بڑھتی ہوئی نان سٹاپ مہنگائی اور معاشرتی اخلاقی گراؤٹ

(Syed Maqsood Hashmi, )

 بے روز گاری دنیاکے تمام ممالک کے لیے ایک مسئلہ اور چیلنج بناہوا ہے خصوصّاترقی پزیر ممالک کے لئے یہ بہت ہی پرشیانی کا باعث ہے۔ ہمار ا پیاراملک پاکستان بھی اس مئسلے سے دوچار ہے خصو صا
تعلیم یافتہ نوجوان اپنی تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو روز گار کے حصول کے لئے انکوبہت پرشیانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے اسکے باوجوداپنے مقصد میں ناکامی ہو تی ہے۔ ہر ملک کے بے روزگاری کے مختلف
اسباب ہوتے ہے مگر ہمارے ملک میں دوسرے اسباب کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ بالائی سفارش ہے بالائی سفارش نے ہمارے معاشرے میں کچھ اس طرح اپنے قدم جمالئے ہیں کے ہر شخص کو اسکا سہارا
لیناپڑتاہے گویا جیسے کہ یہ ہمارے کے ملکی نظام کا لازمی جز ہو۔رشوت اور سفارش معاشرے کی تمام برائیوں کا مرکز ہے اور پاکستان کے ہر محکمہ میں یہ عام بات ہے مثلا ایک تعلیم یافتہ نوجوان رشوت دیکرملازمت کے حصول کے لئیے کامیاب ہو جاتاہے۔تو یقینااپنے شعبے میں یامحکمے میں بدعنوانی کرکے نہ صرف اپنی بھرتی کے دوران د ی گئی رشوت کی رقم پوری کریگابلکہ اس بنیاد پر ہمیشہ رشوت وصول کرنے کا اصول اپنے پیش نظر رکھے گا۔اس طرح ایک نوجوان اپنے نامسائید حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرلیتا ہے اور تعلیم حاصل کرلینے کے بعد مناسب سفارش اور رشوت کی رقم نہ ہونیکی وجہ سے اسے ملازمت نہیں ملتی تو یقینا وہ دل برداشتہ ہو کر غلط راہوں پر چل پڑے گا۔بے روزگاری کی وجہ سے نہ صرف ملک میں بدعنوانیاں پیداہورہی ہیں بلکہ اگر نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو نوجوان میں منشیات کے استمال میں اضافے کی وجہ بے روزگاری ہے کیونکہ روزگار کے حصول کے لیے تگ دور کرنے کے بعد جب نوجوان ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی مایوسیوں کو فراموش کرنے کے لیے سگریٹ نوشی پھرآہستہ آہستہ دوسری نشہ آور اشیاء کواپنے زہنی سکون کازریعہ بنالیتے ہیں اور پھر یہ خطرناک مرض انکی زندگی کا حصہ بن جاتاہے۔

اگر حالات کا غور سے مطالعہ کیاجائے تو معاشرے کی بیشتر برائیاں بے روز گاری کی پیدا کردہ ہیں مثلا چوری ، غنڈاگردی، قتل و غارت دوسروں کا حق چھنینا سٹرییٹ کرائم سب مایوس زہن کی پیدا وار ہیں اور
بے روزگاری ہی سب سے بڑی مایوسی کی علامت ہے۔ علوم سیاسیات کے تمام ماہرین اسی بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک یا خطہ میں بے روز گاری کا خاتمہ کئیے بغیر وہاں صیح سیاسی نظام ی تشکیل اور مظبوط جمہوری نظام کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک بھوکا شخص اپنی سیاسی سوچ کو صیح سمت پر پروان نییں چڑھا سکتا بلکہ سے سے پہلے اپنے پیٹ کی فکر لاگو ہو گی وہ اپنی بھوک کے مقابلے میں ملکی مفادات کو تر جیع نہیں دے سکتا۔ اس لیے جس ملک میں غربت بھوک اور بے روزگاری ہو اقربا ء پروری ہو وہاں سرما یاداروں کا جاگیرداروں کا ایک خاص طبقہ برسر اقتدار آکر ملک اور قوم کی دولت کو اپنی مرضی اور بے باقی سے سمیٹھتا ہے بلکہ لوٹتاہے اور اپنی دولت بنک بیلنس اثاثوں میں خوب اضافہ کرتا ہے۔کیونکہ ایک غریب آدمی کاجھکاؤ یقینا سی طرف ہوگاجہاں اسے مالی فائدہ ہوخواہ وہ طریقہ جائز ہو یامکمل ناجائز آج ہمارے ملک کا ہردوسرا فرد نوجوان بے روزگاری مہنگائی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے اسی وجہ سے ملک دشمن عناصر ان معماروں کو انکی مجوری کے پیش نظراپنے مزموم اور خطرناک مقاصد کے انکو استعمال کرنے کی خاطر بھڑیے کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں اور لومڑی کی طرح چلاکی سے سبز باغ دکھاان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ہر خظہ اور ملک کی خواہش ہے کہ اسکے افراد تعلیم کے زیور سے آاستہ ہوں تاکہ وہ اہنے ملک کی ترقی اور بہترین سیاسی نظام کی تشکیل کے لیئے ایک بہتر رائے قائم کر سکیں مگر یہ خواہش صرف اس صورت میں پوری ہو گی جب تعلیم یافتہ اور مستحق طبقہ باعزت زندگی گزاررہا ہو گا۔اگر تعلیم یافتہ لوگوں کو انکی قابلیت کی بناپر صیح مقام نہ دیا گیاتو آنے والی نسلیں تعلیم کے نام سے نفرت کرینگی اور اسکانتیجہ ہر باشعور انسان سمجھتاہے ۔بہر حال اس ملک کے نظام کو صحیح طور پر چلانے کے لئیے ملک سے سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لئیے اور نوجوان نسل کو اعتماد میں لئیے بغیر بے روز گاری کہ دور کرنا ناگزیر ہے۔جسم اور روح کا رشتہ سفید پوش لوگوں کے لئے رکھنامحال ہو گیا بے روز گاری صرف اس صورت میں دور ہو سکتی ہے جب بالائی سفارش جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جائے آج ایک غریب انسان کو اپنے جسم اور روح کا رشتہ رکھنامحال ہو گیا جسکی وجہ سے جسم فروشی اور غیراخلاقی سر گرمیاں اپنے عروج پر ہیں قوت خرید میں کمی اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی گراں فروشی اور ہر روز بڑھتی ہوئی نان سٹاپ مہنگائی کی وجہ سے بھی معاشرتی اور غیراخلاقی برائیاں اپنی آخری حدود پار کرچکی ہیں اسکو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ ہمیں دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood Hashmi: 135 Articles with 49810 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Dec, 2017 Views: 700

Comments

آپ کی رائے