خیبرپختونخواہ... ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کہ آیا تبدیلی کا نعر ہ لگا کر لوگوں کو "ٹھمکوں پر لگانے والے لیڈر کی زبان نہیں کیونکہ 2016تک اگر یہ جنگلہ بس تھی تو پھر 2017 میں یہ میٹرو بس کیسے ہوگئی ، بہترین منصوبہ کیسے ہوگیا.. اور اگر بی آر ٹی کی فزیبلٹی رپورٹ 2013 میں بنی تھی تو پھر لیڈر اور ان کے آگے پیچھے چلنے والے "خوشامدی لیڈر" عوامی پیسوں کے اس ضیاع میں افسران کیساتھ برابر کے ملوث ہیں.. جو ہر جگہ کرپشن خاتمے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے.

اسے اختیارات کا ناجائز و غلط استعمال کہئیے غلط منصوبہ بندی یا عقل سے عاری افسران یا پھر تبدیلی کا نعرہ .. کہ سال 2013سے لیکر اکتوبر 2017تک پشاور کے جی ٹی روڈ پر کروڑوں روپے گرین بیلٹ کی تیاری اور ری نیویشن کے نام لگائے گئے -مختلف علاقوں سے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف میں گرین بیلٹ کیلئے درخت ، پودے اور چمن تک خریدے گئے. جن میں چالیس اور بعض جگہوں پر ساٹھ ہزار روپے کے ایک ایک درخت جو کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے لائے گئے کھجور کے درخت کی یہ تعداد سینکڑوں میں تھی جسے مختلف جگہوں پر لگایا گیا.تاکہ "پھولوں کے شہر "کو صحیح معنوں میں پھولوں کا شہر بنایا جاسکے.. لیکن....

چمکنی پشاور کے علاقے سے حیات آباد تک نئی بننے والی میٹرو بس جس کا آغاز حال ہی میں کردیا گیا تھا جب یہ منصوبہ پنجاب حکومت لاہور اور ملتان میں بنا رہی تھی اس وقت ہمارے ایک سابق کرکٹرجو تبدیلی کے نعرے پر آئے ہیں سال 2016تک اپنی ہرپریس کانفرنس میں اسے جنگلہ بس قرار دے رہے تھے اور یہی کہتے تھے کہ یہ پیسے کا ضیاع ہے اور اس سے بہتر ہے کہ یہ پیسے عوام پر لگائے جائیں اور قومیں میٹرو سے نہیں بنتی اور اربوں روپے کے قرضوں ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے .. اور یہ سلسلہ گذشتہ چار سالوں سے جاری تھا .اور صوبے کے عوام بہت خوش تھے کہ چلو ہم قرضوں سے بچ گئے ... لیکن..
پھر اسی جنگلہ بس کو خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں شروع کرنے کا اعلان کیا گیا اور جو صاحب "اسے جنگلہ بس"قرار دیتے تھے اسے بہترین منصوبہ قرار دیتے ہوئے چمکنی میں اس کا افتتاح بھی کردیا..اور مخصوص لوگوں نے ٹھمکے بھی لگادئیے کہ چلو ہمارا کمیشن بھی بن گیا .. کچھ نہ کچھ حرام کا مال ہمارے پلے بھی پڑے گا.اور...

بی آر ٹی منصوبے کے خلاف ایک مذہبی جماعت کے رہنماء نے پشاور کے ہائیکورٹ رٹ دائر کردی کہ اس کی اجازت نہیں لی گئی اور ماحولیاتی آلودگی اس سے بڑھے گی اورقرضے بھی بڑھیں گے اسی کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل جنہیں تبدیلی والی سرکار ہی لیکر آئی ہے عدالت میں پیش ہوئے اور یہ بیان دیا کہ اس منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ 2013میں بنی تھی ..یہ کیس پشاور ہائیکورٹ نے نمٹا دیا ہے لیکن ایڈووکیٹ جنرل کی عدالت میں اس بیان نے ہمیں حیران کیساتھ پریشان بھی کردیا ...کہ.

اگر اکتوبر 2017 میں اس منصوبے کی آڑ لیکر جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کی گرین بیلٹ کو روند ڈالنا تھا سٹریٹ لائٹس بھی ختم کرنی تھی اور ساٹھ ہزار روپے پر لائے جانیوالے سینکڑوں کھجور کے درخت بھی ختم کرنے ہی تھے تو پھر سال 2013 سے لیکر اب تک یعنی 2017 تک غریب عوام کے کروڑوں روپے جو کہ ٹیکس کی مد میں ان سے وصول کئے جاتے ہیں .. انہیں ہوا میں اڑانے کی ضرورت کیا تھی.. کیا جن افسران نے اس منصوبے کی رپورٹ بنائی تھی وہ اس سے ناخبر یعنی کاکا منے تھے . جو کروڑوں روپے ضائع کردئیے یا پھر انہیں ہر چیز کا پتہ تھا اور انہوں نے کمیشن کھا کر اپنے لئے"دوزخ"کی آگ کو تیز کردیا.. لیکن پھر بھی سوال یہ ہے..

کہ آیا تبدیلی کا نعر ہ لگا کر لوگوں کو "ٹھمکوں پر لگانے والے لیڈر کی زبان نہیں کیونکہ 2016تک اگر یہ جنگلہ بس تھی تو پھر 2017 میں یہ میٹرو بس کیسے ہوگئی ، بہترین منصوبہ کیسے ہوگیا.. اور اگر بی آر ٹی کی فزیبلٹی رپورٹ 2013 میں بنی تھی تو پھر لیڈر اور ان کے آگے پیچھے چلنے والے "خوشامدی لیڈر" عوامی پیسوں کے اس ضیاع میں افسران کیساتھ برابر کے ملوث ہیں.. جو ہر جگہ کرپشن خاتمے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے..

تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کیساتھ سابق حکومتوں کی طرح پھر ہاتھ ہوگیا.. یعنی جس کے ہاتھ جو لگتا ہے اتنا ہی وہ کرپشن کرتا ہے . ویسے مزے کی ایک بات جو کہ ہمارے معاشرے میں زد عام ہے کہ چور جتنا بڑا ہوتا ہے اتنا ہی وہ چور چور اور کرپشن کا نعرہ لگاتا ہے اور ہمارے ٹھمکوں کی شوقین عوام ٹھمکے لگا کر انہیں کرپشن کرنے دیتی ہے اور پھر آخر میں روتے روتے کہتی ہے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا...

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 328 Articles with 175902 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
08 Dec, 2017 Views: 556

Comments

آپ کی رائے