آؤ دوستی کو عام کریں

(Tabinda Jabeen, Karachi)

اسلم ایک ہونہار طالبعلم تھا وہ ہر سال کلاس میں اوّل نمبر سے کامیاب ہوتا تھا.اسلم کا کلاس کے ہم جماعتوں کے ساتھ رویہ بھی بہترین تھا استاد کی عزت کرنا سب کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آنا اُس کی ماں باپ کی اچھی تربیت کو ظاہر کرتا تھا جس کی وجہ سے اسکول کے سب ہی طالبع وطالبعلم قائل تھے سوائے احتشام کے وہ اسلم کے ہر سال اوّل آنے کی وجہ سے اس سے حسد کرتا تھا اُس کا خیال تھا اُس نے اُستاد اور شاگرد کے ساتھ رویہ محض اس لئے رکھا ہوا ہے تاکہ اُس کا تعلیمِ معیار قائم دائم رھ سکے.حلانکہ اس نا تھا اُس نے تو سب کے ساتھ ہی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا سب کے ساتھ ہی اسلم نے دوستانہ رویہ رکھا ہواتھا.

احتشام کا رویہ اسلم کے ساتھ اچھا نہیں تھا یہ بات سب ہی جانتے تھے مگر اُس کے تلخ رویہ کے وجہ سے اُسے کچھ نہیں کھ پاتے تھے.مگر اسلم اس قسم کی منفی بات میں کبھی دلچسپی نہیں لیتا تھااحتشام نے اُس کے ساتھ بُرا رویہ کیوں رکھا ہوا ہے اسلم نے اس بارے میں کبھی کوئی شکایت نہیں کی بلکے اُس کے بُرے رویہ کو نظر انداز کر کےاُس کے ساتھ بھی اچھا رویہ رکھات

ہوا تھاہوا کچھ یوں کے ایک دن احتشام کی کلاس میں طعبیت خراب ہوگئی اُسے بہت تیز بخار چڑھ گیا اُس کے بُرے رویہ کے وجہ سے کوئی بھی اُس کے قریب نہیں آیا مگر اسلم نے نا صرف اُس کا حال چال پھنچا بلکے اُس کے میں اُس کی درخواست خود جمع کروائی اسکول وین میں خود ساتھ بیٹھ کر اُس کے گھر کے دوازے تک چھوڑ کر آیا گھر پہنچ کر احتشام کی امی نےاُس سوال کیا بیٹا تم مجھے ٹیلی فون کر دیتے میں تمھیں لینے آجاتی یہ بات سُن کے احتشام زور زور سے رونے لگا ,امی جان !امی جان میں بہت بُرا ہوں.کیوں بیٹا تم ایسا کیوں کھ رہے ہو درصل امی جان مجھے گھر تک اسلم چھوڑ کے گیا ہے آپ کو معلوم ہے نا آج سے پہلے تک میں اُسے کس قدر بُرا کہتا رہا ہو ,تو بیٹا اِ س ہی کا نام زندگی ہے تم نے ہمیشہ بُرا رویہ رکھا اسلم لے ساتھ مگر اُس نےتمھارے ساتھ اچھا رویہ رکھ کر یہ ثابت کر دیا کے اچھا رویہ رکھنے سے ہی ہم دوسروں کو دوست بنا سکتے ہےخوشیاں پھیلا سکتے ہے احتشام نے اپنی ی کی بات پوری توجہ کے ساتھ سُنی اور طبیت تھیک ہوجانے کے بات جب اسکول گیا پھر اُس نے سب لے ساتھ اچھا رویہ رکھنا شروع کر دیا اور اسطرح اسکول کو میں سب کے ساتھ اُس ......کی دوستی ہوگئی اور سب اُس سے خوش رہنے لگے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tabinda Jabeen

Read More Articles by Tabinda Jabeen: 12 Articles with 6791 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2017 Views: 290

Comments

آپ کی رائے