میں سلمان ہوں(١٠١)

(Hukhan, karachi)
ہر روز اک نئی کہانی سناتا ہے وہ
جانے کیوں ہمیں دیکھ کے اتنے بہانے بناتا ہے وہ
تنہائی میں خود کو ہی گزارشات سناتا ہے وہ
دیکھنے کو خواب ہمارے بظاہر سو جاتا ہے وہ
ہر روپ میں آنکھ کو ہماری بھاتا ہے وہ
خزاں میں بھی بہاروں سا نظر آتا ہے وہ
خان نظر بھر کے نہ دیکھا کرو اکثر بیمار پڑھ جاتا ہے وہ

نہیں کبھی بھی نہیں،،،میں کسی کی جان لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی،،،آج بھی
پچھتاوا دل سے ہو کر دماغ میں بیٹھ جاتا ہے،،،
کسی پر الزام لگانا،،،ناحق بہتان لگانا،،،پھر ناحق ظلم کرنا ،،،ہم انسان ہوکر وحشی
درندے کیوں ہو جاتے ہیں،،،

اپنی چھوٹی بہن کی یہ باتیں سن کر مسز مجید حیران سی ہو گئیں،،،مگر وہ اپنے
ہر بے عمل کو مکمل عمل ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی،،،وہ غرُا کر بولی،،،
کیا ہر ایرا غیرہ نتھو خیرہ ہمارے بچوں کو ورغلا سکتا ہے،،،ہم ان کو اندھے
کنویں میں گرتا ہوا دیکھتے رہیں،،،کیونکہ ہم نے انسانی معراج کو کمال دینا ہے،،،

روزی کی ماں پر اپنی بڑی بہن کی باتوں کا ذرا اثر نہ ہوا،،،آپا آپ جو بھی کہو،،،
ہمارے بچے ہم سے بہت ذیادہ عقل مند ہیں،،،کیا ان کو اپنی زندگی کے
فیصلے کا کوئی حق نہیں ہے؟؟،،،،
اگر ایسا ہے،،،تو ہمیں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا چاہیے،،،جب وہ کسی کو پسند
کرنے لگیں،،،تو ان کے دل کو اپنی مٹھی میں لے کر،،،اس میں سے ان کی پسند
ان کی سوچ،،،نوچ کر نکال دینی چاہیے،،،

آج بھی روزی کو حکم دوں تو وہ اُف نہ کرے گی،،،کسی بھی کھوتے سے کسی جانور
کی طرح بندھ جائے گی،،،

مسز مجید کا بی پی ہائی ہونے لگا تھا،،،اسے فراز کی محبت کو ہر حال میں پانا تھا،،،
اور اس کی بھانجی کے بعد اس کی بہن اس کے بیٹے کی خوشیوں کے سامنے سیسہ
پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہتی تھی،،،
وہ زہریلے لہجے میں بولی،،،یہاں روز ہزاروں لوگ مرتے ہیں،،،کوئی بھوک سے،،،،کوئی
ایکسیڈنٹ سے،،،کوئی دوائی نہ ملنے سے،،،کسی کو اپنوں کے غم مار دیتے ہیں،،،

بے وجہ گولی سے لاشیں ایسے گرتی ہیں،،،جیسے یہ انسان نہیں،،،خزان کے شکار
کیے ہوئے خشک پتے ہوں،،،کوئی پاؤں تلے یوں کچلا جاتا ہے،،،جیسے انسان
نہیں،،،رینگنے والے کیڑے ہوں،،،

نہیں آپا،،،یہ سب انسان ہیں،،،اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جواب دینا ہی
ہوگا،،،دم نہیں نکلتا انسان کا،،،،جب تک دوسرے کی بد دعا آسمان سے واپس
نہ لوٹ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 860428 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Oct, 2017 Views: 804

Comments

آپ کی رائے
no words just great
By: khalid, karachi on Oct, 19 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 19 2017
0 Like