کیا ہم آج بھی دورجہالت میں زندہ ہیں؟

(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)

قبل اسلام زمانہ جہالت میں عورت سے سلوک کے حوالے سے یہ عالم تھاکہ انہیں انسان ہی تصور نہ کیا جاتا معاشرتی و سماجی احترام و مرتبے سے بالکل محروم رکھا جاتا، حقیر ،قابل نفرت ، فساد کا سبب جانا جاتاتھا،زمانہ جہالیت کی قدیم تہذیب میں یونان،رومانیہ،ایران سمیت دیگرخطوں میں عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ ،بیٹیوں کی اھانت و تحقیر کی جاتی، زندہ درگور کردیا جاتا، بیوی کو شوہر کی چیتا کے ساتھ ہی جلا دیا جاتا۔

فریڈرک ولہیلم نیٹشے ،ترتولیاں،یزد گرد ثانی اورکرائی سوسٹم نے اپنی تحریروں میں عورت کی جس انداز میں تذلیل کی ہے۔اُسے ضمیر پڑھنا بھی گواراہ نہیں کرتا ۔ انسائیکلو پیڈیاآف برٹانیکا کے گیارہویں ایڈیشن کے مطابق رومی تہذیب میں عورت اپنی آزادی اور خود مختاری کی شکوہ کناں نظر آتی ہے۔ اس مملکت میں عورت کو ہمیشہ تنگ دست ،محتاج رکھا گیا ہے شادی کے بعد اس کی تمام جائیداد ، تمام حقوق قانونی طور پر اس کے شوہر کے سپرد کر دیتے تھے اس کو ایک غلام کی حیثیت دی جاتی ،وہ معاشرہ میں تباہ تھی اس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

مگر اسلام نے عورت کو جو عزت و توقیر سے نوازا ہے اِس کی مثال کسی دور میں کسی مذہب، کسی تہذیب،کسی قانون میں نہیں ملتی ۔قرآن پاک میں ہے کہ ’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ النحل، 16 ،58، 59)۔ اِسے زندہ رہنے کاحق دیا،تعلیم کا حق،معاشی حق،تمدنی حق،خلع کا حق، آزادیِ رائے کا حق،معاشرتی حق سمیت ہر حقوق کو مقدم رکھا ہے۔اور عورت کو معاشرے میں ایک مرتبے سے نوازتے ہوئے بحثیت انسان حقیقی طور پر منوایا ہے۔ماں ہے تو قدموں تلے جنت ، بیٹی ہے تو جنت کے حصول کا وسیلہ، بیوی ہے تو کسی خزانے سے کم نہیں ،بہن اخلاص اور محبت کا پیکر گویا عورت ہر روپ ہر رشتے میں قابل احترام و مقام ہے۔ عورت کے اجنبی ہونے کی شکل میں بھی اسلام نے اس کی مدد و تعاون کرنے اور اس کا خیال رکھنے کی تاکید کی ہے ۔ اسلام میں شرف انسانیت میں مرد و عورت کی تفریق روا نہیں رکھی گئی،آپ ﷺنے ظالم مرد سے پکار کر فرمایا کہ عورت اس لئے نہیں ہے کہ اسے حقارت سے ٹھکرا کر قعر مذلت میں دھکیل دیا جائے۔

ایک اچھے باشعور توانا معاشرے کی بنیاد عورت کے مرہون منت ہے کیونکہ اسلام نے پہلی درس گاہ عورت کو قرار دیا ہے ۔ یورپ بھی ہماری تعلیمات کو ماننے پر مجبور ہوچکا ہے کہ عورت کا مقام یہ نہیں کہ وہ چادر چار دیواری کو پاؤں تلے روندتے ہوئے مردوں کے شانہ بشانہ نوکریاں کریں،اُنہیں یہ احساس ہونے لگا ہے ایسا کرنے سے گھریلو معاملات ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں نسل در نسل بے راہ روی کا شکار ہو کر برباد ہوجاتی ہے،معاشرہ کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔مغربی رائٹر جو کہ ڈاکڑنے لکھا ہے کہ ’’ خاندانی زندگی میں رونما ھونے والے بحرانوں کا سبب اور معاشرے میں جرائم کے بکثرت ھو جانے کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ عورت نے گھر کی چاردیواری کو الوداع کہا تاکہ خاندان کی آمدنی دوگنا ھو ، اور واقعی آمدنی تو بہت بڑھ گئی مگر اس سے معیار اخلاق بہت گھٹ گیا ‘‘ ۔ ایک اور مقام پر لکھتی ہیں کہ ’’تجربات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ آج نسل نو جس بحران میں مبتلا ہے ، اسے اس سے بچانے اور نکالنے کا صرف ایک راستہ و طریقہ ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ عورت کو دوبارہ اسکے اصل مقام ( گھر ) میں میری یہ نصیحت ہے کہ اپنی تقالید و روایات کو اپنا رھو اور مردو زن کے اختلاط و میل و جول کو روکے رکھو اور نوجوان دوشیزہ کی آزادی کو پابندی میں ہی رہنے دو بلکہ حجاب و پردہ کے زمان خیر کی طرف ہی لوٹ جاؤ۔ یہی تمھارے لئے اس آزادی و آوارگی اور فحاشی و گندگی سے بہت بہتر ہے‘‘۔ تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر یورپ بھی اسلامی تعلیمات کے حق ہونے کی تصدیق کرنے لگا ہے ۔

مگر آج ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور گردونواح کاجائزہ لیں تو باضمیر شخص یقیناًشرم سے پانی پانی ہوجائے۔ اکثریت اسلامی تعلیمات سے دور ی اختیارکرچکی ہے ،فیشن کے نام پر مغربی تہذیب کی یلغار کے زیرتاب ہم ایک عرصہ سے آچکے ہیں، اب تو عالم یہ ہے کہ حیا کی چادر ایسی داغ دار اور تار تار ہوئی ہے کہ دوسری قوموں کیلئے ہماری قابل رشک تہذیب کی شاندار بلند پایہ عمارت زمین بوس ہونے کو ہے۔اور اِس قابل رحم حالت کی ذمہ داری سراسر الیکٹرانک میڈیا کے منفی کردار پر عائد ہوتی ہے ،چینلز میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں ایسے اندھے ہوچکے ہیں کہ اُنہیں اندازہ ہی نہیں کہ اُن کی غلط ، غیرمصدقہ خبروں پر رپورٹنگ ہمارے معاشرے کی تنزلی اور دنیا بھرمیں ذلت کا باعث بن رہی ہے اور اُس سے بھی کہیں بُرا کردار سوشل میڈیا پر ہم ادا کر رہے۔ سیاسی مفادات کیلئے پگڑیاں اُچھالنا عام وطیرہ بن چکا ہے،اِسی سیاسی مفادات کی جنگ میں گالی گلوچ،کردارکشی جیسے ہتھکنڈوں سے طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔ تنقید کیلئے بہانے چاہیے یا بہانے تراش لئے جاتے ہیں۔چینل جیسے ہی ایک منفی خبر شائع کرتا ہے سیاسی مخالفین پھولے نہیں سماتے اور دھڑا دھڑ چند لمحات میں خبروتصویر وائیرل کر دیتے ہیں ، اِ س سے لا علم کہ ،کیا خبر منفی پروپیگنڈہ ہے؟ خبر کے پس منظر حقائق کیا ہیں؟خبر میں متاثرہ شخص کا موقف کیا ہے؟ اُس شخص کے موقف پر متعلقہ ادارے کا ردعمل کیاہے؟خبر شیئر کرنے سے کسی کے حقوق تو مجروع نہیں ہو رہے؟خبر باعث ندامت ہے باعثِ فخر؟۔سُنی سنائی خبر کو آگے پھیلانا، جھوٹ پھیلانا، فساد و فتنا پھیلانا،تہمت لگانا ،بُرے القاب سے پُکارانا،بے حیائی کا چرچہ کرنا،۔ایسے فعل سے ہم کس سنگین گنا کی پکڑ میں آ رہے ہیں، اُس انجام سے بھی بے غم و فکر ہیں۔کیونکہ ہمارا ٹارگٹ ہے یا ہمیں ٹارگٹ ہی تنقیدی نشتر چلانے کا دیا گیا ہے۔

اِس میڈیا ریٹنگ اور سیاسی جنگ کی ظالم،بے لحاظ،بے حیا بہتی لہروں کی لپیٹ میں عورت آج ایسے بے توقیرہو رہی ہے، ناقابل بیان ہے۔اشتہاروں میں ،بل بورڈز پر، دُکانوں بازاروں میں،ٹرانسپورٹس میں،ٹی وی ٹاک شوز میں،فلموں ڈراموں میں، پبلک سروس کاؤنٹرز پر تو عورت کو تو پہلے ہی سے شو کیس کے ماڈل کے طورپر پیش کرنے کی شرمناک روایت جنم لے چکی ۔اِس سے بڑھ کر یہ کہ شایدعورت کی اتنی تحقیر زمانہ جہالت میں نہیں ہوئی جتنی آج ہو رہی ہے۔حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی ایسی ایسی شرمناک خبریں ہیں کہ شاید زمانہ جہالت کے جاہل بھی اِس دور میں آکر سن لیں تو کلیجے پھٹ جائیں۔کہیں ’’لین دین کا معاملہ تسلی بخش نہ ہونے پر بہن کو سربازار بے لباس کر دیا گیا‘‘تو کہیں ’’پنچائیت کا فیصلہ حسب منشا نہ ہونے پر خاندانی تنازعہ پر لڑکی کو برہنہ حالت میں گھومایا گیا‘‘۔’’کم سن بچی سے زیادتی‘‘،’’محافظ(پولیس) نے ہی ملزمہ کو اپنی حوس کا نشانہ بناڈالا‘‘،’’ سیاستدانوں پر جنسی ہراساں کئے جانے کے الزامات‘‘ ، سمیت کئی وائرل ہونے والی خبروں نے عورت کو بے نقاب ،بے حجاب زندہ لاش بنا کر رکھ دیا ہے،جوذلت کے محاصرے میں پل پل مر رہی ہے پل پل جی رہی ہے۔اُور تو اورڈلیوری آپریشن کے دوران ڈاکٹرز کی موبائل سے عکس بندی سمیت گزشتہ دِنوں سٹرک کنارے، ایمبولینس میں، کینٹین کے باہر،چنگ چی میں، ایم ایس آفس کے باہر، ہسپتال سے باہر،باتھ روم میں، عورتوں کے بچے جنم دینے والی ایک کے بعد ایک خبر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچائے رکھا۔قابل شرم عزائم لئے کچھ مخصوص میڈیا سیل ایک منظم طریقہ کار کے تحت طرح طرح کے طنزومزاح کے اندازمیں خبروں کو شیئر کرتے رہے۔یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ خبروں میں کس حد تک سچائی تھی؟ ذمہ دار کون تھا؟کیا تحقیق ہوئی؟کیا اقدامات ہوئے؟ لیکن یہاں رتی برابر بھی خیال نہ کیا گیا کہ اِن فقروں اور پیغامات سے دنیا کے سامنے ہمارے معاشرے کی ،ماں،بہن اور بیٹی کی عزت کس حد تک مجروح ہو رہی ہے۔جبکہ جہاں انتظامیہ کی غلطی تھی اُنہیں فی الفور معطل کیا گیا،کہیں عورت نے اپنی کوتاہی تسلیم کی، کہیں عورت کے دیر سے ہسپتال پہنچے کی وجہ اِس واقعے کا سبب بنی، کہیں عورت کو ریفرل سسٹم کے تحت حکومت پنجاب کی مہیا کردہ پیشنٹ ٹرانسفر سروس میں دوسرے ہسپتال منتقلی کے دوران ایسی صورتحال کا سامنا کرناپڑا۔مگر ناقدین وجوہات اور اقدامات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے صنف نازک کے جسموں پرلپٹی ستر پوشی کی باریک چادر کو بھی کھینچ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پرایسی خبریں تاحال گردش میں ہیں، متوالے نازیبا کمنٹ کرنے اور شیئر در شیئر میں کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔

صد افسوس!انسانیت تڑپ رہی ہے،اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔کہاں گئی ہماری اسلامی تعلیمات، روایات، تہذیب ؟ میڈیا ریٹنگ کی جنگ اور سیاسی مفادات کے حصول نے معاشرے کوجہاں لاکھڑا کیا ہے ،یہ گماں ہونے لگا ہے کہ ہم دور جہالت میں یا اُس کی کہیں پستیوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ خدار اب تو بس کردیں ،بے لگام میڈیا آزادی رائے کے نام پر ایسی خبروں کوبغیر حقائق کے صحافتی اقدارکے برخلاف شائع کرنے سے گریز نہیں کر رہا تو کم ازکم ہم یہی سوچتے ہوئے کہ اِس عورت کی جگہ ہماری ماں ،بہن،بیٹی ہوتی اور دنیااُس فوٹیج کو ایسے ہی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہوتی تو ہم پرکیا قیامت برپا ہوتی؟ ایسی خبروں کو نظرانداز کریں ،اپنے وطن کی عزت اور معاشرے کا تشخص اپنی جگہ ،عورت کے حقیقی مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہوئے اِنہیں سہمی فضا کے شکنجوں سے آزاد کریں۔ذرا سوچیئے!کہیں دیر نہ ہوجائے، یا پھر جان لیں کہ دنیا تو مکافاتِ عمل ہے۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 113 Articles with 59146 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More
13 Nov, 2017 Views: 719

Comments

آپ کی رائے