کال گرل

(islam mohmand, Peshawar)
دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مگن تھاکہ اک لڑکی سامنے سے روڈ پرگزری لڑکی کو دیکھتے ہی میرے دوستوں نے آوازیں دینا شروع کردی۔میں نے دوستوں کو چپ کرانے کے لئے کہا کہ کیاکر رہے ہو بیچ راستے کسی پر آوازیں نہیں کستے یہ سنتے ہی اس کی چلن میں تبدیلی آئی وہ تھوڑی سی رکھی اورمیری طرف دیکھنے لگی اور واپس منہ مو ڑ کر چلی گئی یہ دیکھتے ہی دوست ہنس پڑے اور کہا بھائی اب تمہاری باری ہے ہمارے ساتھ تو جو کچھ تھا وہ کھا گئی اب اس کی نظر تجھ پر پڑی ہے تو باری بھی تمہاری ہے میں نے اس کے پردے اور چال چلن کو دیکھا تو مجھے بلکل بھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ کال گرل ہے،جسم فروش لڑکی کو انگلش میں کال گرل کہا جاتا ہے ۔میں نے دوستوں سے پوچھا کہ اس کا گھر کہاں پر ہے اور کیسے ملوں گامیں اس سے تودوستوں نے ہنستے ہوئے کہا بھائی اس کو توپورا شہر جانتا ہے اس کام کی وجہ سے اور ہے بھی بڑی مست چیز خیر میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں آرہاتھا میں نے دوست سے اس کا موبائل نمبرمانگا دوست نے نمبر دیا اور اڈریس بھی کہا جاؤذرہ اس کی مستی تو دیکھوخیررات کے دوبج گئے مجھ سے اور صبر نہیں ہوا اور اسے میسج کیا فوراًاس نے جواب میں کہا کہ جی آپ کون اور کیوں میسج کیامیں نے کہا کہ دوستوں نے آپ کی تعریف کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ سے مل لوں اور ایک رات گزاروں تمہارے ساتھ اس نے کہا چلوں ٹھیک ہے کل تو میں کسی اور کے ہاں جا رہی ہوں پرسورات کے دس بجے آجانا میں نے کہا ٹھیک ہے اب میں پوری رات سوچ رہا تھا کہ جولڑکی اتنی باپردہ ہوکرجارہی ہوں اور اور سر سے لیکر پاؤں تک جسم کا ایک بھی حصہ نظر نہ آتا ہو وہ کال گرل کیسے ہوسکتی ہے عموماً ایسی لڑکیا تو تنگ کپڑے پہنتی ہے ،پردہ نہیں کرتی ،جسم کے نازک حصو ں کو نہیں چھپاتی تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کے ساتھ جنسی خواہشات پوری کرنے کے خواہاں ہوں مگر یہ توبلکل ان لڑکیوں سے الگ تھی۔خیر انہی سوچو ں میں وہ دن رات گزر گئے میں گھرمیں فیملی کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہاتھا کہ ایسے میں میسج آیا جب دیکھا تو اسی لڑکی کامیسج تھا کہ ٹھیک دوگھنٹے بعد میرے گھر آجانامیں وہاں سے اٹھا ڈریس چینج کرکے ماں کوکہا کہ ماں میں کسی دوست کے ہاں جا رہا ہوں ماں سے اجازت لی اور گھر سے نکلا اس پتہ پر جب میں پہنچا تو بلکل بازارکے بیچ ایک گلی تھی جس میں 6نمبرکاگھر اس کاتھا میں اسکے گھرپہنچا جونہی اس نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر اندر کی طرف بھاگی اس کو پتہ نہیں تھا کہ فون پر میں ہوں خیرمیں اندر چلا گیااسکے گھر میں ایک ہی کمرہ تھامیں کمرے کے اندر گیااور پوچھا یہاں کوئی اور تونہیں اس نے جواب میں سر ہلاتے ہوئے نہ کہا میں نے کمرے کادروازہ بندکیا اور اسکے پاس بیٹھ گیا میں نے کہا کہ تم تو جسم فروش لڑکی ہوں ایسے کئی لوگوں سے ملتی رہتی ہوں اورمجھے دوستوں نے کہاہے کہ توں بڑی مست لڑکی ہے پھرمجھ سے پردہ کیوں اس نے کہا کہ اس دن جب دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا اوران کوچپ کرانے لگے تومجھے اپنی شرمندگی کا احساس ہوا اوراب اس لئے تمہاراسامنا نہیں کرسکتی ،کچھ دیر بعد اس نے کہا کہ ٹھنڈالوگے یا گرم میں نے کہاگرم ٹھیک ہے اس نے جلدی جلدی چائے بنائی پھر تھوڑی سی ریلیکس ہوئی اورچہرے سے پردہ ہٹایا میں نے کہاکہ ایک رات کے کتنے پیسے ملتے ہیں اس نے کہا کہ بندے پر منحصر ہے کوئی پانچ سو،کوئی ہزار اور کچھ لوگ تو اپنی خواہش پوری کرکے کہتے ہیں کھاتے میں لکھ دینا اورایسے ہی نکل جاتے ہیں ۔اس کودیکھ دیکھ کرمیں خیالوں کی دنیا میں کھوچکا تھا ایسے میں اس نے میرے چھاتی پرہاتھ رکھا تو میں چونک اٹھا او ر خوابوں کی دنیا سے نکلا اس نے نظریں جھکا کر کہا کہ کونساطریقہ پسند ہے میں اپنی مرضی سے کروں یاتمہارہ مرضی سے ،مجھے اس کی آنکھوں میں حیاں سی دکھائی دی اسکا سر جھکانا بتا رہی تھی کہ وہ خود اس گند میں نہیں پھسلی خامخوا کوئی مجبوری اس مقام پرلے آئی ہے میں نے اسکے ہاتھ کو چھاتی سے ہٹاکرکہاکہ مجھے یہ بتاؤکہ کس طرح تم اس جگہ پرپہنچی ہواس نے رخ موڑکرکہا کہ جس کام کے لئے آئے ہووہ کرو اور جاؤیہاں سے یہ کہتے ہوئے وہ بسترسے اٹھی اورشہرکی طرف اک کھڑکی میں باہرجھانکنے لگی میں اٹھا اور اس کی طرف لپکا جیسے میں نے اس کے کندھے پرہاتھ رکھا اوراس نے میری طرف دیکھاتوآنکھیں لال تھی ،میرا جوشک تھا وہ یقین میں بدلا خیر میں نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے وہ اپنی اصلیت بتائیں لیکن وہ نہیں مانی میں نے بھی جانے کی اجازت لی اور روانہ ہوا جیسے ہی کمرے کے گیٹ پر پہنچا تواس نے آواز دی رک جاؤ میں نے شکر کیا اور واپس موڑا اس نے بولا کیوں پوچھ رہے ہویہ سب یہاں کئی سالوں سے لوگ آرہے ہیں مجھ سے تو کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ کیوں کر رہی ہو بس اپناپیاس بجھاکر نکل جاتے ہیں میں نے کہا کہ ہاں صحیح کہا آپ نے ان لوگوں نے تمہیں صرف ہوس کی نظرسے دیکھا ہے تمہاری مجبوری نہیں دیکھی اور اس دن جب میں نے تمہاری چال چلن اور پردہ دیکھاتومجھے محسوس ہوا کہ یہ خود نہیں آئی اس دلدل میں ۔وہ آنکھوں میں آنسوں لئے میری طرف دیکھ رہی تھی کچھ دیربعد آنسوں پونچھتے ہوئے بولی پوچھا ہے تو بتا دیتی ہوں ،میں یونیورسٹی میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کی پریویس کلاس کی سٹوڈنٹ تھی جب میں پہلی بارگئی تومجھے ایک لڑکی ملی جوبہت شریف تھی اور بہت سلیقے سے دوسرے لڑکیوں سے بات کر رہی تھی مجھے وہ ایسے ہی اچھی لگی میں اس کے پاس گئی ان سے بات چیت کی پھرہم کلاس میں بھی ایک ساتھ بیٹھ گئے جب کلاس ختم ہواتو وہ مجھے جوس شاپ لے گئی اور کہا تم نئی آئی ہومیں تو کچھ دن پہلے آئی ہوں توجوس پلاتی ہوں مجھے وہ بہت اچھی لگی اورہم جوس پینے چلے گئے وہاں اس کے پاس کچھ لڑکے بھی آکربیٹھ گئے جو ہمارے کلاس کے تھے اس نے تعارف کرایا جب وہ چلے گئے تو میں نے کہاکہ میں بہت سخت گھرانے سے ہوں میں لڑکوں کیساتھ بات نہیں کر سکتی میرے لئے مسئلہ پیدا ہوجائیگا اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ بہن یہ یونیورسٹی ہے یہاں بات کروگی تو کلاس میں رہوگی ایسے تودو سال بہت مشکل سے گزرے گے خیر وہاں سے ہم اٹھے میں نے بھی اس کی باتوں پر کان نہیں دھرا۔روزکلاس میں لڑکے لڑکیاں گپ شپ لگاتی تھی اورمیں کسی کونے میں چپ بیٹھی رہتی تھی کئی لڑکے لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کے لئے آجاتی صرف ہیلوں ہائے کرکے چلے جاتے پھر رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ میرا سب کلاس فیلوں سے گپ شپ لگنا شروع ہوا اور واقعی بہت مشکل تھا اکیلے دن گزارنہ کلاس میں سب لڑکوں اور لڑکیوں نے بہت پیار دیا اور بہت اچھا ماحول بنایاہوا تھابس میں بھی انکے ساتھ ان کی گپ شپ میں گھل مل گئی اور یوں روٹین میں گپ شپ لگنی شروع ہوئی پھر فیمیل کلاس فیلوں ضدکرتی تھی کہ چلویونیورسٹی سے باہرچکرلگاتے ہیں میں ڈرتی تھی کہ نہیں میں ان لڑکوں کے ساتھ نہیں جاسکتی ،خیر کافی عرصہ انہوں نے مجھ پر کوششیں کی مگر میں نہیں مانی ایک دن میں نے جانے کیلئے ہاں کہہ دیا اور ان کے ساتھ چلی گئی میں سوچ رہی تھی کہ ایسے بھی اپنے ہی کلاس فیلوں ہیں اور بہن بھائیوں جیسا سلوک کرتے ہیں ہم آپس میں خیر ہم ایک دوست کے گھر گئے وہاں کوئی نہیں تھا ہم کلاس فیلوں کے علاوہ انہوں نے جوس ،برگر وغیرہ منگوایا میں نے جیسے ہی جوس پیا بے ہوش ہوگئی وہاں موجود میرے کلاس فیلوں لڑکوں نے مجھے زیادتی کانشانہ بنایا اور پھرگھنٹہ دوبعد ہسپتال میں آنکھ کھلی دوستوں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے ایسے یہی بے ہوشی آئی تھی ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں ٹھیک ہوجاؤ گی جلدی ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی توسیدھا گھر گئی مگرمیری طبعیت میں پھربھی خرابی تھی جب رات کا ٹائم ہوا تو میرے اک کلاس فیلوں نے مجھے کچھ تصاویراورویڈیوز بھیجی اسے دیکھتی ہی میرا دم گھٹنے لگا،انہوں نے جوس میں نشہ پلایاتھا اور زیادتی کانشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ویڈیوز اورتصاویر بھی بنائی تھی میرا بلڈ پریشر بھی ڈاؤ ن ہوگیا اور بدن میں تکلیف بھی محسوس ہونا شروع ہوئی کیونکہ نشہ اتر چکا تھا اور یوں مجھے پتہ چلا کہ میرے ساتھ کیاکیاہوا ہے انہوں نے مجھے کال پر دھمکی دی اور کہااگر میں نے کسی کوبتایا تووہ ویڈیوز اور پکچرزکوانٹرنیٹ پر اپلوڈ کردینگے۔اسی ڈر کے مارے میں چپ رہی دن بدن صحت خراب ہوتی جارہی تھی ،ہر وقت بلڈ پریشر کم رہتاتھا اوریوں میرے کلاس فیلوں روزمجھے دھمکیاں دیکرمختلف جگہوں پر لے جایاکرتے تھے اور وہاں مجھے اپنے ہوس کا نشانہ بناتے تھے پھر ایک دن اچانک میری طبعیت خراب ہوگئی اورمجھے دوست ڈاکٹرز کے پاس لے گئے تو انہوں نے کہا کہ یہ توپیٹ سے ہے ،بس میری دم نکل گئی طبیعت اوربھی بگڑ گئی اور رونے چیخنے لگی مگر پھر بھی وہ لوگ دھمکاتے رہیں میں نے ٹینشن کیوجہ سے گھر کے افراد سے باتیں چھوڑ دی تھی جب گھر جاتی ماں کچھ پوچھتی میں کہتی تھی امی تھکی ہوئی ہوں مجھے سونے دو یوں رات گزر جاتی پھرایک دن میرے دوستوں نے مجھے ابورشن کا مشورہ دیا اور پیسے دے کر میرا ابورشن کروادیا گیا اورکچھ گھنٹوں بعدمیرے دوستوں نے کہا کہ تم تمھیں یہاں سے دور لے جا ر ہے ہیں کیونکہ تمہاری فیملی کوپتہ لگ چکا ہے اور وہ تمہیں ڈھونڈنے نکلے ہیں ،میں اور بھی گھبرائی اور ان کے ساتھ چلی گئی کچھ ہفتوں بعد انہوں نے مجھے ایک شخص کے حوالے کیا او ر اسی شخص نے مجھے کسی اور کے حوالے کیااور یوں میں اس بازار کی زینت بنی اور کئی سالوں سے جسم فروشی کے اس دھندے میں پھسی ہوئی ہوں اب نہ گھر جاسکتی ہوں اور نہ کہی اور بس اب یہی میرا گھر اور یہی میں پیشہ ہے۔یہ تھی ایک نوجوان با پردہ گھرانے کی لڑکی جس کو اپنے ہی دوستوں نے ورغلہ کر ہوس کا نشانہ بنایا ،اگر دیکھا جائے ایسا ہی حال آج کل ہرادارے کاہے جہاں بھی جاؤ خواتین ہراسانی کے کیسز سامنے آتے ہے ۔ اگر تعلیمی ادارو ں میں دیکھا جائے تو کس قسم کی بدکاریاں شروع ہوئی ہے لڑکی گھر سے نکل دوستوں کے ساتھ گاڑیوں میں گما پھرا کرتی ہے اور گھر والوں کوپتہ تک نہیں ہوتا اور انہی حالات کی وجہ سے آج کل جنسی ہراسانی کے واقعات زیادہ ہوچکے ہیں خاص کر یونیورسٹیوں میں کل میں ایک نجی ٹی وی کا رپورٹ دیکھ رہا تھاجویونیورسٹیوں کے اندر ہراسانی کیسز پر مبنی تھاجس میں طلباء سمیت اساتذہ بھی اس بیماری میں مبتلا تھے ۔اگر ایسے ہی حالات رہے ہمار ے نوجوان لڑکیوں کا مستقبل داؤں پر لگ جائے گا پھرکوئی بھی اپنی بچیوں کو تعلیم کی حصول پر راضی نہیں ہوگا۔لہٰذا یونیورسٹی انتظامیہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ یونیورسٹی کے حدود میں کوئی بھی لڑکا لڑکی گروپ کی شکل میں دکھائی دے توان کے والدین کو اطلاع کیاکریں اسی طرح یہ مسائل کم ہوجائے گے اور ایسی برائیاں جو اس معاشرے میں بہت تیزی سے جنم لے رہی ہے یہ ختم ہوجائے گی اور والدین سے بھی یہی درخواست ہے کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اوران کی سرگرمیوں پرنظر رکھیں

نوٹ:یہ تحریر محض ایک خیالی خاکہ ہے جس کا مطلب لوگوں کو دکھانا ہے کہ معاشرے میں جنم لینے والی یہ برائیاں کس حد تک انسان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اگراس تحریر میں کسی بھی قسم کی غلطی نوٹ کروتو نیچے دی گئی ای میل پر رابطہ کریں ۔شکریہ
[email protected]
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: islam mohmand

Read More Articles by islam mohmand: 14 Articles with 16519 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 1777

Comments

آپ کی رائے