ملک میں زلزلے کی وارننگ اور اجتماعی ذمہ داریاں

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
ملک میں زلزلے کی وارننگ اور اجتماعی ذمہ داریاں

اللہ رب العزت سب جہانوں کی مخلوق کو آفات زلزلوں سے محفوظ فرمائے دنیا کے گیارہ ممالک کے اداروں نے اپنی اپنی حکومتوں کو رپورٹس پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے رواں سال اور آمدہ سال کے گردو پیش تک بڑے زلزلے رونما ہو سکتے ہیں۔ بھارتی ادارہ ای ایس پی کے سر براہ بابو کلیال نے اپنے وزیر اعظم کو 20اکتوبر کو رپورٹ ارسال کرتے ہوئے آگاہ کیا گیارہ ممالک انڈیا، چین، جاپان، پاکستان، نیپال ،بنگلا دیش، تھائی لینڈ ،انڈونیشیا ، افغانستان ، سری لنکا بشمول گلف ممالک خوفناک زلزلے کا شکا رہو سکتے ہیں انڈیا کے اندر بھی بہت بڑے پیمانے پر بربادی ہو سکتی ہے۔ لہذا حکومت فوری بنیادوں پر نقصانات سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کیلئے ہنگامی منصوبہ سازی اقدامات کرے ۔ جبکہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) نے یکم نومبر کو حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے ایشیائی ممالک بشمول پاکستان خوفناک زلزلے کی زد میں ہے لہذا ممکنہ زلزلے کے پیش نظر جانی مالی نقصانات سے بچنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قائم ادارے ایراء کو احکامات جاری کیئے ہیں ایراء کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر (ر) احسان اللہ خان کی سربراہی میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد صادق لیفٹیننٹ کرنل(ر)آفتاب احمد پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔اللہ ساری دنیا اور انسانوں سمیت مخلوقات کو مزید آفات سے محفوظ رکھے ۔مملکت پاکستان آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر خصوصاََ زلزلہ متاثرہ علاقوں کے عوام پہلے ہی بڑے زلزلے کا شکار ہو چکے ہیں اور زلزلے سے پہلے بعد میں تسلسل سے ادارے ماہرین رپورٹس دیتے رہے زلزلے آسکتے ہیں تاہم پہلے بھی توجہ نہ دی گئی اور بعد میں بھی حکومت ادارے بشمول خود عوام غفلت کا شکار ہو کر وہ سب اقدامات جن کے باعث مستقبل میں بڑے پیمانے پر تباہی بربادی سے محفوظ رہا جا سکے نہیں کر سکے اب اللہ رب العزت رحم و کرم فرمائے تاہم اداروں نے اطلاعات کی ذمہ داری پوری کر دی ہے ۔ اور حکومتوں اداروں بشمول عوام کو تیاریوں کے حوالے سے ہنگامی اقدامات باہم مل کر کرنے ہوں گے جسکے لئے حکومت اداروں کو عوام کیلئے آگاہی مہم شعوری تیاری و منظم یکجا منصوبہ سازی کے حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تو علمائے کرام مساجد کے خطیب مدارس کے اساتذہ تعلیمی اداروں کے سربراہان سٹاف اس طرح دیگر اداروں اور سیاست ، تجارت، صحافت کے سبھی کرداروں کو انفرادی اجتماعی سطح پر اپنا اپنا کردار جو حوصلوں ہمت اور ایک قوم جیسے جذبے و عمل کا آئینہ دار ہو ادا کرنا ہو گا۔ جسمیں علماء و اساتذہ کو رب کے حضور توبہ عبادات کے حوالے سے لوگوں کو تعلیمات سے آگاہ کر نا سب سے افضل ہے کہ رب ہمارے حال پر رحم فرمائے گوکہ ماہرین اداروں کی اطلاعات زمینی حقائق کے مطابق سب ہی درست مانتے ہیں مگر وقت دن کے حوالے سے حتمی بات نہیں کی جا سکتی ماہرین نے اپنی فہم و فراست تجربے تحقیق حقائق و خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے رائے سے آگاہ کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کیا ہے شکر الحمداللہ ہم حضرت محمد مصطفیﷺ کا امتی ہونے کے سب سے بڑے اعزاز و سعادت ہونے کی نسبت سے بطور مسلم ایمان رکھتے ہیں رب کے حضور توبہ و دعاؤں سے سب کچھ ممکن ہے تاہم ان کے ساتھ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے انفرادی اجتماعی طور پر نا انصافیوں غفلتوں سے بھی نجات حاصل کر لی جائے اللہ رب العالمین رحیم و کریم ہے اپنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے مگر ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ ظلم نا انصافی معاف نہیں ہوتی تب تک ظلم نا انصافی کا شکار ہونے والا خود معاف نہ کردے اور جس سے ظلم نا انصافی کا ارتکاب ہوا ہے وہ اس کا ازالہ کر کے معافی حاصل نہ کر لے گزشتہ جمعۃالمبارک کو خطبے میں علامہ یہی فرمارہے تھے ہم نے بارشوں کیلئے نمازیں استسقاء ادا کی مگر اپنے عملوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے ۔ گھر گلی محلہ دکان دفتر ہر طرف ہر جگہ ہم دانستہ نا دانستہ ایک دوسرے کا حق مارنے کے مرتکب ہوتے ہیں صرف مالیاتی حق مارنا ہی ظلم نہیں ہوتا بلکہ ہمارے رویے طرز عمل سوچ فکر اور کام سے بھی ظلم نا انصافی سر زد ہوتی ہے سماجی نا انصافیاں حکومتوں ریاست اداروں اجتماعی انفرادی ہر سطح پر وبال جان کو دعوت دینے کا سبب بنتی ہیں جن سے توبہ کر لینی چاہئے اس طرح کہ خود بھی نا کریں اور دوسروں کو بھی اس کا حوصلہ نہ ہو ۔ اللہ رب العزت اپنے پیاروں اور مخلوقات پرندوں سے لیکر اس کا نام لینے والوں کے صدقے سب کو زلزلے سمیت آفات سے محفوظ فرمائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 71240 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2017 Views: 608

Comments

آپ کی رائے