بونگے

(Amjad Siddique, Lahore)

ہم جس بے ایمان اور شیطانی سسٹم کی قیدمیں ہیں۔یہاں ایمانداری۔شرافت کی کوئی گنجائش نہیں۔ایماندار اور شریف انسان کو یہاں دھتکارہ جاتاہے۔ کسی صور ت قبول نہیں کیاجاتا۔یہاں یا تو کرپٹ اور مکارلوگوں کی جگہ ہے۔یا پھر الو باٹو ں کی۔ کرپٹ اور مکار لوگ سسٹم کی راہوں سے کانٹے چنتے ہیں۔اس کی معاونت کرتے ہیں۔جہاں تک الو باٹو ں کی بات ہے۔یہ لوگ سسٹم کی خباثتوں کی پردہ پوشی کے لیے کام دیتے ہیں۔ان کا کام سٹیمپ پیڈ کا ساہوتاہے۔جی اچھا۔جی حضور کہنے والے یہ الو باٹے کسی قسم کی مزاحمت نہ دینے کے باعث سسٹم کے لیے ہمیشہ پسندیدہ رہے ہیں۔چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر خوش ہونے والے یہ بونگے ایسے سادے ہوتے ہیں کہ انہیں اندر کی بات کا نہ پتہ ہوتاہے۔نہ ہی سمجھنے کی صلاحیت۔سسٹم والے ایسے بونگوں کو ہلہ شیری دیکر الو بناتے رہتے ہیں۔ذرا سی تعریف پر آپے سے باہر ہونے والے یہ بونگے اس قدر عقل بھی نہیں رکھتے کہ اتنا سمجھ سکیں کہ خود کو طرم خاں سمجھنے والے یہ احمق استعمال ہورہے ہیں۔سسٹم والے انہیں پسند بھی اسی لیے کرتے ہیں کہ ان کے بونکے پن سے لطف اندوز بھی ہوسکیں اور اپنے کیے کرایے بھی ان پر ڈال سکیں۔

عمران خاں کا کہنا ہے کہ نوازشریف واپس نہیں آئے گا۔اب شہبازشریف کی باری ہے۔عدلیہ کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں۔اگر میری طرح کا کوئی جج ہوتاتو اب تو انہیں جیل میں ڈال چکا ہوتا۔سب 300 ارب کی چوری کرنے والے کو بچانے میں لگے ہیں۔وزیراعظم صاحب آپ کی اخلاقیا ت مر گئیں یاآپ بھی کرپٹ ہیں۔عمران خاں کے ارشادات سے ان کی سیاست کی سمت اور ترجیحات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔آپ صحیح معنوں میں لٹھ لے کر نوازشریف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ان پر تنقید کاکوئی موقع جانے نہیں دیتے۔موقع کوئی بھی ہونوازشریف پر تبری کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔وہ عدلیہ کے صبر کی تعریف بھی کررہے ہیں۔مگر اپنی بے صبری چھپانے میں ناکامی کاسامنا ہورہاہے۔وہ وزیر اعظم سے اخلاقیات کی امیدکرہے ہیں۔مگر کیا اخلاقیات صر ف اور صرف تحریک انصاف سے باہر کے لوگوں کی ذمہ داری رہ گئی ہے۔عائشہ گلالئی۔اور ریحام خاں تحریک انصاف کی اخلاقیات کی چھوٹی موٹی مثالیں وقتا فوقتا سامنے لاتی رہتی ہیں۔وہ کہ رہے ہیں کہ نوازشریف واپس نہیں آئے گا۔بھائی وہ گیا ہی کہاں ہے۔وہ اب بھی خاں صاحب اور ان کے پیچھے چھپے بد نیتوں کے لیے سب س بڑی ٹینشن ہیں۔سچ پوچھیے تو وزیر اعظم کے منصب سے اترنے کے بعد وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوچکے۔بطور وزیر اعظم کچھ پابندیاں ان کی زبان پر تالہ لگائے ہوئے تھیں۔وہ تالے ٹوٹ چکے۔ خاں صاحب شہباز شریف کی باری آنے کی بات کررہے ہیں۔یہ بھی دل کو تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ شہبازشریف کا مستقبل ان کے اندازوں سے بھی زیادہ محفوظ ہے۔ لارے لگانے والوں کواگر انہیں عمران خاں اور شہبازشریف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو شہبازشریف ہی کو ترجیح ملے گی۔

نوازشریف کے پیچھے پڑے رہنے کی ذمہ داری خان صاحب اور ان کے دیگر جوڑی دار بڑی جانفشانی سے نبھارہے ہیں۔اس ذمہ دار ی پرجانے کیا کیا سبز باغ انہیں دکھائے گئے ہیں۔اس طبقے کی بات نوازشریف سے شروع ہوتی ہے۔اور انہی پر ختم ہوجاتی ہے۔پاکستان کے جملہ مسائل کا حل نوازشریف کی سیاست کے خاتمے سے جوڑا جارہا ہے۔یہ پراپیگنڈا کیا جارہاہے۔جیسے نوازشریف کا سیاسی باب ختم ہوا۔ تمام معاملات سدھر جائیں گے۔وہ نان سٹاپ پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔نان سٹاپ تحریک چالائی جارہی ہے۔مگر کامیابی ندارد۔قوم اس دھڑے کے پراپیگنڈے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہورہے۔اس دھڑے کی بیان کی گئی کہانیاں حقیقت سے مطابقت نہیں کررہیں۔قوم کو حقیقت کچھ اور نطر آرہی ہے۔نوازشریف کچھ مسائل کا سبب ضرور ہونگے۔مگر یہ کہنا کہ تمام تر مسائل انہی کے سبب ہیں۔درست نہیں۔یہ بھی غلط ہے کہ نوازشریف کے سوا سبھی لوگ مسائل کی ذمہ داری سے مبراہیں۔کچھ نام تو اس قدر بدنام ہیں کہ نوازشریف کا نام ان کے آگے بالکل دھندلاجاتاہے۔تمام تر مسائل کا سبب نوازشریف کو قرار دے دینا کسی طور درست نہیں۔قوم حقیقت سے متضاد پراپیگنڈہ مستردکررہی ہے۔اسے سمجھ میں آرہا ہے کہ نوازشریف سے دشمنی کاسبب کرپشن نہیں کچھ اور ہے۔کچھ لوگ کسی بھی قیمت پر اپنا الٹا سیدھا منوانے کی بری عادت میں مبتلاہیں۔نوازشریف ان لوگوں کو آنکھیں دکھانے پر ناپسندیدہ قرار پائے ہیں۔سسٹم کے نام پر کچھ لوگ الو باٹو ں کے متلاشی رہتے ہیں۔انہیں صرف اور صرف ایسے بونگے چاہیے ہوتے ہیں۔جو نہ سوچنے کی صلاحیت رکھیں نہ انہیں دائیں بائیں کی کچھ سمجھ ہو۔نوازشریف سے ان کا بیر عجب نہیں نوازشریف انہیں آنکھیں دکھاتے ہیں۔جو ان کو قبول نہیں۔بد نیت او ربے ایمانوں کا یہ ٹولہ الو باٹوں کو پسند کرتاہے۔نوازشریف کا بونگانہ بننے کی ضد ہی سسٹم کو ان کا سب سے بڑابیری بنارہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65361 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 180

Comments

آپ کی رائے