میں سلمان ہوں(٩٩)

(Hukhan, karachi)
بن تیرے ہم جانا کچھ بھی نہیں
یہ صبح شام گزرتا زماں کچھ بھی نہیں
زندگی بے نام اور کوئی عنوان بھی نہیں
دل کو بس اب تیری یاد کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں
چپکے سے ایسے دل میں سمائے اور کوئی آواز بھی نہیں

بانو کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں،،،اس نے بہت ہی کم اتنے قیمتی لباس اور زیور
دیکھے تھے،،،اسے اپنی ندا کی قسمت پر رشک آرہا تھا،،،آخر اس کی بیٹی کو
ایک قدر دان مل ہی گیا تھا،،،
بیٹیاں بوجھ تو لگتی ہیں مگر اس میں سوچ سے ذیادہ غربت کا قصور ہوتا
ہے،،،مگر یہ بوجھ اپنے گھر بس جائے،،،اور ہرے بھرے درخت کی طرح
لہلہاتا رہے،،،تو ماں باپ کے لیے اک راحت کا باعث بن جاتا ہے،،،

ویسے تو زندگی بھر خوشی غم کی دھوپ چھاؤں لگی رہتی ہے،،،مگر بیٹی بہت
ہی نازک سا پودا ہوتی ہے،،،جس کی افزائش کوئی بیٹی والا ہی سمجھ پاتاہے

ندا تو پھر بھی صابر لڑکی تھی،،،زندگی کی تیس سے زائد بہاریں دیکھنے کےباوجود
اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا تھا،،،جس سے اس کے ماں باپ کاسر جھک جائے،،،
جیسے ندا کو علم ہو کہ جن کی بیٹیاں سر اٹھا کر چلتی ہیں،،،انکے ماں باپ کا
سر جھک جاتا ہے،،،جن کی بیٹیاں سر جھکا کر چلتی ہیں،،،ان کے ماں باپ سر
اٹھا کر چلتے ہیں،،،

محبت بھی اس کے سینے میں ایسےپل رہی تھی،،،کہ کبھی بھی اس نے خود سر
نہیں ہونے دیا تھا،،،زندگی کو وہ اس کی اصل تصویر سے ہی دیکھتی تھی،،،
کبھی بھی اونچے خواب اپنی آنکھوں کو دیکھنے کی اجازت نہ دی تھی،،،اس سے
کئی چھوٹی رشتے دار لڑکیاں کئی کئی بچوں کی مائیں بن چکی تھیں،،،مگر اس نے
اپنے وقت کو کبھی بھی برا نہیں کہا تھا،،،

نہ ہی کبھی کوئی نام اس کے دل کے رستے زبان پر آیا تھا،،،بس وہ اپنے دل کی
سرگوشی کو ہی سن لیا کرتی تھی،،،
اسے بھی سرمئی شام،،،گنگناتی ہوا،،،برستی بارش بہت اچھی لگتی تھی،،،مگر
دل کو سمجھا لیتا ہوں،،،ہاں اسے خود میں پکار لیتا ہوں،،،والا معاملہ تھا،،،

سانس کے برتن سمیٹ کر وہ سانس لینے کو ذرا سا رک گئی،،،وہ خود سے الجھی
ہوئی تھی،،،سلمان سے کوئی امیدنہ تھا،،،اس کی نظر میں جب سےسلمان بیمار
ہوا تھا،،،خود سے اور سب سے اکتایا ہوا رہتا تھا،،،جیسے اس کے اندر کوئی جنگ
چل رہی ہو،،،

ماں نےندا کو سوچوں میں گم دیکھاتوپیار سے بولی،،،ندا تھک گئی ہو؟؟؟،،،،،،!!!
پھر بانوکی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی،،،چہک کر بولی،،،بیٹا کپڑے اور
سب سامان بہت اچھا اور قیمتی ہے،،،بہت اچھے دل کی لڑکی ہے،،،اللہ اس کی
ہرمراد پوری کرے،،،

ندا نے اپنی ماں کو خالی سی نظروں سے دیکھا،،،جیسے وہ اس کے اورسلمان کے
بیچ کیوں آگئی ہو،،،ندا فیصلہ کن لہجے میں بولی،،،نہیں ماں،،،روزی کی سب
پوری ہو،،،مگر سلمان والےنامراد ہی رہے،،،ماں نے حیرت سے بیٹی کو دیکھا،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 859598 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2017 Views: 599

Comments

آپ کی رائے
nice ,,,so much to read and learn
By: sohail memon, karachi on Oct, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 19 2017
0 Like
v well done mr khan
By: khalid, karachi on Oct, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 19 2017
0 Like