ہم امت ِ محمدی اور ہمارے اعمال؟!

(Shafqat Ullah, )

کیا ایمان لانے والوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اﷲ کے ذکر سے پگھلیں ،اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی ،پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں ،خوب جان لو کہ اﷲ زمین کو موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ۔ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دیں ہیں شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ القرآن۔

زمین کو جب پانی نصیب نہیں ہوتا تو وہ بنجر ہو جاتی ہے ،مردہ ۔لیکن بارش برستے ہی یکا یک اس میں زندگی کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح اﷲ تعالیٰ چاہے تو اپنی قدرت سے اپنے دین کو غالب کر دے لیکن یہ بات اس کی حکمت اور مشیت کے خلاف ہے یہ محض اس کا احسان ہے کہ وہ تمہیں موقع دیتا ہے کہ تم اپنی آزاد مرضی اور دل کی خوشی سے اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کرو اور اس کے دین کے غلبہ و اشاعت کیلئے جانیں لڑاؤ۔یہ چیز تمہاری اخلاقی اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہے ۔وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے اس نے اپنی ہدایات جیسی عزیم الشان نعمت جو ہمیں عطا کی ہے ہم اس کی قدر کرتے ہیں یا نہیں ؟ ورنہ حقیقت میں وہ ہماری مدد کا محتاج نہیں ۔وہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو بارش کے ایک چھینٹے سے زندہ کر سکتا ہے تو اس کی قدرت سے اخلاق و کردار کی اس بنجر پڑی ہوئی زمین عرب سے ابوجہل کے بجائے عمر فاروق ؓ جیسے بے شمار سچے اہل ایمان کھڑے کر سکتا ہے۔یعنی وہ نشانیاں جن سے یہ بات تم پہ آشکار ہو جائے کہ حق اور باطل کیا ہے ! یہ نشانیاں واضح کر دینے کے بعد اب وہ تمہیں زبردستی ہدایت قبول کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔

قومی اسمبلی میں جب عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے حلف میں تبدیلی کی گئی تو پوری قوم نے اس پر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا ۔اسلام دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف سازشیں کرتی رہتی ہیں ان دنوں بھی قادیانی جنہیں دستورِ پاکستان نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اپنے سرپرستوں کی مدد سے گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں ،مگر اﷲ کا شکر ہے کہ امت بیدار ہے ۔اس لئے کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔ایک مسلمان خواہ وہ کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو ،اپنے بنیادی عقائد پر حملے کبھی برداشت نہیں کر سکتا ۔سب سے اہم مسئلہ ختم نبوت ہے ،جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔انگریزی استعمار نے مرزا قادیانی کی صورت میں ایک جھوٹے مدعی نبوت کو میدان میں اتارا اور اس کی سرپرستی کر کے ختم نبوت کے عظیم الشان محل میں نقب لگانے کی کوشش کی ۔یہ سازش اہلِ ایمان نے ہر دور میں ناکام بنائی ۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ دور نبوی سے لے کر تا امروز امت کے درمیان اس موضوع پر کوئی اختلاف نہیں رہا کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے ۔جو لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ آمد کو دلیل بناتے ہیں انہیں جان لینا چاہئے کہ عیسیٰ ؑ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں ،اور اب جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیروکار اور آنحضور ﷺ کی امت کے ایک فرد کے طورپر آئیں گے۔

یہ سرزمین جسے ہم مملکت خداداد بھی کہتے ہیں ،قائد اعظم ،دیگر اکابرین کی دیانت دارانہ قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں اور خاص طور پر اﷲ کی رحمت سے حاصل ہوئی ،لیکن آج ستر برس گزر گئے کرپشن ،بددیانتی اور بدعنوانی کا ایک سے بڑھ کر ایک دھچکا اس عمار ت کی بنیادوں کا ہلاتا رہا ہے ۔یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے ؟ کیا یہ سب ہمارے بس میں تھا ؟ اگر نہیں تھا تو اب ہمارے کرنے کے کیا کام ہیں ؟قیام پاکستان بلاشبہ ایک مشکل مرحلہ تھا جو طے ہو گیا ،لیکن تعمیر پاکستان ،استحکام پاکستان اس سے بھی زیادہ اہم مرحلہ تھا ،لیکن اس سلسلے میں ہماری بد قسمتی یہ رہی کہ اسے محمد علی جناح ؒ اور قائد ملت کے بعد مخلص قیادت نصیب نہ ہو سکی جبکہ پڑوسی ملک بھارت جیسا بھی ہے وہاں کے حکمران اور عوام اپنے ملک اور نظریے کی وفادار ہے اس لئے وہ آگے بڑھ گیا اور ہم پیچھے رہ گئے ۔پاکستان کی اس بدقسمتی کا ذکر محمد علی جناح اس وقت بھی کیا کرتے تھے ،وہ فرماتے تھے کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عالمی سازشیں ہیں ،چلیں مان لیا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے ، لیکن ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ پانی وہیں ٹھہرتا ہے جہاں نشیب ہو ۔اگر ہمارے حکمران اسلامیت ،پاکستانیت اور انسانیت کی پاسدار اور مضبوط اخلاق و کردار کے مالک ہوں تو بیرونی سازشیں اور ریشہ دوانیاں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمرانی اور قیادت کا شوق رکھنے والے دیانت دار اور با کردار ہوں ۔ان کے دل میں اﷲ کے سامنے جواب دہ ہونے اور آخرت میں پکڑے جانے کا خوف ہو صرف اسی صورت میں وہ نہ اپنے نام پر اور نہ ہی اپنے بچوں کے نام پر کاروبار کریں گے ،پھر نہ تو انہیں کسی ایان علی کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی پاناما لیکس کی خبر آنے پر انہیں دل کے بائی پاس کروانے پڑیں گے اور نہ ہی سب کسی نہ کسی بہانے لندن بھاگنے کی کوشش کریں گے۔مسئلہ نظام کا ہے ،انداز فکر کا ہے ،سوچ کا ہے ۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا :
بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی کے بدلنے سے مئے خانہ نا بدلے گا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 210 Articles with 88684 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
30 Oct, 2017 Views: 402

Comments

آپ کی رائے