میں سلمان ہوں(١١٤)

(Hukhan, karachi)
اب رونا بہت کم آتا ہے جب سے خود پر ہنسنا چھوڑ دیا
اب گِر پاتا ہی نہیں جب سے اٹھنا سیکھ لیا
اب درد ہوتا ہی نہیں جب سے زخم سہنا سیکھ لیا
اب کوئی یاد آتا ہی نہیں جب سے ہم نے بھول جانا سیکھ لیا

مام ہر چیز اُلٹ ہو رہی ہے،،،ہم لوگ اک ناکام،،،ناکارہ،،چھوٹے سے انسان سے خود
کو ذلیل کروا رہے ہیں،،،
نہ لوگوں کی زبان ہے،،،نہ وعدوں کا کوئی بھرم اور لحاظ،،،بزرگوں کے کیے ہوئے
فیصلوں کو روزی نے ایسے اڑا دیا جیسے یہ الفاظ یہ عہد کوئی اہمیت نہیں
رکھتے،،،
فراز کا چہرہ کبھی سرخ ہوتا کبھی سیاہ پڑ جاتا،،،اس کی زندگی اسے وہ سب کچھ
دینے لگی تھی،،،جو اس نے کبھی نہیں مانگا تھا،،،وہ ہر کھلونوں پر اپنا حق بچپن
سے ہی سمجھتا آیا تھا،،،

اس نے دنیا میں اک ہی پیمانہ دیکھاتھا،،جس کے پاس پیسا دولت،،،وہی طاقتور
وہی صحیح غلط کے فیصلے کا اختیار رکھتا تھا،،،
جو پیسوں میں کمتر،،،وہ چھوٹا ،،،جیسے گھنےدرختوں کے جنگل میں ان کے
پیروں کے پاس اگی ہوئی چھوٹی سی گھاس ہو،،،امن ہو یا جنگ،،،تباہ گھاس
نے ہی ہونا تھا،،،
وہ خود کو توانا ،،،مضبوط،،،زمین کے اندر پھیلی ہوئی جڑوں والا درخت سمجھتا
تھا،،،باقی سب تباہ ہونے والی گھاس کی طرح تھے،،،

مسز مجید نے اپنے بیٹے کو ٹوٹتے اور بکھرتے دیکھا،،،تو غصے اور بے چینی سے
کانپ گئی،،،نہیں کبھی نہیں،،،میرا بیٹا جو چاہے گا اسے وہی ملے گا،،،
آج تک ایسا ہی ہوا ہے،،،آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا،،،جو میرے بیٹے کا حق اس
سے چھینے گا،،،اسے اپنی قبر خود ہی کھودنا ہوگی،،،
مسز مجید نے بیٹے کو تسلی کے انداز میں کہا،،،بیٹا ڈونٹ وری،،،میں تمہاری
آنٹی سے بات کرتی ہوں،،،اسے میری بات سننا ہوگی،،،اسے وہ سب دینا ہوگا
جس کا فیصلہ بیس برس پہلے ہوگیا تھا،،،آپ جاؤ،،،پلیز ریلیکس ڈارلنگ،،،
سلمان تم نے اپنی موت کو آواز دی ہے،،،بہت جلد تم اک کہانی بن جاؤگے،،،،

سلمان فیکٹری سے نکلا،،،،روڈ کراس کیا،،،تین فائر کی آواز آئی،،،
سلمان کا لہولہان جسم،،،سڑک کے کنارے تڑپنے لگا،،،خون کے فوارے
اسکے جسم سے مٹی کی نظر ہونے لگے،،،

کیوں چھینتے ہو زندگی میری
کوئی تو بتا دو خطا میری
میں کیا لے سکتا ہوں
میں کیا دے سکتا ہوں
اک رشتہ روح کا میرے جسم سے
رہنے دو گے یا نہیں
کیا میں کر سکتا ہوں
دیکھو مارا بھی خطا بتا دینا میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 862914 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2017 Views: 695

Comments

آپ کی رائے
it was so excited
By: khalid, karachi on Nov, 18 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 19 2017
0 Like
v good episode
By: sohail memon, karachi on Nov, 18 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 19 2017
0 Like