دھرنے کے بعد پاکستانی روپے کی قدر

(Ghulam Ullah Kiyani, )
فیض آباد دھرنے سے ملکی پیداوار میں اضافے کے بجائے اس میں کمی ہوئی ہے۔یہ دھرنے ملکی اقتصادی حالت کو مزید ابتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔خاص طور پر ان کا نشانہ سی پیک بھی بن رہا ہے۔چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی یو آن یا آر ایم بی میں تجارت کی خواہش کا اظہار اسی وجہ سے کیا ہے۔ سی پیک اور گوادر کے حوالے سے چین ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔1994میں یوآن کی قدر کم ہو کر9یو آن فی ڈالر ہوئی تو پھر اس ڈالر کے خلاف ہنگامی اقدامات کئے گئے۔ اب گزشتہ 9سال سے ڈالر کو7سے کم رکھا گیا ہے۔جب کہ گزشتہ دس سال میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھی ہے۔ یہ67روپے سے105پر پہنچ چکا ہے۔کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافے کا اثر کمزور معیشت پر زیادہ ہوتا ہے۔ جب کہ جاپان جیسی مضبوط معیشت اس کا اثر قبول نہیں کرتی۔امریکی ڈالر111ین کا ہے۔مگر انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج چین اور جاپان دنیا کو پہلی اور دوسری مملکتیں ہیں جن کے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے سے زیادہ ہیں۔ امریکہ 22ویں نمبر پر ہے۔پاکستان کا رینک 68ہے۔ہماری غیر ملکی کرنسی کی کمائی میں کمی آ رہی ہے۔ہماراغیر ملکی قرضہ ہماری آمدن کی رفتار سے بہت زیادہ ہے۔ڈالر کی قدر میں اضافہ پہلے سے ہو رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جبٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں برابر ہو گئیں۔اس کی بھی کئی وجوہات تھیں۔سب سے بڑی وجہ ہماری پیداوار میں جمود ہے۔آج 2017میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈالر کی زر مبادلہ اور در آمدات برآمدات کے لئے طلب ہے۔ ہماری ترسیلات زر میں اضافہ بھی اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی کہ ہوم ریمیٹنس اضافہ چاہتی ہیں۔ اس میں تیز رفتاراضافہ کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک کا اعتراف ہے کہ ملکی زر مبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں تو ہمارے روپے کی قدر میں کمی کیوں آ رہی ہے۔ ڈالر کی طلب بہت زیادہ اس لئے ہے کہ ملکی بر آمدات اور در آمدات کا انحصارڈالر پر ہی ہے۔ ہم باہر سے اتنا مال منگواتے ہیں کہ ڈالر میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جب 5جون 2013کو تیسری بار حکومت سنبھالی ، اس وقت زرمبادلہ کے زخائر 11ارب ڈالر تھے۔ آج یہ13.5ارب ڈالر ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ چین کے پاس ہے۔ 30کھرب ڈالر۔ امریکہ سوا کھرب ڈالر کا زرمبادلہ رکھتا ہے۔ہماری نظریں پاک چائینا اقتصادی راہداری منصوبے پر ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو اوپر لے جا سکتا ہے۔ اہم ریاست ہے۔ سب ادارے اس کے جزو ہیں۔ ہمارے لئے زیادہ اہمیت خود انحصاری کی ہو گی۔یہی ہمیں معاشی پاور بنا سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری اس میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھارت نے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے ایک سال میں اپنے ذخائر میں بھاری اضافہ کیا ہے۔

زرمبادلے کے زخائر میں اضافہ یا کمی کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ اگر بارٹر سسٹم کے تحت مال کے بدلے مال کی تجارت ہو تو پاکستان کے لئے یہ بہتر تھا۔ ہم باہر سے تیل منگواتے، یا دفاعی ٹیکنالوجی یا آئی ٹی کا ساز و سامان ۔ اس کے بدلے یہاں سے اپنی مصنوعات بر آمد کر سکتے تھے۔ لیکن ہم اب اس زرعی پیداوار سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ پہلے سیلاب بتائی جاتی رہی۔ دوسری وجہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے یہاں سے مال ا فغانستان جاتا ہے۔ اس لئے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم دن بدن آرام طلب بن رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طلب بڑھ رہی ہے اور رسد میں کمی ہو رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے ہمیں سب کچھ مل جائے گا۔ یا دھرنے، ہڑتالیں، کشیدگی کچھ کام آئے گی، ایسا ناممکن ہے۔یہ درست ہے کہ اﷲ تعالیٰ پتھر میں کیڑے مکوڑے تک کو رزق دیتے ہیں۔ وہ رزاق ہیں۔ لیکن اﷲ تعالیٰ ہی نے تلاش معاش اور رزق حلال کے لئے محنت کرنے حکم دیا ہے۔

ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ ملکی پیداوار میں کمی ہے۔ یہ سچائی مسلسل بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ ملکی پیداوار بڑھانے کے لئے حکومت ہی زمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہر فرد کو کام کرنا ہے۔ گھر کے ہر فرد کو مصروف ہونا ہے۔ ہماری تعلیم کا نظام بھی عجیب ہے۔لوگ ماسٹرز، پی ایچ ڈی تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن کام نہیں کرتے۔ ہم پڑھتے ہی ملازمت کے لئے ہیں۔ ڈاکٹر ، انجینئر بننے کے لئے ڈونیشن دیتے ہیں۔ ڈگریاں خرید کر ڈاکٹر بنیں گے تو انجام یہی ہو گا۔ لوگ چل کر ہسپتال جاتے ہیں۔ اور ان کی لاشیں اٹھا کر لائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بھی دو نمبر اور ادویات بھی دو نمبر۔اگر ٹماٹر پیاز کی ملک میں پیداوار نہ ہو تو ہم اسے باہر سے منگواتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ مہنگی اشیاء استعمال کی جائیں۔ جو بھی چیز مہنگی ہے۔ ضروری نہیں اسے کھائے بغیر چین نہیں آئے گا۔ مہنگی چیز کو بھول جائیں ۔ قیمت خود بخود کم ہو جائے گی۔ لیکن یہ کوئی منطق نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے گھروں میں کچن گارڈن کی روایت ترک کر چکے ہیں۔ ہمارے لوگ گاؤں میں کئی کئی کنال زمین کے مالک ہیں۔ لیکن کام نہیں کرتے۔ فصل نہیں اگاتے۔ پودے نہیں لگاتے۔ ہم پھل دار پودوں کے بجائے صدا بہار پودوں کو ہی پسند کرتے ہیں۔ صدا بہار پودے گرمیوں میں ٹھنڈک دیتے ہیں۔ پھل دار پودے بھی سائیہ دیتے ہیں۔ یہ بھی کسی سے کم نہیں۔لیکن چونکہ پھل دار پودے پھل بھی دیتے ہیں، اس لئے ہم ان کی اہمیت سے انکار کر دیتے ہیں۔آج ایک بار پھر شجر کاری کا موسم آ چکا ہے۔ ہم پودے لگا سکتے ہیں۔ لوگ دیہات سے بلا وجہ شہروں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ سہولیات کی کمی ایک بہانہ ہے۔ دیہات میں صاف ستھرا ماھول چھوڑ کر شہر کی بھاگم دوڑ، دھواں، آلودگی۔ ہر قسم کا پولوشن۔ شہر میں سبزیاں، فصل، پھل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ڈیری یعنی دودھ کی مصنوعات کی طرف توجہ دے سکتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں پال سکتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب یہ نہیں کہ آپ کا مقصدصرف نوکری ہو۔آپ گاؤں میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ صرف لگن کی ضرورت ہے۔ کام کی ضرورت ہے۔ آپ سردیوں اور گر میوں میں فصلیں پیدا کر سکتے ہیں۔ تازہ دودھ، سبزیاں کھا سکتے ہیں۔ اپنے تازہ میوے خود بھی کھا سکتے ہیں اور انہیں فروخت کر کے اپنی آمدن میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہر ایک فرد جس کے پاس چند مرلے زمین ہے،یا وہ ملازم پیشہ ہے، وہ ملکی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔ وہ بوجھ بننے کے بجائے قومی بوجھ کم کر سکتا ہے۔ آگاہی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ملکی پیداوار میں اضافے کے لئے اپنا حصہ، جس قدر بھی ہو ، ڈالنے کا عزم کر لیا تو ٹماٹر، انڈے، دودھ، سبزیاں، پھل، آٹا ہی کیا ڈالر سمیت ہر چیز کی قیمت کم ہو گی۔ کیوں کہ پیداوار میں اضافہ آمدن کو بڑھا سکتا ہے۔ آپ تازہ اشیاء استعمال کریں گے تو نقلی ڈاکٹروں اور نقلی ادویات کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ یہی مہنگے ڈالر کا علاجہے۔پھر ہمیں امریکی امیگریشن قوانین کی پاکستان پر کسی سختی سے پریشان ہونے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221268 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Nov, 2017 Views: 415

Comments

آپ کی رائے