اف، یہ غیرت

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ہمارے معاشرے میں غیرت کس کو سمجھا اور جانا جاتا ہے میں کبھی جان نہیں پایا۔ لوگوں کاپتہ ہی نہیں چلتا کس چیز اور کس بات کو غیرت کہہ دیں چاہے اس کا غیرت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔اور جہاں واقعی غیرت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں لمبی تان لیں۔یہ اندھی غیرت حرکت میں آئے تو بس چھوٹی چھوٹی باتیں جن کا غیرت سے بظاہر تعلق نہیں ہوتا ،وہ بھی اسے ناگوارگزرتی ہیں اور ان چھوٹی باتوں پریہ جاگ جاتی ہے اور ایسی جاگتی ہے کہ سونا بھول جاتی ہے ، رکتی ہی نہیں ۔اس وقت غیرت کے نام پر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ذاتی مفاد ہو توکیا غیرت اور کونسی غیرت ، کوئی شرم کوئی حیا محسوس نہیں ہوتی۔بات مفادکی ہے، مفاد ہو تو ہر بات میں نہ ہوتے ہوئے بھی غیرت اچھل اچھل کر سامنے آ جاتی ہے یا پھرغیرت کی ضرورت کے باوجود آدمی بے حس ہو جاتا ہے۔ ہر شخص کا غیرت کا اپنا ہی معیار ہے۔

وہ ایک بچی ہے جس کی عمر بمشکل چودہ سال ہے۔وہ بچی ایک ماں بھی ہے جس کی ایک بچی ہے جو فقط دو سال کی ہے۔ ما ں اور بیٹی دونوں پریشان ہیں۔بڑی بچی کی ساس اور سسر اور چھوٹی بچی کے دادا دادی نے ان دونوں کو گھر سے نکال دیا ہے۔ایک اٹھارہ سالہ نوجوان جو ایک بچی کا میاں اور دوسری کا باپ ہے ، انہیں گھر لے کر جانا چاہتا ہے مگر بڑا بے بس ہے۔مسئلہ غیرت کا ہے اور غیرت کا جوش اس کے ماں اور باپ میں اس قدر رواں دواں ہے کہ اس کا سامنا وہ نوجوان کر ہی نہیں سکتا۔ویسے بھی ماں اور باپ ضرورت سے زیادہ جوشیلے ہوں تو احترام کرنے والی اولاد خود کو بے بس پاتی ہے۔مصالحتی عدالت بھی کئی دنوں سے دونوں کو سمجھا رہی ہے، نوجوان سمجھتا تو ہے مگر کیا کرے ، جس گھر میں اسے اپنی بیوی اور بچی کو لے کر جانا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کا ہے۔ ماں اور باپ کے سامنے کچھ کہنا اس کی ہمت سے باہر ہے۔مالی حالت ایسی نہیں کہ بیوی اور بیٹی کو علیحدہ گھر لے کر رکھ سکے۔تین سال پہلے اس کی شادی بھی زبردستی اس کے نا چاہنے کے باوجود اس کے ماں اور باپ نے زبردستی کر دی تھی۔

نوجوان کی بڑی بہن ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی۔ فیکٹری میں کام کے دوران اس کے فیکٹری کے ایک سینئر ورکر کے ساتھ کچھ راہ ورسم استوار ہو گئے۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔اس ورکر نے لڑکی کے کہنے پر اس کے ماں اور باپ سے بات کی۔وہ ورکر پہلے سے شادی شدہ تھا اور پانچ چھہ بچے بھی تھے جن میں دو بیٹے جوان تھے۔وہ دوسرے خاندان کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں تھا۔ پہلی بیوی سے اجازت کا ان کے علاقے میں رواج ہی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پہلی بیوی کو اس مسئلے پر چاہے کچھ ہو جائے بولنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔مرد کی ان تمام خامیوں کے باوجود ڈھلتی عمر کی لڑکی کے گھر والوں کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔مگرچونکہ وہ دیہات کے رہنے والے ہیں اور ان کے علاقے میں وٹے سٹے کی شادیوں کا رواج ہے اسلئے ان کے خاندان کے رواج کے مطابق ان کی بیٹی جس خاندان میں جائے گی اس خاندان کی ایک بچی ان کے بیٹے سے بیاہی جائے گی اور اس لازمی روایت کے سوا اس نوجوان کی بہن کی اس ورکر کے ساتھ شادی میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔

نوجوان کے نئے ہونے والے بہنوئی کی ایک دس گیا رہ سالہ نابالغ بیٹی کو اس رسم کی قربان گاہ پر قربان کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ایک معمر آدمی ،جس کی ایک بیوی اور پانچ چھہ بچے بھی ہیں، کی اس طرح کی دوسری شادی پر کسی کی غیرت نہیں جاگی۔ایک بیوی ،جو پانچ چھہ بچوں کی ماں ہے ، کی حق تلفی پر کسی کی غیرت کو جوش نہیں آیا۔ایک دس گیارہ نابالغ بچی کی نا سمجھی میں زبردستی کی شادی پر کسی غیرت نے آنکھ نہیں جھپکی۔ نا چاہنے کے باوجود ایک پندرہ سالہ نوجوان شادی کرنے پر مجبور ہو گیا کہ خاندان کی روایت کے ہوتے غیرت اور حمیت کی کیا وقعت ہے۔ سب کچھ ہوا اور ہوتا رہا مگر سب کی غیرتیں اور حمیتیں مفادات کے جھولتے پالنے پر بے خبر سوتی رہیں۔

بیک وقت دو شادیاں ہو گئیں۔ایک طرف دو بچے تھے ، جن کا وقت بہت ہنس کھیل کر گزر رہا تھا۔ دنیا کی مشکلوں سے بے نیاز۔ گو ان کی شادی تو ان کے انجانے پن میں ہوئی تھی مگر اب ان کے درمیان پیار بڑھ رہا تھا۔سال ڈیڑھ سال بعد بچی کی پیدائش نے ان کا رشتہ اور مضبوط کر دیا تھا۔دوسری طرف ایک معمر شخص اور ایک ڈھلتی عمر والی خاتون تھی جو معمر شخص کے مقابلے میں یقیناً جوان تھی مگر بیوی بن کر ایک ایسے گھر میں آئی تھی جہاں پہلے ایک بیوی اور جوان اولاد موجود تھی۔ اس کا استقبال بھی بہت روکھے پھیکے انداز میں ہوا جس کا اسے احساس تھاجو ہر دن شدید سے شدید تر ہو رہا تھا۔گو پہلی بیوی کچھ بے ضرر سی اور بہت سادہ تھی مگر نئی آنے والی کاکسی نہ کسی بات پر کوئی نہ کوئی جھگڑا ،کبھی اپنی سوکن اور اور کبھی اس کے بچوں کے ساتھ ہو جاتا۔ نئی بیوی ناراض ہو کر میکے چلی جاتی۔دو چار دن میں شوہر منا کر لے آتا۔ یہ سلسلہ دو سال سے زیادہ چلتا رہا۔ اب نئی بیوی کہتی ہے کہ مجھے رکھنا ہے توپرانی کو چھوڑ دو۔ اسے طلاق دے دو۔ مگر شوہر کیسے دے۔ بچے جوان ہیں، باپ کی کسی بھی غلط حرکت پر اسے پوری طرح گھورتے ہیں۔پہلے ہی بڑی مشکل سے انہوں نے نئی بیوی کو برداشت کیا تھا۔مکان پرانی بیوی کے نام ہے۔وہ گھر چھوڑ کر کہاں جائے یہ بھی سمجھ نہیں آتا۔

نئی بیوی لڑ کر اس وقت ماں باپ کے گھر مقیم ہے۔وٹے سٹے کی شادی ہو اور رد عمل نہ ہو۔نئی بیوی کے ماں باپ نے بغیر سوچے سمجھے جواباً اپنی بہو کو اس کے میکے بھیج دیا۔ اس کا میاں اپنی بیوی کوچھوڑنا نہیں چاہتا۔مگر ماں باپ کے سامنے بے بس اور مجبور ہے۔ ماں باپ ضرورت سے زیادہ اجڈ ہیں ۔ انہوں نے بہو کو طلاق اور داماد کو خلع کے نوٹس بھجوا دئیے ہیں ۔ مصالحتی عدالت معاملے کو پوری طرح سمجھ رہی ہے اور اس کا کوئی حل نکالنا چاہتی ہے مگر ابھی تک ناکام ہے۔ اس لئے کہ ماں باپ اسے غیرت کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں، میں اس سارے مسئلے میں وہ غیرت اور اس کا سدباب تلاش کر رہا ہوں،تاکہ وہ چھوٹے چھوٹے معصوم سے میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی آرام اور سکون سے زندگی گزار سکیں اور انہیں دوسرے میاں بیوی سے کوئی سروکار نہ ہو۔ ابھی تک مسئلہ غیرت کی قید سے رہائی نہیں پا سکا۔مگر سچ یہ ہے کہ اس نام نہاد غیرت کا سبب اور اس خرابی کی ذمہ دار وٹے سٹے کی شادی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219838 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
04 Dec, 2017 Views: 454

Comments

آپ کی رائے