دینی مدارس مثبت تنقید پر غور کریں!

(عابد محمود عزام, Lahore)

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ دینی مدارس جہاں دین اسلام کے قلعے اور اشا عت دین کا بہت بڑ ا ذریعہ ہیں، وہاں یہ لاکھوں طلبہ و طالبا ت کو بلا معاوضہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو رہائش و خوراک اور مفت طبی سہولیات بھی فراہم کررہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہمارے عصری تعلیمی اداروں کے فیض یافتہ افراد عسکری، معاشی، سائنسی سمیت تمام محاذوں پر وطن عزیز کو دنیا کے مدمقابل لا کھڑا کرنے کی تگ و دو میں مشغول ہیں تو وہیں دینی مدارس اور علمائے کرام ملک و قوم کی نظریاتی و فکری اور دینی سرحدوں اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرچکے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ دینی مدارس کی افادیت، اہمیت اور ضرورت سے انکار کی گنجائش ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ دیگر شعبوں کی طرح دینی مدارس میں بھی کئی خامیاں اور کمیاں ہیں۔ کمیاں کوتاہیاں تو انسان کے بنائے ہر نظام میں موجود ہوتی ہیں، جن کو وقت کے ساتھ دور کیا جاسکتا ہے۔ دینی مدارس کو بھی خود پر ہونے والی تنقید کو مثبت انداز میں سوچ کر اپنی خامیاں دور کرکے ان کو خوبیوں میں بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بعض حلقوں کی جانب سے دینی مدارس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کے حوالے سے کئی پہلوؤں پر وقتاً فوقتاً بات کی جاتی ہے۔ ماہرین تعلیم، محققین اور کئی علمائے کرام کی طرف سے دینی مدارس کے نصاب تعلیم کو برسوں سے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے، اس کو کافی حد تک دینی مدارس کے ذمہ اران بھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن دینی مدارس میں ایک بڑی تعداد اس نصاب میں تبدیلی کے حق میں نہیں ہے، اسی لیے نصاب میں تبدیلی نہیں کی جاتی، حالانکہ نصاب تعلیم کوئی غیر متبدل چیز نہیں ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں نصاب صرف قرآن مجید تھا، بعد ازاں اس میں احادیث کا اضافہ بھی ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علوم میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اگلی صدی میں فقہ، اصول فقہ، تفسیر کے علوم بھی شامل ہوئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نصاب میں مزید علوم شامل کیے جاتے رہے۔ نصاب تعلیم کا مقصد ایسے مؤثر اور مجتہد علماء تیار کرنا ہے جو معاشرے تک معاشرے کی زبان اور مزاج کے مطابق بہترین اور موثر طریقے سے دین پہنچا سکیں۔ عصر حاضر کے تقاضے دن بدن تبدیل ہورہے ہیں۔ جب تک دینی مدارس ان تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھیں گے، اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں سرانجام دینا مشکل ہے۔ علمائے کرام کا فرض منصبی دینی نقطۂ نظر سے معاشرے کی رہنمائی کرنا ہے۔اس کے لیے ان کا معاشرے سے پوری طرح باخبر اور اپنے زمانے کے حالات اور افکار ونظریات سے پوری طرح واقف ہونا ضروری ہے۔

دینی مدارس کے لیے غلط و باطل کو پرکھنے اور مغرب سمیت دیگر اسلام دشمن قوتوں کی فکری و نظریاتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی سازشوں کے متعلق آگاہی بھی ضروری ہے۔ دینی مدارس کو تمام جدید علوم و فنون کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ اسلام مخالف سازشوں پر ایک کاری ضرب لگائی جا سکے۔ اگر امام غزالی اسی سوچ کے تحت یونانی فلسفہ پڑھ سکتے ہیں تو آج دینی مدارس کے جدید علوم سیکھنے کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ بہرحال علمائے کرام اور دینی مدارس کے ذمہ داران کو ماہرین تعلیم کی مشاورت سے عصر حاضر کے حالات و واقعات پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر یہ طے کرنا چاہیے کہ مستقبل کے علمائے کرام کو دینی علوم پر رسوخ حاصل کرنے کے ساتھ کس حد تک عصر حاضر کے علوم پڑھنے چاہئیں۔نصاب تعلیم کے حوالے سے دینی و عصری ماہرین تعلیم سے طویل مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے۔ نئے طرز اور طریقے کے ساتھ طلباء کی سوچ اور استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین سے کتابیں لکھوانے کے بعد شامل نصاب کی جائیں۔ عصری تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کتابیں بھی طلباء و طالبات کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے تدریس کے اصولوں کے مطابق ماہرین فن سے لکھوائی جاتی ہیں، تاکہ ان کتب اور نصاب سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکے، لیکن دینی مدارس میں ایسا نہیں ہے، بلکہ صدیوں سے جو کتاب شامل نصاب ہیں، وہی چلتی آرہی ہیں۔ ماہرین تعلیم سے مشاورت کے بعد یہ بھی طے کیا جانا چاہیے کہ پرانی کتب میں سے کونسی نصاب میں رکھی جائے اور کس کو نئے انداز میں لکھ کر شامل کیا جائے۔

دینی مدارس کے ذمہ داروں کو مدارس کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو باریک بینی سے پرکھ کر تعمیری تنقید سے خامیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو دینی مدارس دنیا بھر میں مزید بہتر انداز میں دینی خدمات پیش کرسکیں گے۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دینی مدار س ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان وغیرہ کیوں تیار نہیں کرتے؟ حالانکہ یہ کام کرنا تو عصری تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ دینی مدارس کا کام تو عوام کے دینی معاملات کو بہترین انداز میں حل کرنا ہے۔ اگر دینی معاملات میں کوتاہی ہورہی ہے تو پھر دینی مدارس پر تنقید ضرور ہونی چاہیے۔ اگر دینی مدارس کی وجہ سے مسالک و فرقوں میں نفرتیں پیدا ہورہی ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر دہشتگردی کو فروغ دیا جارہا ہے،۔دینی مدارس کی وجہ سے عوام دینی مسائل سے جاہل رہ رہے ہیں۔ عوام کو معاشرتی، معاشی، خاندانی، ملکی اور دیگر معاملات میں مذہبی پہلو سے رہنمائی نہیں مل رہی یا دنیا میں علمائے کرام مذہب اسلام کو بہترین انداز میں پیش کرنے میں ناکام ہیں تو اس صورت میں دینی مدارس پر ضرور تنقید ہونی چاہیے اور دینی مدارس کو کھلے دل سے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر دینی مدارس پر عصری تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی ڈالنے کی کوشش کی جائے تو یہ غلط ہے۔

دینی مدارس کو یہ مثبت اقدام بھی کرنا چاہیے کہ دینی مدارس کے طلباء کو مطالعاتی سیر کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ وقتاً فوقتاً مختلف اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کا مطالعاتی دورہ کروایا جائے۔ پروفیسرز اور اسٹوڈنٹس سے ملاقاتیں کروائی جائیں اور ان کے ساتھ کچھ وقت گفت و شنید کی جائے۔ جدید اور نئے مسائل پر آپس میں مباحثے کروائے جائیں، تاکہ عصری اور دینی تعلیمی ادارے ایک دوسرے سے کچھ سیکھ سکیں۔ دونوں ایک دوسرے کے مزاج سے واقف ہوسکیں گے۔ عصری تعلیمی اداروں کو بھی اپنے طلبہ کے وفود دینی مدارس میں بھیجنے چاہیے۔ دینی مدارس کو خود قریب سے دیکھیں۔ علمائے کرام سے ملیں، طلباء سے ملاقات کریں۔ مدارس کے نظام و نصاب کا مشاہدہ و مطالعہ کریں۔ اس حوالے سے تحقیق کریں کہ عالمی میڈیا کی جانب سے دینی مدارس پر دہشت گردی کا جو الزام لگایا جاتا ہے،اس میں کتنی سچائی اور کتنا جھوٹ ہے؟ اگر جھوٹ ہے تو دنیا کو حقائق بتائیں اور اگر کچھ سچ ہے تو ان اسباب کو دور کرنے کے لیے دینی مدارس کے ذمہ داران سے مل کر بہتر لائحہ عمل طے کرنے میں تعاون کیا جائے۔ عصری اور دینی تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کے وفود ایک دوسرے کے اداروں میں جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ برسوں سے جانبین کے ذہنوں میں موجود منفی سوچ ضرور مثبت میں تبدیل ہوجائے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417480 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2017 Views: 1130

Comments

آپ کی رائے