بکھری ہوئی کیوں دیکھنا چاہتے ہو،،،
خود کو سمیٹ کیوں نہیں لیتے؟؟،،،سلمان کے ہونٹ مسکرانا چاہتے تھے،،،مگر سکڑ کے
واپس اپنی ساخت پر آگئے،،،

سنجیدہ لہجے میں ندا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ،،،اپنے درد کو چھپانے کی کوشش
کرنے لگا،،،ندا طنزیہ انداز میں بولی،،،جھوٹ کی کوشش کر رہے ہو،،،دیکھنا چاہتے ہو
کہ میں بے وقوف بنوں گی یا نہیں،،،

سلمان نے چھت کے پنکھے کو دیکھنا شروع کر دیا،،،ندا جی ہم لوگ اپنی مرضی سے
نہیں جیتے،،،جہاں زمانہ لے جائے،،،اسی جانب جاناہوتا ہے،،،حالات جیسے بھی ہوں
ان کو جھیلناپڑتا ہے،،،ہم جیسے لوگ سمندر کی موج کے لیے تنکےسے ذیادہ کچھ
نہیں ہوتے،،،موج کی مرضی ساحل کی نظر کر دے،،،یا بیچ سمندر میں غوطہ دے دے
کرمار دے،،،ہمارے مرنے جینے سے ذرا برابر کوئی فرق نہیں پڑتا،،،

زمانے کی نظر میں ہم لوگ بس اک اکائی ہیں،،،،اس سے ذیادہ کچھ نہیں،،،
ندا نے اداس نظروں سے سلمان کو دیکھا،،،اسے سلمان کا یہ روپ اچھا نہیں لگ رہا
تھا،،،اک ٹوٹا ہوا انسان اب بکھرنے کو تھا،،،
وہ اپنی طاقت جمع کرکے بولی،،،سلمان تم بھی اتنے مایوس ہو،،،اتنے شکستہ،،،

دروازے پر کھٹکا ہوا،،،نداکی امی بانو کمرے میں داخل ہوئی،،،چائے کا کپ سلمان
کی طرف بڑھا دیا،،،کیسے ہو؟؟،،سلمان مسکر دیا،،،بس بہت بہتر ،یا ذرا،،،جیسا پہلےتھا،،
بانو نے شکرانہ انداز میں اوپر دیکھا،،،
ندا نے ماحول کی اداسی دورکرنے کے لیے مصنوئی ناراضگی سے ماں کو دیکھا،،،
ماں میری چائے کہاں ہے،،،یہ ذرا بیمار کیا پڑا سب کچھ اسی کے لیے،،،

بیٹا باورچی خانے میں ہو گی،،،جا لے آ،،،بانو نے ندا کی بات کو نظر انداز کر دیا،،،
ندا باہر کو چل دی،،،اس کی آنکھوں کے رکے آنسو اس کی پلکوں کو چھونے لگے،،،سلمان تو
ایسا نہ تھا،،،پھر خود ہی خودکو تسلی دی،،،بیماری کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے،،،صحت کے
ساتھ ہی اس کی مضبوطی واپس آ جائےگی،،،

دروازے پر دستک ہوئی،،،اوہ،،،رات کے گیارہ بجے کون آگیا،،،شاید بابا پھوپھو کےگھرسے
لوٹ آئے ہوں،،،،ندا کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا،،،دوسرے ہاتھ سے دروازے کھولا،،،
تو سامنے۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 861749 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2017 Views: 694

Comments

آپ کی رائے
its really walks like ever day news and story we all are part of all this,,,its like a drama in our tv lounge
By: khalid, karachi on Oct, 05 2017
Reply Reply
0 Like
thx for like yes its belongs to our daily life routine.
By: hukhan, karachi on Oct, 05 2017
0 Like
nice one brother
By: sohail memon, karachi on Oct, 05 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 05 2017
0 Like