ہماری ویب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری ڈبل سینچری

(Sana, Lahore)

مگر جب آپ اس عورت کی کیٹگری میں آنا چاہیں جو کہ زبان نہ چلائے اور اچھی خاتون بن جائے ۔ تو ایک عورت کے لئے تو یہ کام مشکل ہے سو ہے۔ بلکہ اس کام کے ساتھ جو سٹریس ہوتا ہے وہ دوسروں تک بھی منتقل ہونے لگ جاتا ہے سو یہی وجہ ہے کہ میں نے لکھنے کا راستہ اپنایا ۔

ہاتھ میں قلم لیکر کوئی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں منہ میں زبان لے کر ضرور ہوتا ہے۔مگر اس زبان کو استعمال کرنے میں وقت لگتا ہے اور ڈھنگ سے استعمال کرنا سیکھنے میں زندگی لگ جاتی ہے۔ اس لئے انسان کو ان دونوں میں سے جو بھی نصیب ہو انسان کو اسکو استعمال کرنا سیکھنا چاہئے۔ ہمارے ہاں یہ غلط العام ہے کہ زبان چلانا ہی اصل میں بولنا ہے اور قلم چلانا ہی اصل میں لکھھنا ہے۔ حقیقت میں آپ کو سننا اور لکھنا اور بولنا کے آداب سیکھنے ہوتے ہیں پھر ہی آپ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

اکثر جو لکھنے والوں کی اکثریت ہوتی ہے انکا ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انکی کوئی سنتا نہیں ہے اسی لئے انکے پاس حل پھر یہی نکلتا ہے کہ وہ دوسروں تک بات پہنچانے کے لئے لکھنے کا سہارا لیتے ہیں اگر تو دیکھا جائے تو ہوں میں بھی اس صندف میں سے کیونکہ عورت ہوں اور عورت کی سن تو ہر کوئی لیتا ہے اور اگر وہ رانگ نمبر پر سنانا شروع کر دے پھر تو ٹھیک ٹھاک سننے کو تیار رہتا ہے۔

مگر جب آپ اس عورت کی کیٹگری میں آنا چاہیں جو کہ زبان نہ چلائے اور اچھی خاتون بن جائے ۔ تو ایک عورت کے لئے تو یہ کام مشکل ہے سو ہے۔ بلکہ اس کام کے ساتھ جو سٹریس ہوتا ہے وہ دوسروں تک بھی منتقل ہونے لگ جاتا ہے سو یہی وجہ ہے کہ میں نے لکھنے کا راستہ اپنایا ۔

اس لکھنے نے اور ہماری ویب نے میری زندگی میں بہت مدد کی۔ کیونکہ آج کے دور میں جزباتی مدد سب سے بڑی مدد بن جاتی ہے۔ انسان کو اپنے جزبات اکثر خود سمجھ میں نہیں آرہے ہوتے سو وہ دوسرے کو کیا سمجھائے مگر لکھنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لکھ آپ معاشرے مزاج موسم پر رہے ہوتے ہو اور اندر ہی اندر آپ کے اندر کچھ مرہم سا لگنے لگتا ہے۔۔

ایک تو عورت ہونے کا یہ مسئلہ ہمارے ہاں ہر ہر لیول پر ہے کہ لوگ آپ کے ساتھ پیش آتے ہوئے تہزیب اور تمیز کے دائرے میں خود بھی نہیں رہتے اور آپ کو بھی نکالنے لگتے ہیں سو اسی لئے آپکو بہت سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر چلنا ہوتا ہے بہت خیال رکھنا ہوتا ہے کہ آپ کہاں پر کام کر سکتے ہیں کہاں پر بچ سکتے ہیں اور کہاں پر نہ کریں تو ہی بہتر ہے

زندگی میں اس وقت پر جب میں کافی خوار ہو چکی تھی کہیں پر لکھا چھپوانے کے لئے تب اچانک سے مجھے ہماری وقیب ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنے والا پینٹ کرنے والا بولنے والا اپنا کام دکھائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ سو کافی کھپتے کھپتے مجھے ہماری وقیب مل گئی اور عرصہ چار سال سے ذٰیادہ میں اس سے جڑی ہوئی ہوں۔

ایک عورت کے لئے ذیادہ تر یہ مینج کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنا شوق بھی ساتھ لے کر چلے اور گھر بھی۔ میں نے کبھی زمانہ طالبعلمی میں کاپیاں اتنی کالی نہیں کی ہوں گی جتنی کہ لکھنے کے عرصے میں اور کوئی اچھا سا خیلا دماغ میں آنے پر کیں۔

مجھے یہی لگا یہ خیال کاموں میں پنکھ لگا کر اڑ نہ جائے سو اسی لئے اسکو کاپی پر سنبھال سنبھال کر رکھتی رہی ااور اس سنبھالنے میں ڈبل سینچری ہماری ویب پہ ہو گئی۔
ہماری ویب کے منتظمین کا شکریہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 182011 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
13 Nov, 2017 Views: 379

Comments

آپ کی رائے