حج 2017 ء اور حکومتی اقدامات کا جائزہ

(Atif Farooq, Sargodha)

اس سال تقریباً 2.35 ملین حجاج کرام نے امن اور اتحاد کے ساتھ عالم اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں اپنے مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ حج مکمل کیا ۔ وزارت حج سعودی عرب کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس سال حج کے لئے مکہ مکرمہ آنے والے 2,352,122 حجاج کرام میں سے 1.75 ملین حجاج‘ سلطنت سعودی عرب سے باہر کے تھے ۔ صرف ایشیا سے حج کے لئے آنے والے حجاج کرام کی تعداد 10 لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے ۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کی خاطر یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب نے حج کوٹہ کو آبادی سے مشروط کررکھا ہے جس کے تحت ایک ہزار افراد کی آبادی پر ایک فرد کا حج کوٹہ دیا جاتا ہے ۔ گزشتہ سال مسجد الحرام میں توسیع اور تعمیراتی کام کی وجہ سے حج کوٹہ میں 20 فیصد کمی کی گئی تھی جسے امسال بحال کرکے پاکستان کا کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار سے زائد کردیا گیا تھا ۔ یہاں یہ امر بھی خصوصی دلچسپی کا حامل ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران حج کی درخواستوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بلاشُبہ وزارت مذہبی امورکی بہترین حکمت عملی کا مظہر ہے ۔
حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے جو پوری امت مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے۔ حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور بہت سے لوگ حج کو اپنی روحانی زندگی کی معراج سمجھتے ہیں ۔ اس موقع پر مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے مسلمان ایک ہی لباس، ایک ہی آواز بلند کرتے ہوئے حرمین شریفین کا رُخ کرتے ہیں ۔ ہر سال حج کے موقع پر جہاں سعودی حکومت مثالی اقدامات کرتی ہے وہیں پاکستان میں وزارت مذہبی امور حاجیوں کی خدمت کا جذبہ لے کر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے کی کوشش کرتی ہے ۔مگر صد افسوس کہ گزشتہ دور حکومت میں حج جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی میں بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بناکر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثال قائم کی ۔ گزشتہ ادوار میں حج جیسے مقدس فریضے کا بھی کرپشن کی بھینٹ چڑھایا جانا انتہائی افسوس ناک پہلو ہے ۔ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی ، ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور اس وقت کے سابق جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب اسلام سمیت دیگر ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2010 ء کے حج انتظامات کے دوران جدہ ، مکہ اور مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کے لئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیاں کیں اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے ۔ اس جرم کی پاداش میں ملکی عدالتوں نے مذکورہ شخصیات کو سزائیں بھی سنائیں تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کیس میں ماتحت عدلیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مارچ 2017 ء میں سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت دیگر ملزمان کو باعزت بری کردیا تھا ۔ اسی طرح 2012 ء میں حاجیوں کو موبائل فونز کی فراہمی کے پراجیکٹ میں بھی کرپشن کی خبریں زبان زدوعام ہوتی رہیں ۔ کرپشن اور اس سے متعلقہ جرائم نے جہاں وزارت مذہبی امور جیسی غیر معمولی اہمیت کی حامل وزارت کو داغدار کیا وہیں عازمین حج کا سرکاری حج سکیم سے اعتماد اٹھنے لگا ۔ 2013 ء میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس بابت خصوصی توجہ دی اور میاں محمد نواز شریف نے وزارت مذہبی امور کو آئندہ حج کے لئے انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام ‘ اﷲ تعالیٰ کے مہمان ہیں انہیں ہوائی اڈوں ، منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں تین وقت کا کھانا فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے اور حجاج کرام کو کم سے کم خرچ پر سفر اور قیام کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں ۔

ایک تقریب میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ نے اپنے وزیر مملکت کے انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر منتخب ہونے کے بعد جب میری ملاقات میاں محمد نواز شریف سے ہوئی تو میں نے ازراہِ مذاق گِلہ کیا کہ مجھے کسی ’’تگڑی‘‘ وزارت کا قلمدان کیوں نہیں سونپا گیا تو میاں محمد نواز شریف میری بات سن کر مسکرادئیے اور بولے : ’’شاہ صاحب ! آپ کا گِلہ اپنی جگہ بجا مگر وزارت مذہبی امور کو چلانے کیلئے کیا آسمان سے فرشتے اتریں گے ؟‘‘

حج 2017 ء کے انتظامات کے حوالے سے پیر محمد امین الحسنات شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا اعتراف معاشرے کے تمام طبقات نے کیا ہے ۔ وزیر اعظم کے ویژن کی روشنی میں حج انتظامات میں بہتری لائی گئی ہے ۔ حجاج کرام کے لئے رہائش گاہوں کے حصول ، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ اور دوسری متعلقہ سہولیات کی فراہمی کا عمل پہلے سے کافی بہتر ہوچکا ہے ۔ چند روز قبل ایک تقریب کے دوران پیر محمد امین الحسنات شاہ نے بتایا کہ پاکستان کا سرکاری حج پورے خطے میں زیادہ سہولیات اور کم اخراجات والا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں انتہائی شکرگزار ہیں کہ اس نے ہم سے اپنے مہمانوں کی خدمت کا کام لیا ۔ حج 2017 ء کی بابت موجودہ حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ عازمینِ حج کو آسانی اور سہولت کے ساتھ کم سے کم خرچ میں زیادہ بہتر طریقے سے حج کروایا جائے ۔ حج کے انتظامی امور اور مناسک حج سے آگاہی کے لئے عازمین حج کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی اور ہر تحصیل کی سطح پر ان کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس کے لئے حاجی کیمپوں میں بھی خصوصی تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے کونے کونے سے مختلف زبانیں بولنے والے عازمین حج کا گھر سے دور 40 دن طویل قیام کا انتظام آسان کام نہیں ہے ۔ پاکستان کے سرکاری اور پرائیویٹ عازمین حج کو بہتر سے بہت سہولیات کی فراہمی کے لئے سعودی عرب میں دوسرے بہت سے شعبوں مثلاً مین کنٹرول آفس ، شعبہ رہائش و ٹرانسپورٹ، شعبہ گمشدگی و بازیابی، شعبہ مدینہ روانگی ، شکایات اور مانیٹرنگ وغیرہ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب میں ہیلپ لائنوں کا نظام وضع کیا گیا جہاں 24 گھنٹے کی بنیاد پر عملہ حجاج کی رہنمائی اور شکایات کے ازالے کے لئے ہمہ وقت موجود تھا ۔ پیر محمد امین الحسنات شاہ نے بتایا کہ حج کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لئے عوام کی تجاویز کو خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔ عوام اور حجاج کرام اپنا فیڈ بیک اور تجاویز وزارت مذہبی امور کی ویب سائیٹ سے فیڈ بیک فارم ڈاؤن لوڈ کرکے اپنی شکایات ، تجاویز و آراء ہم تک پہنچا سکتے ہیں ۔ ہمارا یہ مشن ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں دوسرے تمام شعبوں کی طرح حج سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمت کے نئے معیار قائم کردیں جو کہ ہمارے بعد آنے والوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوں ۔
 
گزشتہ چار سالوں کے دوران حج انتظامات میں جو بہتری آئی ہے اس کا اعتراف حکومتی اراکین ہی نہیں بلکہ حزبِ اختلاف والے بھی کرتے ہیں ۔ یہاں پر خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ ہر آنے والے سال میں حج انتظامات اور سہولیات کی فراہمی میں بتدریج بہتری آرہی ہے اس کا کریڈٹ جہاں سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے کہ جنہوں نے حج سے متعلقہ امور میں گہری دلچسپی لے کر وزارت مذہبی امور سے مسلسل تال میل رکھا وہیں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جن کی ان تھک جدوجہد ، لگن اور فرض شناسی کی بدولت عوام کا سرکاری حج سکیم پر اعتماد بحال ہوا اور ہر آنے والے سال میں حج کے دوران اس اعتماد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ، یہی وہ اعتماد ہے جو آئندہ سال حج پالیسی کی بنیاد بنے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aatif Farooq

Read More Articles by Aatif Farooq: 7 Articles with 4942 views »
I am a person who is positive about every aspect of life. There are many things I like to do, to see, and to experience. I like to read, I like to wri.. View More
08 Oct, 2017 Views: 456

Comments

آپ کی رائے