میں سلمان ہوں(١١٥)

(Hukhan, karachi)
سنو!!!
پھر سے کہہ رہا ہوں
اداس نہ ہوا کرو

مسز کریم اک گھٹی سی چینخ کے ساتھ خواب سے بیدار ہوگئیں،،،
یا اللہ!!،،،دن میں ایسا خواب،،،جھٹ سے مسز کریم نے وال کلاک کی طرف دیکھا،،،
سہ پہر ہونے کو تھی،،،

یا اللہ!! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے،،،یہ بس اک خواب تھا،،،اللہ نے خبردار کرنے کیلئے
یہ سب دکھا دیا،،،وہ سیدھا تیزی سے وضو کرنے کو دوڑیں،،،
آج انہیں احساس ہوگیا،،،کہ گناہ،،،ثواب،،،اجر،،،سزا سب ہے،،،اور اک دن ہو کر ہی
رہے گا،،،

سلمان نے روزی کو مینیجر کی پوسٹ پر دیکھ کر شکر کیا،،،کہ وہ سیٹ پر بیٹھا
ہوا تھا،،،ورنہ گر پڑتا،،،الفاظ اس کے حلق سے ہو کر واپس معدے میں لوٹ گئے،،،

سلمان جواب دو،،،روزی نے ٹشو پیپر کا چھوٹا سا گولہ منہ سے نکال کر ڈسٹ بن
کی نظر کردیا،،،شاید اس نے آواز بدلنے کیلئے منہ میں ٹشو بھر رکھا تھا،،،
سلمان کسی اور جہان میں تھا،،،روزی نے سلمان کی آنکھوں کےسامنے زور سے
چٹکی بجائی،،،مسٹر سلمان،،،مسٹر سلمان کہاں ہو،،،

سلمان کی آنکھوں کی ساکت پتلیاں پھیل پھیل کر پھرسے سکڑنے لگیں،،،
بس اک چھوٹی سی نامکمل‘‘جی‘‘ باہر نکل پائی،،،
آپ پیسے کے لیے،،،لوگ،،،جاب،،،محب،،،وہ رک گئی،،،پھر بولی،،،سب چھوڑ سکتے
ہو،،،اس کی آنکھیں سلمان کی روح تک میں غوطہ زن تھی،،،

سلمان کے حواس اب تک لمبے سفر پر ہی تھے،،،بس اک ادھوری سی،،،‘‘نہیں‘‘،،،
بول کر وہ برف بن گیا،،،
روزی نے زور سے ماتھے پر ہاتھ مارا،،،خوبصورت لہجے میں بولی،،،کہاں پھنس گئی
میں،،،بہت ہی بدھو ہے،،،

جی بالکل،،،عجیب سی جگہ ہے یہ،،،سلمان کے بے ترتیب سے الفاظ بے معنی سا
مطلب لے کر باہر آنے لگے،،،
روزی کا دل ناچ رہا تھا،،،اس کا پلان امید سے ذیادہ کامیاب ہوگیاتھا،،،وہ روز سلمان
کو گلاس ونڈو سے فیکٹری میں یہاں سے وہاں آتا جاتا دیکھتی تھی،،،
وہ کچھ دن اور بھی اس سے لطف لینا چاہتی تھی،،،مگر دل نے صبر کو گڈ بائے
کہہ دیا،،،اس نے خود پر بمشکل کنٹرول کرکے سلمان کو چاروں شانے چت کیا تھا،،،

روزی کو سمجھ نہیں آرہی تھی،،،کہ اس کا پلان بہت با کمال تھا،،،یا سلمان تھا ہی
انسانوں کے اس قبیل سے جنہیں معصوم کہا جاتا ہے،،،
مگر وہ دل سے چاہتی تھی،،،سلمان کبھی کسی سے ہار نہ مانے،،،اس سے بھی نہیں
اس کے لیے سلمان اک آئرن مین تھا،،،

ہاں تو بولو،،،یہاں سے کب بھاگو گے،،،
سلمان نے خود کو حوصلہ دینے کی کوشش کی،،،اس کےمنہ سے میم کا لفظ نکلا،،،
روزی نے سلمان کو گھور کر دیکھا،،،اپنی آنکھوں پر سنہری فریم کی عینک کو ٹھیک
سے جمایا،،،سلمان یو گیٹ لاسٹ،،،اونلی فائیو منٹس،،،اینڈ دِین یو ہیو ٹو آنسر مائی
آل کوسچنز،،،یور ٹائم سٹارٹس ناؤ،،،
اس کے بعد روزی اپنی ہنسی کو روک کر بلا ضرورت فائل کھول کر دیکھنے لگی،،،فون
کی بیل بجی،،،روزی نے اپنی نازک سی کلائی پر زور ڈال کر فون اٹھایا،،،
یس،،،،کیوں کیا ہوا،،،،اس کی آواز میں بلا کا درد تھا،،،سلمان نے سر اٹھاکر اس
موم کی گڑیا کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 861674 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Nov, 2017 Views: 947

Comments

آپ کی رائے
owsome
By: rahi, karachi on Nov, 21 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 21 2017
0 Like
its really good to read one can feel its every one story
By: khalid, karachi on Nov, 21 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 21 2017
0 Like