ذمہ دار شہری بنیں

(Mariyam Hafeez, Lahore)

اپنے ملک کی فلاح و ترقی کے لیے کوشش کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ اس فرض میں کوتاہی کرنا خیانت ہے۔ محب الوطن ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ پاکستان کا خیال رکھیں۔ ملک کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے وطن کو صاف ستھرا رکھیں۔ اس کے لیے کوشش کریں، مگر پاکستان میں زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے لیے کچھ خاص اقدمات نہیں کیے جاتے۔ کوئی خاص لائحہ عمل نہیں تیار کیا جاتا۔ کوئی منصوبہ سازی نہیں کی جاتی۔ ملک کا کوچہ کوچہ صاف ستھرا دکھائی دے، جس سے ماحول خوش خوار بنے۔ یہ صرف حکومت کی نہیں، عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔

دوسرے ممالک سے اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں صفائی ستھرائی کے بہت ناقص انتظامات ہیں اور اس کو کچھ خاص اہمیت دی بھی نہیں جاتی۔ جبکہ دیگر ممالک میں اپنے ملک کو خوبصورت اور صاف ستھرا رکھنے کے لیے خاص منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے خاص اصول متعن کیے جاتے ہیں۔ ان اصولوں پر عمل کرنے والے کو اچھا شہری تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کے لیے سزا تجویز کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے تمام لوگ اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ چاہے وہ ملک کا بادشاہ ہو یا ایک عام شہری ہو۔ سب سے ان اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مواخذہ کیا جاتا ہے۔

نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ اس روایت کے مکلف مسلمان ہیں، مگر اس پر عمل یورب میں ہو رہا ہے۔ جبکہ وہ نہ تو اس فرمان کے مکلف ہیں اور نہ اس کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ مگر اتنا تو ہر شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ صفائی کی اہمیت کتنی ہے اور گندگی سے ہر انسان کو کراہت محسوس ہوتی ہے اور ہر عقل و شعور رکھنے والا انسان جہاں اپنی جسمانی صفائی کا خیال رکھتا ہے۔ اپنے گھر، گلی کوچوں کو بھی صاف ستھرا رکھتا ہے۔

صفائی کے ناقص انتظامات میں جہاں حکومت کی لاپرواہی شامل ہے، وہاں عوام کی بھی کوتاہی ہے، کیونکہ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے شہری صفائی ستھرائی کا کچھ خاص خیال نہیں کرتے۔ اپنے گھروں کو صاف کرنے کے بعد کچرا گلیوں اور سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ جبکہ یہ غیر اخلاقی حرکت بھی ہے اور ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے اصول و ضوابط کے خلاف ورزی بھی ہے اور دوسرے انسانوں کو اس سے ایذا بھی ہوتی ہے، جبکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کی ہمیں اجازت نہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ کوڑا دان میں کچرا پھینکنے کی بجائے پاس ہی سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یا کبھی گاڑی میں جاتے ہوئے کھانے پینے کے بعد چھلکے، جوس کے ڈبے، بوتلیں وغیرہ گاڑی سے باہر سڑک پر پھینک کر چلے جاتے ہیں۔ پھر اس کو غلطی بھی شمار نہیں کرتے کہ جس کی اصلاح مطلوب ہو۔ اپنے وطن کو گندہ کرنے میں عوام بھی برابر کے شریک ہیں۔ عموماً شادیوں یا عید قربان کے مواقع پر ایسا بہت دیکھنے میں آتا ہے۔ شادیوں میں لوگ برتنوں میں بہت سارا کھانا ڈال لیتے ہیں اور پھر اس کو بچا کر ضائع کر دیتے ہیں۔ جس سے رزق کی بھی بھی بے حرمتی ہوتی ہے اور گندگی بھی پھیلتی ہے۔

اسی طرح عید قربان کے موقع پر بھی لوگ اپنے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد آلائشیں سڑکوں پر گزر گاہوں پر پھینک کر چلے جاتے ہیں اور قصور وار حکومت کو ٹھراتے ہیں۔ جبکہ یہ گندگی پھیلانے والے شخص کی ہی ڈیوٹی ہے کہ اس کو صاف کرئے، تاکہ دوسروں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔ اگر کسی جگہ گندگی کی انتہاء ہو جائے تو میڈیا والے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ خبر تیار کر کے چند دن تک نشر کی جاتی ہے۔ لوگ انتظامیہ کو بہت طعن وتشنیع کرتے ہیں، مگر اس کے لیے اقدمات کچھ خاص نہیں کیے جاتے۔ پھر عوام الناس اور میڈیا سب خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی اپنے طور پر کوشش نہیں کرتا۔ ایسی سنگین صورت حال میں سب خاموش تماشائی بنے بس تماشا دیکھتے ہیں اور اس پر بھی کوئی خاص رد عمل نہیں ہوتا۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے نظر آتے ہیں، جبکہ کوڑا دان پاس پڑا شرما رہا ہوتا ہے۔ سبزی والا اور پھل والا اپنی ریڑھی کے گرد گندگی پھیلانے کا ذمہ دار خود ہے۔ گوشت والا اپنی دکان کے باہر کچرا پھینکنے کا ذمہ دار خود ہے۔ پیدل چلنے والا، گاڑی میں سوار، امیر، غریب، وزیر، بادشاہ ہر ایک اصول و ضوابط کا پابند ہیں، جو کسی جگہ رہنے کے لیے متعین ہوتے ہیں اور یہ اس کی ذمے لازم ہے۔

حدیث میں آتا ہے: ’’ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ لہٰذا ہر ایک شخص پر لازم ہے کہ اپنے اپنے طور ہراپنا کردار ادا کرئے اور ملک کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کرئے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں۔ خود بھی گندگی پھیلانے سے رکیں اور دوسروں کو بھی روکیں۔ جس طرح اپنے گھروں کو صاف رکھتے ہیں، باہر سڑکوں اور گلی کوچوں کو بھی صاف ستھرا رکھیں، کیونکہ پاکستان بھی ہمارا گھر ہے۔ کچرے کو یوں رستوں میں بکھیرنے کی بجائے کوڑا دان میں ڈالیں۔ ہمارا پاکستان خوبصورت دکھائی دے، اس کے لیے خاص اہتمام کریں۔ چاہیے کہ ملک میں جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور ان کے سپرد کیا جائے کہ وہ صفائی کی صورت حال کو مد نظر رکھیں۔ رستوں میں پودے لگائیں۔ اس کی راہوں کو مزین کریں اور خوبصورت پھولوں سے سجائیں، تاکہ ماحول خوش گوار ہو اور اس کی حکومت اور عوام دونوں کوشش کریں۔ ہر شخص چاہتا ہے، اس کا گھر خوبصورت ہو ماحول شاندار ہو اور اس کے لیے کوشش و محنت بھی ہر فرد کرتا ہے۔ پاکستان بھی ہمارا گھر ہے، اس کے لیے بھی ہمیں دل سے محنت کرنی چاہیے، تاکہ پاکستان ہرلحاظ سے بہترین ہو۔ پاکستان کو پاک صاف رکھنا چاہیے اور اچھے شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mariyam Hafeez

Read More Articles by Mariyam Hafeez: 3 Articles with 1852 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2017 Views: 636

Comments

آپ کی رائے