روہنگیا کی بیٹی کے آنسو

(Tanveer Awan, Islamabad)

اصول ،ضابطے اور حدود تو چوپائیوں کے بھی ہوتی ہیں مگرروہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار کی فوج اور بودھ مت کی تعلیمات کا دم بھرنے والوں نے جنگل کے جانوروں اور درندوں سے بھی بدتررویہ اختیار کررکھا ہے ،جہاں روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے ،وہاں کے باسیوں کی نہ جانیں محفوظ ہیں اور نہ عزتیں ، ان کی عورتوں کو اجتماعی جنسی زیادتیوں، تشدد ، ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ دوران زچگی ایک عورت کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب کہ معصوم بچوں سے ان کی سانسیں تک چھین لی گئی ہیں ،الغرض برمی فوج اور انتہا پسند بھکشو روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے ایسی سنگین انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہورہے ہیں جن کو سن کرسینے میں دل رکھنے والا ہر انسان تڑپ اٹھتا ہے ،اگر عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا جائے توانتہائی کرب ناک حقائق سامنے آتے ہیں ،ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے ڈاکٹروں نے بنگلا دیش کے مہاجر کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے درجنوں روہنگیا خواتین کے جسموں پر خوفناک جنسی تشدد کے نشانات دیکھے جنہیں دیکھ کر حیوان بھی شرما جائیں ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے سیکڑشوں خواتین کا اعلاج کیا جن کے جسموں پر جنسی حملوں کے خوفناک گھاؤ تھے۔ برمی فوجی مسلمان خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان پر تشدد بھی کرتی ہے یہاں تک کہ بعض عورتوں کے نازک اعضا پر بندوق داخل کرنے کی انسانیت سوز کوشش کی گئی۔ آئی او ایم کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک خاتون کے ساتھ کم از کم 7 برمی فوجیوں نے زیادتی کی اور وہ انتہائی کمزور اور صدمے کی کیفیت میں تھی،بلاشبہ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے طبی ماہرین کی روہنگیا خواتین پر جنسی تشدد کی تصدیق ہوتی ہے حالانکہ اقوام متحدہ کے ڈاکٹرز اور امدادی کارکن عموما کسی ملک کی مسلح افواج کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں پر بات نہیں کرتے لیکن روہنگیا خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی کا مظاہرہ اتنا سنگین ہے کہ وہ بھی بولنے پر مجبور ہوگئےہیں ،اگر خاموش ہے تو میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی ،اگر پرسکون ہیں تو حقوق نسواں کے لیے بے چین ہونے والی مغربی این جی اووز،جب کہ پاکستانی مختاراں مائی اورملالہ یوسفزئی جیسے کرداروں پر واویلا کرنے والوں کو روہنگیا کی بیٹی کی آبرو ریزی ،تشدداور قتلں بے چین نہیں ہوتےہیں ،قابل توجہ امر یہ ہے کہ میانمار کی روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف ریاستی سطح پر نسل کشی پر عالمی طاقتوں کے صرف بیانات اور مذمتوں کی حد تک رد عمل کا اظہار کیا گیا جب کہ یہودی ،عیسائی ،ہندو اور بدھ مت سمیت کسی بھی دوسری اقلیت کے ساتھ کسی ملک میں ان جیسے انسانی حقوق کی پامالی کا عشر عشیر کاسامنا ہوتا توعالمی طاقتیں متعلقہ ملک کا بین الاقوامی سطح پر بائیکاٹ کرتیں اور عسکری مہم جوئی سمیت ہر ممکنہ صورت کو استعمال کیا جاتا لیکن روہنگیا کی بیٹی کے حقوق کی پامالی پر عالمی حمیت و غیرت خاموش ہے اور حقو ق نسواں کے علمبردار گہری نیند سوئےہوئے ہیں مزید یہ کہ عالمی قوتیں اپنے دوہرے معیار کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو کسی مذہب کے ساتھ مخصوص کرنے کے بجائے حقائق کا دامن تھامتے ہوئے مسائل کا حل نکالے ،جب کہ میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی سے نوبل انعام کی عدم واپسی اور مسلم ممالک کا میانمار حکومت سے مکمل سفارتی وتجارتی تعلقات ختم نہ کرنا بھی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں اضافے کا باعث ہے ،جو بہرحال ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141444 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
06 Oct, 2017 Views: 451

Comments

آپ کی رائے