شاہ دور کے علمی کام

(Ubaid ur Rehman MUAVIA , Burewala)

امیر تیمور اپنی شجاعت اور بہادری کی وجہ سے مشہور ہے. جو جنگی فنون میں تو مہارت رکھتا ہی تھا، اس کے ساتھ ساتھ علم اور علماء سے اس کی محبت قابل ستائش ہے. جس شہر میں بھی جاتا علماء اور درسگاہوں کی تعظیم کرتا تھا. علم دوست بہادر سپہ سالار کے جانشین اور فرزند بھی ان سے کچھ مختلف نا تھا. شاہ رخ ان کا وہ واحد بیٹا تھا جس نے اپنی زندگی میں تخت شاہی سنبھالا. امیر تیمور کے بیٹے ان کی زندگی میں ہی چل بسے تھے.

شاہ رخ نے اپنی دور حکومت میں اپنی بہترین حکمت عملی اور علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ملک کو اسلام کی تہزیب و تمدن کا گہوارے بنانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی. ان کی علم دوستی کے باعث بہت ا علما ان کے دارالحکومت میں جمع تھے.

شاہ رخ کی فرمائش پر حافظ آبرو جو مؤرخ اور جغرافیہ دان تھے. جغرافیہ کی اہم کتاب تصنیف کی جو دو جلدوں پر مشتمل ہے. جس کی پہلی جلد کا ایک قلمی نسخہ برطانیہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے. آبرو نے ہی شاہ کے حکم پر تاریخ عالم کی بہترین کتب کو "مجموع حافظ" میں یکجا کیا. حافظ نے دنیا کی تاریخ بھی لکھی. جس کے دو نام تاریخ میں ملتے ہیں. "زبدۃ التواریخ" اور "مجمع التواریخ السلطانی".

یہ چار جلدوں پر مشتمل ان کی تصنیف تھی اور اس کی پہلی دو جلدیں امیریل اکیڈمی سینٹ پیٹزبرگ میں محفوظ میں محفوظ ہیں. اور چوتھی جلد کا لچھ حصہ بوڈلین میں محفوظ ہے.

اس دور کی ایک اور علمی شخصیات میں ایک نام "فصیحی خوافی" ہیں. یہ مؤرخ اور سیرت نگاری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں. انہوں نے تاریخ اور سیرت کی کتاب مجمل تصنیف کی. اس کتاب کا ایک نسخہ سینٹ پیٹرز برگ، السنہ شرفیہ میں محفوظ ہے. السنہ شرفیہ وزرت خارجہ کا ایک ادارہ ہے. یہ کتاب اپریل 1443 کو شاہ رخ کو پیش کی تھی. اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تاریخ کے ساتھ ساتھ ہر سال میں وفات پانے والے افراد کی فہرست بھی شامل ہے.

اس دور کی ایک نامور شخصیت عبدالرزاق سمر قندی بھی ہیں. یہ شاہ رخ کے قاضی عسکر اور امام تھےاور شاہ رخ کے شرعی مسائل حل کیا کرتے تھے. انہوں نے عربی گرامر کی صرف و نحو کی ایک کتاب تصنیف کی اور اسے شاہ رخ کے نام معنون کیا. ان کی مشہور تصنیف "مطلع السعدین" ہے جو تاریخ پر لکھی ایک مستند کتاب شمار کی جاتی ہے. دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مؤلف نے چشم دید واقعات درج کیے ہیں. عبدالرزاق سمرقندی نے اپنے جائے پیدائش ہرات اور اس کے اضلاع کی تاریخ پر بھی ایک کتاب تحریر کی.

اسی زمانہ میں ایک قابل قدر مصنف معین الدین اسفزاری تھے. ان کی مشہور تصنیف "روضۃ الجنت فی تاریخ مدینہ الہرات" لکھی. انہوں نے ملکی امور اور سفارت کے موضوع پر بھی ایک رسالہ تحریر کیا. ہرات کی تاریخ پر بھی کتاب کا نسخہ برطانیہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے.

مشہور عالم، شاعر اور مصنف مولانا جامی کے نام سے کون واقف نہیں ہے. انہوں نے شاہ رخ دور میں تین سال بسر کیے ہیں. اسی دور میں تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا. اور تاہم تصانیف منظر عام پر بعد میں آئیں. 49 کتب کے نام محفوظ ہیں. اور میر شیر نوائ نے اپ کی کتب کی تعداد 99 بتائی ہے.

غزلوں کے تین دیوان، سات مثنویوں کا مجموعہ مثنویات ہفت او رنگ کے علاوہ تفسیر ، اولیائے اکرام کی سیرت، تصوف اور صرف نہو کے ساتھ ساتھ کئ مضامین پر اپنے کمال فن کا مظاہرہ کیا.

شاہ رخ دور میں ہی کمال الدین حسن بن حوارزمی تھے جو مصنف اور مترجم مشہور تھے. مولانا رومی کی مثنوی کی شرح "جواہر الاسرار کے نام لکھی اس کتاب کا ایک حصہ قلمی صورت میں برطانوی عجائب خانہ میں محفوظ ہے. اور کتاب بھارت میں بھی شائع ہو چکی ہے.

شاہ رخ کے پسندیدہ صوفی شاعر سید نعمت اللہ کرمانی تھے ایک سو چار برس کی عمر میں انتقال ہوا. ان کے اشعار کی تعداد چودہ ہزار کے لگ بھگ ہے. انہوں نے ایک سو چار برس کی عمر پائی.

"اطعمہ " کہلانے والے شاعر (اطعمہ لفظ، طعام سے ہے جس کے معنی کھانا یا غذا ہے) ان کی شاوری کا خاص موضوع "غذا" تھا.

محمد شیریں ہیں. 31 کتب کےمصنف علی بن محمد بھی موجود تھے.شاہ رخ کے عہد میں "ابن عرب شاہ بھی تھے. جنہوں نے امیر تیمور کی سوانح حیات تصنیف کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل کی. لغات القاموس کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے ابو ظاہر محمد بن یعقوب الشیرازی فیروز آبادی بھی ہیں. انہوں نے شاہ رخ دور میں دو کتابیں تصنیف کی.یہ کتابیں شاہ رخ کے لڑکے مرزا ابراہیم سلطان کی خواہش پر تحریر کی. امیر تیمور کے حالات قلمبند کیے.انہوں نے مرزا إبراهيم کی فرمائش پر ان کے دادا امیر تیمور کے حالات کو نفیس انداز میں دوبارہ قلمبند کیا.

یہ مسلمان دنیا کا روشن کل تھا. اور اگر ہمیں اپنا کل روشن کرنا ہے تو آج ہی اس کے لیے کوشش کرنی ہو گی. اور روشن مستقبل کے لیے ہمیں آج آپنا رشتہ علم سے، کتاب سے جوڑنا ہو گا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ubaid ur Rehman MUAVIA

Read More Articles by Ubaid ur Rehman MUAVIA : 6 Articles with 3063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2017 Views: 296

Comments

آپ کی رائے