نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کا چار سالہ دورِ حکومت

(Sarwar, Lahore)

قائد اعظم ؒ کا پاکستان بنانے کا دعویٰ کر والے حکمرانوں کے کھوکھلے نعروں کا جواب ، اِن کی چار سال کی کارکردگی اور ملکِ پاک کی مجموعی زبوں حالی ، درج ذیل حقائق سے اچھی طرح عیاں ہے:
* جس کے کشکولِ گدائی میں چار سالوں میں غیرملکی قرضے 61 ارب ڈالر سے بڑھ کر 83ارب ڈالر ہو جائیں۔
* جس کے پاس غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں11.3 ارب ڈالر کی چند ماہ بعد واجب الادا قسط کے لئے وسائل نہ ہوں اور آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضہ لینا پڑے۔ کسی کو اس کی کوئی فکر نہیں!! حکمران اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔
* جہاں بیرونی قرضہ لینے کے لئے اےٗرپورٹ،موٹر ویز اور ریڈیو پاکستان کے جملہ اثاثوں کو گروی رکھا گیا ہو۔
* جس کا اندرونی قرض چار سالوں میں 9500 ارب روپئے سے بڑھ کر 2017 میں14750 ارب روپئے ہوچکا ہو۔
* بائیس کروڑ عوام پر مجموعی قرضہ 2013 میں 14318 ارب روپئے سے بڑھ کر 2017 میں 25062 ارب روپئے ہو جائے یعنی ہر سال10,000ارب روپئے کا اضافہ!!
* کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (عالمی ادائیگیوں اور وصولیوں میں فرق)2013 میں 7 ارب ڈالر ہو جبکہ2017 میں یہ فرق12 ارب ڈالر ہوجائے۔
* برآمدا ت: 2013 میں 24.40 ارب ڈالر سے ریکارڈ کم ہو کر 2017 میں17 ارب ڈالر رہ گئی ہوں۔ جبکہ نا اہل وزیرِ اعظم نے برآمدات کو 100ارب ڈالر تک لے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی!!
* درآمدات: ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہوں اور 2017 میں 53 ا رب ڈالر کی خطرناک حد تک پہنچ جائیں ۔
* جس کا تجارتی خسارہ 2013میں 20.50 کروڑ ڈالرسے بڑھ کر2017 میں 32.57 کروڑ ڈالر ہوجائے یعنی چار سالوں میں 12 کروڑ ڈالر بڑھ گیا ہو۔
* جس کا صرف ایک سال کا بجٹ خسارہ 2013 میں 1833ارب سے بڑھ کر2017 میں1863 ارب روپئے یعنی 30 ارب روپئے ہوجائے۔
* جس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 2013 میں 24 ارب ڈالر سے گھٹ کر 17 20میں صرف 20 ارب ڈالر کی خطرناک حد کو چھو رہے ہوں۔
* جس کے تین بڑے اداروں (ریلوے،پی آئی اے، سٹیل مل)کا خسارہ 705 ارب ڈالر ہو۔
* جس کے گردشی قرضے 00 6ارب روپئے کے قریب ہوں اور یہ قرضے دن بہ دن تیزی سے بڑھ رہے ہوں۔
* جہاں میٹرو بس کا سالانہ خسارہ 5 ارب روپئے ہو۔
* جس ملک میں جی ایس ٹی کی شرح 17 فی صد ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہو۔
* جہاں لوگ بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشیاں کر رہے ہوں اور ’گردے برائے فروخت‘ کے بورڈ اٹھائے پھرتے ہوں۔جبکہ ہزاروں کی تعد اد میں لوگ پچیس لاکھ روپئے ماہانہ سے زیادہ تنخواہ لیتے ہوں۔
* جس کی 55% آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہو، نادار عوام عید کے دن بھی فاقے کاٹ رہے ہوں۔
* جہاں 2 کروڑ کے قریب پڑھے لکھے نوجوان بے کار ہوں ۔
* جہاں ادویات کی قلت، جعلی ادویات کی بھرمار اور مسیحا وں کی غفلت کے روپ میں موت رقص کناں ہو۔
* جہاں صحت پر صرف.7 0 فی صد خرچ ہوتا ہو۔
* جہاں بچوں کی شرح اموات بنگلہ دیش اور نیپال سے زیادہ ہو۔
* جہاںآبادی کی اکثریت صاف پانی کو ترسے اور دیہاتوں میں لوگ جوہڑ وں سے پانی پئیں۔
* جہاں ایک کروڑ لڑکیاں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی آ جانے سے پریشان ہوں۔
* جہاں 2 کروڑ بچے سکول نہ جا سکیں اور جہاں تعلیم پر خرچ صرف 2 % ، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی کم۔
* جہاں 63% ان پڑھ عوام کے 19,000 سکول عمارت سے محروم،61,000 سکول چار دیواری کے بغیر ، 66,000 سکولوں میں پانی دستیاب نہ ہو، 80,000 سکولوں میں لیٹرین عنقا اور دن بدن معیارِ تعلیم پست ہوتا جائے۔
* جہاں آلودگی کی بناء پر کراچی اور لاہور ایشیا کے گندے ترین شہر کا اعزاز ھاصل کریں۔
* جہاں پانی کی قلت کی وجہ سے وسیع و عریض قطعات زمین بے آباد اور بنجر ہوں۔ زرعی پیداوار اپنی انتہائی کم سطھ کو چھو رہی ہو اور کسان ریلی کے شرکا ء پر بد ترین لاٹھی چارج کیا جائے۔
* جہاں 56000 سے زائد این جی اوز اور ملٹی نینشل کمپنیاں ملک کی اسلامی اساس کو کھوکھلا کر رہی ہوں۔
* جہاںیہودیوں کے پروٹوکال کی تکمیل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو میراتھن ریس، بسنت، ویلنٹائن ڈے، مدر ڈے، فیشن شو، کلچرل شو ، مردوں اور عورتوں کے کھیلوں کے مقابلے اوردیگر فکشنز کے ذریعہ فحاشی، عریانی اور قیمتی اوقات کے ضیاع کا رسیا بنا کر ان کو شاندار ماضی، اعلیٰ مذہبی اقدار اورملی شعور سے دور لے جانے کی بھرپور کوشش کی گئی جاتی رہی ہو۔
* جہاں1995 سے 2017 تک تین ہزار سے زائد افراد خونی بسنت کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں۔
* جہاں بار بار نصابی کتب میں تبدیلیوں کے ذریعہ اسلامی ، ملی مشاہیر کی جگہ معاشرہ کے عام لوگوں کو نصاب میں ڈالا گیا ہو۔کالجوں میں گانے بجانے اور ڈراموں پر مشتمل پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اور اساتذہ کو نئی نسل کو بگاڑنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہو اس کی واضح مثال علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نویں جماعت کے انگلش پیپر میں پوچھے گئے سوال: تمہاری بہن کیسی ہے؟( رنگ، قد، حلیہ، صحت، کے بار ے لکھیں)۔ اس سے پتہ چلتا ہے نواز حکومت لبرل پاکستان کے ایجنڈا پر کام کر رہی ہے اوراسلامی اور معاشرتی اقدار کی تباہی پر تُلی ہوئی ہے۔
* جس مملکتِ خداداد پاکستان میں جہاد جیسے عظیم عمل سے اہل پاکستان کو متنفر کرنے کے لئے میڈیا اور گو رنمنٹ کے کارندے اپنی بھرپور کوشش میں مصروف ہوں۔
* جہاں ذاتی مفاد کی خاطر آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائیں جاتی ہوں۔اور پارلیمان کو موم کی ناک سمجھتے ہوئے اپنی مرضی کی آئینی ترامیم منظور کرا لی جائیں۔
* جہاں ریاست کے خزانہ سے تنخواہ لینے والے سرکاری اداروں کے سربراہان قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے کی بجائے حکمرانوں کی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہوں۔اور خلافِ قاعدہ و قانون احکامات مانے جا رہے ہوں!!
* پاکستان کے اندر دہشتگردانہ وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ( کلبھوشن یادیو کی گرفتاری) کے باوجود بھارت سے تعلقات میں گرمجوشی کی زبردست کوشش اور خواہش موجود ہو۔
* آئے دن ورکنگ باوئنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں شہیدوں کے اٹھائے جانے والے لاشے اور مالی نقصانات کے باوجود بھارت کے خلاف ایک بھی بیان نہ دیا جاتا ہو۔
* ملک سے منی لانڈرنگ کرنے والی ( ایان علی) اور اربوں کی کرپشن کرنے والے ڈاکٹر عاصم جیسے افراد کو آسانی سے ملک سے باہر جا نے دیا اور کرپشن کے میگا کارناموں پر کوئی کاروائی مکمل نہ ہونے دی جائے۔
* 41وزیر اور درجنوں مشیروں اوربیسیوں پارلیمانی سیکریٹریوں کی فوج ظفر موج پر ماہانہ اخراجات کروڑوں میں ہوں مگر وہ اپنی ڈیوٹی پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی مخالفین کی کردار کشُی میں ہمہ وقت مصروف ہوں۔
* 13 اکتوبر 2017 احتساب عدالت اسلام آباد میں سرکاری وکیل (نیب پراسیکیوٹر ) کو دھکے مار کر اپنی ڈیوٹی سے کس نے اور کیوں روکا؟ احتساب عدالت کے جج کو کیا خطرہ محسوس ہو کہ وہ کمر�ۂ عدالت چھوڑ کر چلے گئے؟؟ ڈیوٹی پر موجود پولیس انسپکٹر کوپنجاب حکومت کے سابقہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کیوں اور کس کے کہنے پر ٹھپڑ رسید کیا؟؟ اس تھپڑ کے ذریعہ عدلیہ اور عوام کو کیا پیغام دیا گیاَ؟ پوری دنیا میں ہمارے ملک کے بارے تاثر پیدا ہوا؟
سوچیں اور جواب دیں
کیا ہم نے اوپر والے تمام مسائل حل کر لئے ہیں؟ جی نہیں! تو پھر بھوک، افلاس اور قرضوں تلے دبی اور مسائل کی ماری ہوئی قوم کو ایک دن میں7سے 8 ارب روپئے ضائع کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ بسنت، وئلتائن ڈے، میراتھن ریس، فیشن شو، مختلف قسم کے مقابلے، اور آئے دن اسی طرح کے فنکشنز منا کر ہم اگلی نسلوں کے لئے بھوک، افلاس، بے حسی، بے بسی، فحا شی، عریانی، بے دینی، مستقبل سے تجاہلِ عارفانہ کی سوچ کے علاوہ اور کس چیز کی بنیاد رکھ رہے ہیں؟
یہ ہے لمحہ فکریہ !!
ہماری مشرقی اورشمالی سرحد پر ہندو جیسا کمینہ دشمن ہو، وہ دشمن جو ہمارے وجود کو بھی گوارا نہ کرے، وہ دشمن جو ہمیں بھوکا، پیاسا اور پھر پاکستان کی طر ف بہنے والے دریاؤں پر بنے ڈیموں کے منہ کھول کر سیلابی ریلے کے ذریعے ہمیں بحیرہ عرب میں ڈبونا چاہتا ہو ( مقبوضہ کشمیر میں دریاؤں پر تیزی سے بننے والے ڈیم اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں) ۔مگر افسوس ہم بلا سوچے سمجھے اس کی تہذیب میں دھنسے چلے جا رہے ہیں، اس سے تجارت بڑھا رہے ہیں۔ حکمران اب تو اس لائن کو ختم کرنے کے لئے ذہن سازی کر رہے ہیں جس کو نقشہ پر کھینچنے کی خاطر ہر قسم کی دی گئی قربانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے!!
ہماری زخمی شہ رگ یعنی لہو رنگ وادی جموں و کشمیر میں درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اب تک سوا لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہو چکے ہیں، شائد ہی کوئی مسلم گھرانہ بچا ہو جہاں سے شہید کا جنازہ نہ اٹھا ہو یا بوڑھے والدین کو ٹارچر سیل میں نہ رکھا گیا ہو، یا مسلمان عورت کی اجتماعی آبروریزی نہ کی گئی ہو، یا معیشت کے سامان جلا کر راکھ اور تباہ و برباد نہ کیے کئے ہوں یا الیکشن کے دنوں میں کرفیو ، گرفتاریوں اور نظر بندیوں کا سہارا لے کر من پسند امیدواروں کو جتا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی گئی ہو۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مظلوم کشمیری قوم عظیم جانی اور مالی قربانیاں صرف اس لئے دے رہی ہے کہ پاکستانیوں کی موجودہ اور آئندہ نسلیں محفوظ رہ سکیں۔
ہمیں یہ بات ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر ہر روز ہونے والی بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں بے گناہ شہریوں کی شہادتوں اور مالی نقصان کرکے بھارت ہمیں کیا سبق دینا چاہتا ہے؟ اس کا کیا تدارک ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar

Read More Articles by Sarwar: 66 Articles with 39258 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2017 Views: 312

Comments

آپ کی رائے