حسنہ قسط نمبر 65

(Zeena, Lahore)

“ آنٹی آپ فکر نہیں کریں میں اب اس گھر کو ٹوٹنے نہیں دوں گی۔“ حسنہ نے شازمہ کو تسلی دینے کے لئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ شازمہ نے مسکرا کر اسے دیکھا اسکی آنکھوں میں ڈھیروں اطمینان تھا جیسے اسکآ دل کسی نے پر سکون کر دیا ہو وہ اتنے سال جو اس نے بے سکونی میں گزار دئے اب جیسے بے سکونی کے بادل جھٹ رہے ہو۔
“ اب تم بھی جا کر آرام کرو بیٹا رات کافی بیت چکی ہے۔ حسنہ شب خیر کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جیسے ہی اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا وہ حیران رہ گئی کمرے میں ہر طرف گیندے اور گلاب کے خوبصورت گلدستے پڑے تھے اسے گیندے اور گلاب کے پھول پسند تھے یہ بات والی کو کیسے پتا چلی پہلے وہ حیران ہوئی پھر اسکے دماغ میں یہ سوال گونجا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی سب دیکھنے لگی
والی موم بتی سے سجاوٹ کرنے میں مصروف تھا اسے حسنہ کے کمرے میں آنے کا نہ کوئی احساس ہوا نہ اسے کوئی آہٹ محسوس ہوئی وہ سائیڈ ٹیبل پر کینڈل روشن کر کے جب پلٹا تب اسکی نظر حسنہ پر پڑی وہ محویت سے ساری سجاوٹ دیکھ رہی تھی جو والی نے خود کی ہوگی کیونکہ پہلے تو کمرے میں کچھ نہیں تھا جب وہ یہاں سے گئی تھی۔
“ آ آآ پ کب آئی ،،،، ائی مین آپ کو ابھی نہیں آنا چاہئے تھا۔“ حسنہ ہنسنے لگی
“چلیں اب اگر آ ہی گئی ہیں تو میری مدد کرے “ والی نے دو چار کینڈل حسنہ کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ وہ والی کو پہلی بار اس حلیے میں دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا یہ وہی انسان ہے جو بات بات پر اسے بے عزت کیا کرتا تھا وہ مسکراتے ہوئے کینڈل کو جہاں دل کیا لگانے لگی کچھ ہی لمحوں میں پورا کمرہ سنہری مائل روشنی میں جگمکانے لگا سنہری روشنی میں سنہرے ہی رنگ کے پھول کمرے کو ایسی رونق بخش رہے تھے جیسے نئی نویلی دلہن کو سونے سے سجایا جاتا ہے اور وہ سونے جیسا روپ دھار لیتی ہے۔
“مگر ایک بات تو بتائیں یہ سجاوٹ کس خوشی میں ؟ “ حسنہ نے آخری موم بتی کو جلاتے ہوئی کہا۔
“ میں آج اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہا ہوں اس خوشی میں تم یہاں آؤ میرے پاس آکر بیٹھو آج بہت سی باتیں شیئر کرنی ہیں میں نے۔“ والی نے حسنہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھا لیا۔
“ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں پر جب تک میں سب کچھ تمہیں بتا نہ دو تب تک ہم اپنی زندگی کی نئی شروعات نہیں کر سکتے۔“ والی نے دھیمے سے کہا۔ آخر ایسی کیا بات کرنی ہے والی نے حسنہ نے سوچا وہ پریشان ہو گئی تھی جہاں تک اسے معلوم ہے وہ والی کی ساری زندگی کے بارے میں جانتی ہے پھر یہ اپنی زندگی کے کونسے باب کی بات کر رہا ہے ؟ حسنہ پریشان ہو گئی تھی۔
“ کیا ہوا کہاں گم ہو ؟“ والی نے اسے گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر پوچھا
“ نن نہیں کہی نہیں میں ٹھیک ہوں “ حسنہ نے گڑبراتے ہوئے کہا (جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zeena

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 138351 views »
I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More
20 Dec, 2017 Views: 685

Comments

آپ کی رائے
bohoth khoob Zeena yai qisth behtareen rahi weldone ....... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 21 2017
Reply Reply
0 Like
thnx farah sis ,,, :)
By: Zeena, Lahore on Dec, 22 2017
0 Like