یہ قوم کیوں نہ ترقی کرے۔

(Kamran Buneri, Karachi)

ایک دفعہ ابن انشاء ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں مقامی استاد سے محو گفتگو تھے۔
جب گفتگو اپنے اختتام پر پہنچی تو وہ استاد ابن انشاء کو الوداع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باہری صحن تک چل پڑا ابھی یونیورسٹی کی حدود میں ہی تھے کہ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔
اس دوران ابن انشاء نے محسوس کیا کہ پیچھے سے گزرنے والے طلباء اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں۔
باتیں ختم ہوئیں تو ابن انشاء اجازت لینے سے پہلے یہ پوچھے بغیر نہ رہ سکے کہ محترم ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر کیوں گزر رہا ہے۔
کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟
ٹوکیو یونیورسٹی کے استاد نے بآواز بلند قہقہہ لگایا اور ابن انشاء کو بتایا کہ سورج کی روشنی سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑ رہا ہے
اوریہاں سے گزرنے والا ہر طالب علم نہیں چاہتا کہ اس کے پاﺅں اس کے استاد کے سایہ پر پڑیں۔
اس لئے ہمارے عقب سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزر رہا ہے۔
یہ قوم کیوں نہ ترقی کرے۔
ہمارے معاشرے میں تو استاد کا احترام اس کے گریڈ اورعہدے سے منسلک ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Buneri

Read More Articles by Kamran Buneri: 92 Articles with 175687 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2017 Views: 336

Comments

آپ کی رائے