سیری نالا بان سے لیا گیا اقتباس (یاداں)

(Gulzaib Anjum, Kotli-a.kashmir)
گلشن جو بہاروں سے روٹھ گیا

کبھی کبھار سوچوں کے منجدھار میں یوں الجھ کر رہ جاتا یوں کہ باہر آنے کی راہیں ہی مسدود ہو جاتی ہیں ۔ پھر سوچیں یوں کسی ایک نقطے پر منجمد ہو کر رہ جاتی ہیں کہ خود پر حیرانگی ہونے لگتی ہے ۔ یوں تو میری ہر تحریر کسی یاد سے ہی وابستہ ہوتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بہت مختصر سے وقت میں ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جن سے چھٹکارا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے۔ ۔

یہ یادیں سونپنا بھی ایک فن ہے ۔ نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں انسان اپنے بچوں کی تعداد بھولتا جا رہا ہے ایسے حالات میں اپنے فنا ہو جانے کے بعد بھی یادوں کو بقا بخشنا بہت ہی بڑا فن ہے۔

سیری نالا بان کے برلب مقام کو پیلاں اور ہلہ کہا جاتا ہے ہلہ یوں تو بڑی بڑی پیلیوں کی وجہ سے مشہور تھی لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس کی وجہ مقبولیت بھٹی برادری کے چند گھروں سے تھی ۔ ان گھروں کے مرد و خواتین اخلاق میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ گھروں میں نلکوں یا ہینڈ پمپ کا رواج نہ تھا گرمیوں میں پانی چشموں سے سوکھ جاتا تو خواتین دور دراز سے پانی کے گھڑے بھر کر لاتیں گھڑے بھرنے بھی کب آسان ہوتے تھے باری لگی ہوتی تھی گھڑے ایک قطار میں اسی ترتیب سے رکھ دیے جاتے تھے جیسے جیسے گھڑوں والیاں پہنچتی تھیی ۔ پانی اس قدر کم ہوتا تھا کہ گھڑا ڈبو کر بھرنا مشکل ہوتا تھا اس لیے سلور کے چوڑے گلاس سے گھڑا بھرا جاتا تھا ایک گھڑے میں کتنے گلاس پانی پڑتا تھا اس وقت کی آن پڑھ خواتین کو خوب ازبر ہوتا تھا ۔

پانی کی اس قلت کے باوجود ان گھروں سے ہر راہگیر کو اس کی منشاء کے مطابق پانی مل جاتا تھا، نہ صرف پانی ملتا تھا بلکہ ساتھ ہی اچھے اخلاق سے حال احوال بھی پوچھا جاتا تھا ۔ ان لوگوں نے پتہ نہیں ایک دوسرے کو مات دینے کی ضد بندھ رکھی تھی کہ صدیق نام کے ایک مقیمی اس حد تک آو بھگت کرتے کہ اپنے آگے سے مکئی کی آدھی روٹی کو بھی دو تین حصوں میں کر کے راہگیروں کو زبردستی دیتے آم کے آچار کی ایک ڈلی سے کہیں ڈلیاں بناتے لسی کے کم ہونے کا خدشہ ہی نہ تھا کیونکہ پانی کا گھڑا جب تک پاس ہوتا لسی بڑھتی ہی رہتی تھی۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ دوسرا گھر ماسی بلو (ارشاد) کا تھا جو پانی دینے کے ساتھ ساتھ قہوے کی آفر بھی کرتی تھیں ۔ کبھی کسی راہگیر نے پانی پیتے پیتے ساتھ ہی سر درد کی شکایت کی تھی اس کے بعد ماسی کی دوپٹے کے ایک کونے میں سے اسپرو ختم نہیں ہوئی ۔ زیادہ دیر تک بندھے رہنے سے اسپرو چھتیس ٹکڑوں میں بٹ جاتی تھی لیکن ہر ٹکڑا پوری گولی کی طاقت رکھتا تھا جس کا مصنف کو بھرپور تجربہ ہے۔ صدیق جی کے علاوہ تین سگے بھائیوں ( مشتاق، رزاق اور اسحاق عرف پنوں) کے گھر تھے۔ اور ماسی بلو زوجہ مشتاق تھیں ۔ ماسی کا اخلاق صرف انہی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ان کی اولاد میں بھی سرایت کرتا رہا۔ اور یوں ایک ماسی کا اخلاق ان کے چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم ہو گیا ۔

وقت پر لگائے گزرتا گیا ۔ کب پہلی سی باتیں رہی دولت نے سب سے پہلے لوگوں سے اخلاق چھینا احساس محبت الفت تمیز سب کچھ کچے مکانوں کے ساتھ ہی مدفن ہو گئے لیکن ماسی کے بیٹوں نے نہ جانے کیسے ماں کی یہ ریٹ اپنائے رکھی ۔ ہر بیٹا دوسرے سے بڑھ کر اخلاقی اور فرمانبردار ثابت ہوا لیکن تیسرے نمبر والے نے کچھ الگ ہی مقام بنائے رکھا۔

اشفاق شعیب گلشن اور محسن چاروں ہی انتہائی ملنسار اور فرمانبردار بھائی تھے ۔ تین سال پہلے شعیب ہنستے مسکراتے ماں کے سامنے گھومتے پھرتے موت کی صدا پر لبیک کہہ گیا ۔ جوانی کی اس موت نے پتھروں کو رولا دیا ۔ ماں آخر ماں ہوتی ہے کب تک اس صدمے کو گلے لگائے رکھتی آخر ایک سال بعد بیٹے کی اکیلی قبر کو ساتھ بخشنے کے لیے خود کی قربانی پیش کر دی۔ یوں مسجد کی بغل میں اکیلی قبر اب اکیلی نہ رہی بلکہ ماں بیٹا اکٹھے ہو گے۔

محبتوں کی مامتا ماسی بلو گھر کو کیا پورے محلے اور برادری کو سوگوار کر گئی ہر وقت مسکراہٹ والا چہرہ منوں مٹی تلے چلا گیا ۔ اولاد کے ساتھ ساتھ شریک سفر کو ایسا داغ مفارقت دیا کہ پندرہ سولہ ماہ بعد وہ بھی قبروں کو قبرستان کا نام دینے کے لیے بیوی اور بچے کے پاس پہنچ گئے ۔ دو ڈھائی سال میں ایک ہی گھر کی تیسری موت ہلہ کی رونقیں ماند کر گئی۔

جوان بھائی کی موت بہت ہی پیاری ماں کی جدائی حد سے زیادہ مشفق باپ کا سایہ گھر سے اٹھ گیا گھر کے در و دیوار کھنڈرات لگنے لگے ۔ انتہائی کسمپرسی میں مسکرانے والے ہونٹوں سے مسکراہٹوں نے ناتا توڑ دیا ۔ اشفاق جو پہلے ہی ناتواں شانوں کا مالک تھا ایک ساتھ یہ بوجھ برداش نہ کر سکا تو معاونت کے لیے گلشن کا کاندھا مانگ لیا ۔ جو پہلے ہی فرمانبرداری کا ثبوت دینے کے لیے تیار تھا خوش اسلوبی سے ایک کے بجائے دونوں کندھے آگے کر دیے ۔

گلشن سے میری آخری ملاقات کب ہوئی یہ تو یاد نہیں لیکن کہاں ہوئی یہ بالکل کل طرح یاد ہے ۔ سیری ڈاکخانے سے پھاٹے کی طرف جاتے ہوئے بابے عبدل کے گھر کے سامنے ہماری آخری ملاقات ہوئی اس وقت بھی پتہ نہیں کتنے عرصے بعد ہمارا سامنا ہوا تھا لیکن میرے سامنے آنے پر بڑی پیاری سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر سلام کیا ہاتھ ملانے کے ساتھ احتراما" کندھے بھی جھکا لیے ۔ چھوٹی چھوٹی آنکھیں مسکراہٹ کی وجہ سے اور چھوٹی لگ رہی تھیں سرخ ہونٹ سکھڑتے ہوئے شرما شرما کر میرے حال احوال پوچھنے پر جواب دے رہا تھا ۔ جتنی دیر تک سامنے کھڑا رہا قدرے خمدار جسم سے کھڑا رہا ۔ سر خم کیے بات سنتا اور ترچھی سی گردن کر کے مسکراہٹ سے ہوں ہاں کر دیتا ۔ پہائی جان ہشے نا کدرے ، یہ اس کے آخری الفاظ میں نے سنے تھے جن کو میں پورا نہ کر سکا تھا ۔ میں نے خود ہی کہا ٹھیک ہے آپ جاو شاید کوئی جلدی ہو ۔ میری طرف سے اجازت ملنے پر پھر مسکرایا اپنے بھائی شعیب کی طرح یا پھر ماموں عبدالروف کی طرح گردن کو ہلا کر چل دیا۔

کچھ دن پہلے جب یہ پتہ چلا کہ آج گلشن بھی بہاروں سے روٹھ گیا ہے تو برسوں پہلے کی نہ صرف اس کی ملاقات بلکہ اس کے پورے گھر کی باتیں ایک ایک کر کے ذہن کی سکرین پر چل گئی ۔

فرمانبردار گلشن شاید تکون کو مربے میں بدلنے کے لیے باپ کے پہلو میں لیٹ کر اپنی انمٹ یادیں ہمیں سونپ گیا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gulzaib Anjum

Read More Articles by Gulzaib Anjum: 61 Articles with 36278 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2017 Views: 356

Comments

آپ کی رائے